1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

'ہم 50 سال پیچھے چلے گئے‘، سیلاب اور سندھ کے کسان

3 ستمبر 2022

پاکستانی کسان اب بھی تباہ کن سیلاب سے ہونے والے نقصانات شمار کر رہے ہیں۔ سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے جس کے طویل مدتی اثرات سامنے آئیں گے۔

https://p.dw.com/p/4GO3o
Pakistan - Flut
تصویر: Abdul Majeed/AFP

پاکستانی کسان اب بھی تباہ کن سیلاب سے ہونے والے نقصانات شمار کر رہے ہیں۔ سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے جس کے طویل مدتی اثرات سامنے آئیں گے۔

صوبہ سندھ کے ایک کسان اشرف علی بھنبرو نے کہا، ''ہم 50 سال پیچھے چلے گئے ہیں۔‘‘ سندھ میں 2500 ایکڑ پر کپاس اور گنے کی فصل تیار ہو چکی تھی لیکن سیلاب کی نذر ہو گئی۔

مون سون کی ریکارڈ بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب سے 33 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں اور سندھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبوں میں شامل ہے۔

اس صوبے کو دریائے سندھ دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے جس کے کناروں پر ہزاروں برسوں سے کھیتی باڑی کی جا رہی ہے اور آب پاشی کا نظام چار ہزار برس قبل از مسیح کا ہے۔

سندھ کو دہرے مسائل درپیش ہیں۔ صوبے میں ریکارڈ بارشیں ہوئیں لیکن بارشوں کا پانی دریا میں نہ جا پایا، کیوں کہ دریائے سندھ پہلے ہی بھر چکا تھا اور شمال میں معاون دریا بھی بھر گئے اور کئی مقامات پر شگاف پڑ گیا۔

پاکستان میں سیلاب زیادہ تباہی کی وجہ آخر کیوں بنتے ہیں؟

بھنبرو بتاتے ہیں کہ ایک مرحلے پر 72 گھنٹے تک مسلسل بارش ہوتی رہی اور صرف کاشت کاری پر اٹھنے والے اخراجات کی مد میں 270 ملین روپے نقصان ہوا۔

انہوں نے بتایا، ''یہ کھادوں اور کیڑے مار ادویات پر لاگت آئی تھی۔ ہم اس میں منافع شامل نہیں کر رہے، جو شاید کافی زیادہ ہوتا کیوں کہ یہ بمپر فصل تھی۔‘‘

جب تک سیلاب زدہ کھیتوں سے پانی نہیں نکلتا، بھنبرو اور ان جیسے دیگر کسان موسم سرما میں گندم کی فصل کاشت نہیں کر سکیں گے، جو ملک کی غذائی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

سکھر شہر سے پچیس میل دور سمو خان گاؤں میں اپنے فارم پر اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''ہمارے پاس صرف ایک مہینہ ہے۔ اگر اس دوران پانی نہ نکلا تو ہم گندم کاشت نہیں کر سکتے۔‘‘

پاکستان برسوں تک گندم کی پیداوار میں خود کفیل تھا لیکن حال ہی میں اس نے درآمدات پر انحصار کرنا شروع کر دیا۔

دوسری جانب پاکستان درآمدات کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا ہے، چاہے بات روس سے سستی گندم کی خریدی کی ہی کیوں نہ ہو۔

ملک غیر ملکی قرض دہندگان کا اربوں کا مقروض ہے اور گزشتہ ہفتے ہی پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو مزید قرض دینے پر آمادہ کر پایا ہے۔ تاہم اس پروگرام سے سیلاب سے ہونے والے نقصان کا ازالہ تو دور کی بات، گزشتہ قرضوں کی اقساط بھی ادا کرنا مشکل ہے۔ سیلاب سے نقصانات کا تخمینہ 10 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

سکھر سے سمو خان تک کا سفر سیلاب سے ہونے والی تباہی کا بھیانک منظر دکھاتا ہے۔

بعض جگہوں پر تاحد نگاہ پانی ہی پانی دکھائی دیتا ہے اور سیلاب زدہ کھیتوں میں کپاس کی فصلیں نظر آتی ہیں، جن کے پتے تک مرجھا چکے ہیں۔

سکھر سے 30 کلومیٹر شمال مشرق میں صالح پت کے ایک کسان لطیف ڈینو نے کہا، ''کپاس کی فصل کو تو اب بھول ہی جائیں۔‘‘

پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ خواتین سب سے زیادہ مشکل میں

بڑے زمیندار تو ممکنہ طور پر سیلاب سے ہونے والے نقصانات برداشت کر لیں، لیکن کھیتوں میں کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں کو انتہائی خوفناک حالات کا سامنا ہے۔

بہت سے مزدور فصلیں چن کر کمائی کرتے تھے اور صوبے کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے دیہات میں تھوڑی سی زمین پر خوراک اگا کر گزر بسر کرتے تھے۔

اب وہ بھی زیر آب ہیں اور ہزاروں افراد اپنے سیلاب زدہ گھروں سے نکل کر بلند مقامات پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اپنے خاندان کے ساتھ فصلیں چننے کا کام کرنے والے ایک مزدور سعید بلوچ نے بتایا، ''اب چننے کے لیے کچھ نہیں بچا۔‘‘

یہاں صرف کسان ہی متاثر نہیں ہیں بلکہ اس شعبے سے وابستہ ہر فرد پریشان ہے۔

صالح پت میں کپاس کے تاجر وسیم احمد نے اے ایف پی کو بتایا، ''ہم تباہ ہو چکے ہیں۔‘‘ اس شعبے سے وابستہ دیگر افراد کی طرح وسیم نے کپاس کی خریداری کے لیے پیشگی رقوم ادا کر رکھی ہیں۔

عمومی حالات میں سندھ کی کپاس کی مارکیٹوں میں ان دنوں گہما گہمی ہوتی ہے لیکن ان دنوں ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ تاجر احمد نے بند دکانوں کی قطار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ مارکیٹ بند ہے اور کپاس کی جننگ فیکٹریاں بھی بند ہیں۔

سندھ کے کسانوں اور مزدوروں میں بے بسی کا احساس بہت زیادہ ہے، لیکن لطیف ڈینو کو امید ہے کہ مشکل وقت سے نجات مل جائے گی، انہوں نے کہا، ''ہم خدا کی طرف دیکھ رہے ہیں وہ ہی بچانے والا ہے۔‘‘

ش ح/ع ت (اے ایف پی)