1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستہنگری

ہنگری میں وزیر اعظم اوربان کی شکست کے اثرات صدر ٹرمپ پر بھی

جاوید اختر اے پی، روئٹرز، اے ایف پی کے ساتھ
13 اپریل 2026

چھوٹے سے یورپی ملک ہنگری میں حالیہ انتخابات کے نتائج کے اثرات ہزاروں میل دور امریکہ میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اس الیکشن میں 16 سال سے برسراقتدار وزیر اعظم وکٹور اوربان کو پیٹر موجور کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

https://p.dw.com/p/5C4oE
الیکشن میں کامیابی کے بعد پیٹر موجور
امریکی ِصدر ٹرمپ نے اوربان کی انتخابی مہم کی حمایت کی تھی اور ایران جنگ کے دوران ہی، نائب صدر جے ڈی وینس کو اوربان کے حق میں انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے بوڈاپیسٹ بھیجا تھا تصویر: Denes Erdos/AP Photo/picture alliance

امریکہ پر ہنگری کے انتخابی نتائج کے اثرات کی وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکہ کے کئی قدامت پسند رہنما طویل عرصے سے اوربان کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ تارکین وطن کے خلاف سخت موقف کی وجہ سے اوربان عالمی سطح پر دائیں بازو کے حلقوں میں ایک علامت سمجھے جاتے رہے ہیں۔

امریکی صدر کے سیاسی ایجنڈے میں بھی کئی پہلو ایسے ہیں جو اس انداز سے ملتے جلتے ہیں جس طرح ہنگری کے رہنما نے حکومت کے مختلف اداروں، جیسے میڈیا، عدلیہ اور انتخابی نظام کو استعمال کر کے اپنی جماعت کو 16 سال تک اقتدار میں رکھا۔

ٹرمپ نے اوربان کی انتخابی مہم کی حمایت کی تھی اور گزشتہ ہفتے، ایران جنگ کے دوران ہی، نائب صدر جے ڈی وینس کو بوڈاپیسٹ بھیجا تھا تاکہ وہ اوربان کے حق میں انتخابی مہم میں حصہ لیں۔

وکٹور اوربان
وکٹور اوربان کی آخری انتخابی شکست 2006 میں ہوئی تھیتصویر: Attila Kisbenedek/AFP

اوربان کی شکست کے معنی

اوربان کی شکست نے یہ بھی ظاہر کیا کہ جنگ کی وجہ سے ٹرمپ کی بیرون ملک اتحادی سیاست دانوں کی مدد کرنے کی صلاحیت کمزور پڑ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہوا کہ موجودہ دور میں، جب دنیا بھر میں برسراقتدار حکومتوں کے خلاف بے چینی پائی جاتی ہے، مختلف رہنماؤں کے لیے اپنی طاقت استعمال کر کے انتخابات کو اپنے حق میں موڑنا اتنا آسان نہیں رہا۔

ہارورڈ یونیورسٹی میں سیاست کے پروفیسر اور کتاب 'ہاؤ ڈیموکریسیز ڈائی‘ کے شریک مصنف اسٹیون لیوٹسکی نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ''اپوزیشن ناموافق حالات کے باوجود بھی جیت سکتی ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں جمہوریتوں کو چیلنجز درپیش ہیں، لیکن آمریتوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔‘‘

اوربان کی شکست کے فوری عالمی اثرات بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ یورپ کے اس رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے جو روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے سب سے قریب تھے۔ انہوں نے یورپی یونین کی جانب سے یوکرین کے لیے امداد کو بھی روک رکھا تھا، جبکہ یوکرین روس کے 2022 کے اپنے خلاف حملے کے آغاز کے بعد سے اپنا دفاع کر رہا ہے۔

اتوار کو اوربان کی شکست پر امریکہ میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں نے اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ بعض سیاست دانوں نے اپنی ہی حکومت کو ہنگری کے رہنما کی کھلی حمایت کرنے پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہنگری کے انتخابی نتائج پر فی الحال کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا۔

انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد بوداپسٹ کی سڑکوں پر عوام کا ہجوم
ماہرین کا کہنا ہے کہ اوربان کی شکست نے یہ بھی ظاہر کیا کہ رہنماؤں کے لیے اپنی طاقت استعمال کر کے انتخابات کو اپنے حق میں موڑنا اتنا آسان نہیں رہاتصویر: Denes Erdos/AP Photo/picture alliance

الیکشن میں موجور کی فتح

وکٹور اوربان نے پارلیمانی انتخابات میں پیٹر موجور اور ان کی جماعت ٹیسو پارٹی کی بھاری اکثریت سے جیت کو تسلیم کر لیا ہے۔

زیادہ تر ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ٹیسو پارٹی کو ہنگری کی 199 نشستوں والی پارلیمنٹ میں 138 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ یہ تعداد دو تہائی اکثریت کے لیے درکار نشستوں سے بھی پانچ زیادہ ہے، جس کی بدولت بڑی اصلاحات اور آئینی ترامیم بھی آسانی سے منظور کرائی جا سکیں گی۔ موجور نے وسیع اصلاحات کا وعدہ کیا ہے۔

پارلیمنٹ میں یہ مضبوط اکثریت موجور کو اپنی انتخابی مہم کے وعدوں پر عمل کرنے میں مدد دے گی، جن میں ایسے اہم سرکاری عہدیداروں کو برطرف کرنا بھی شامل ہے، جنہیں اوربان نے مقرر کیا تھا اور جن کے بارے میں موجور کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہنگری کے آزاد اداروں پر قبضہ جما رکھا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اختیارات کے توازن اور نگرانی کے نظام کو بحال کرنے کے لیے دیگر اصلاحات بھی کرنا چاہتے ہیں۔

ممکنہ نئے وزیر اعظم پیٹر موجور نے کہا کہ وہ وکٹور اوربان کے 16 سالہ مسلسل اقتدار کے بعد ادارہ جاتی توازن کا نظام دوبارہ قائم کریں گے۔

انہوں نے بوڈاپیسٹ میں اپنے حامیوں کے بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ''ہم نے مل کر اوربان کی حکومت کو ختم کیا۔ مل کر ہم نے ہنگری کو آزاد کرایا اور اپنا وطن واپس لیا۔‘‘

موجور نے کہا کہ ملک کے آزاد اداروں پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور انہوں نے سپریم کورٹ کے سربراہ، چیف پراسیکیوٹر، میڈیا اتھارٹی کے سربراہ اور مسابقتی کمیشن کے چیف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو لوگ ہنگری کو دھوکا دینے کے مرتکب ہوئے ہیں، انہیں جوابدہ بنایا جائے گا۔

45 سالہ وکیل اور سفارت کار موجور نے کہا کہ وزیر اعظم بننے کے بعد ان کا پہلا غیر ملکی دورہ وارسا کا ہو گا، جس کے بعد وہ ویانا اور برسلز جائیں گے تاکہ یورپی یونین کی منجمد فنڈنگ بحال کرائی جا سکے۔

ان کی تقریر کے دوران حامیوں نے بار بار ''یورپ، یورپ‘‘ کے نعرے لگائے۔ متعدد یورپی رہنماؤں نے موجور کو ان کی 'شاندار کامیابی‘ پر مبارک باد دی ہے۔

ہنگری میں ریفرنڈم، مہاجرین مخالف جذبات میں شدت

ادارت: مقبول ملک

 

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔