1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتپاکستان

گوادر میں حفاظتی باڑ لگانے کے سرکاری منصوبے پر خدشات

8 مئی 2024

سابق سینیٹر ثناء اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا میں چوتھے نمبر پر سب سے غیر محفوظ ملک ہے،''کیا سکیورٹی کے نام پر حکومت اب پورے ملک میں باڑ لگائے گی؟‘‘

https://p.dw.com/p/4fdI7
گوار پورٹ کا ایک فضائی منظر

گوادر بندر گاہ کی حفاظت کے لیے وسیع پیمانے پر باڑ لگانے کے ایک مجوزہ سرکاری منصوبے کے خلاف بلوچستان میں عوامی اور سیاسی حلقوں کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ گوادر میں باڑ لگانا عوام کے بنیادی آئینی حقوق اور آزادانہ نقل وحمل پر قدغن لگانے کی ایک کوشش ہے، جسے وہ کبھی تسلیم نہیں کریں گی۔

مقامی حکام نے ایک بیان میں کہاہے کہ گوادر میں سیف سٹی پراجیکٹ پر کام کیا جا رہا ہے، جس سے شہر میں دہشت  گردی کے واقعات اور اسمگلنگ کی روک تھام میں مدد ملے گی۔

گوادر میں باڑ لگانے کے اس منصوبے پر پہلے بھی 2020ء میں کام شروع کیا گیا تھا
گوادر میں باڑ لگانے کے اس منصوبے پر پہلے بھی 2020ء میں کام شروع کیا گیا تھاتصویر: Xinhua News Agency/picture alliance

گوادر میں باڑ لگانے کے اس منصوبے پر پہلے بھی 2020ء میں کام شروع کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں شدید عوامی ردعمل پر حکومت نے اس منصوبے پرکام روک دیا تھا۔اس بندرگاہی شہرمیں باڑ لگانے کے منصوبے کے خلاف  بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں نے صوبائی اسمبلی میں ایک مشترکہ قرار داد بھی منظور کی  تھی ۔

 آئینی خلاف ورزی

سابق سینیٹر تجزیہ کار ثنااللہ بلوچ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں حکومت کے متنازعہ اقدامات سے صوبے کی احساس محرومی کم ہونے کے بجائے مذید بڑھ رہی ہے ۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا، "حکومت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرسکتی جس سے عوام کے بنیادی   حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ حکومت قیام امن کی بحالی کے لیے اقدامات نہ کرے لیکن اس معاملے میں عوامی مفادات کو بھی مد نظر رکھا جائے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''ہم نے گوادر میں باڑ لگانے کے خلاف بلوچستان اسمبلی میں پہلے بھی بھرپور آواز بلند کی تھی ۔ حکومت عوام کی نقل وحمل پر پابندی لگا کر آئین کی شق پندرہ کی سرعام خلاف ورزی کررہی ہے۔‘‘

 ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنا اور ان سے روزگار چھیننے کے عمل کو کسی بھی مہذب معاشرے میں درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ثناء اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا  میں چوتھے نمبر پر سب سے غیر محفوظ ملک ہے،''کیا سکیورٹی کے نام پر حکومت اب پورے ملک میں باڑ لگائے گی؟

Pakistan | Flut in Gwadar
وزیراعظم شہباز شریف گوادر کے ایک دورے کے موقع پر فوجی قیادت کے ہمراہتصویر: Abdul Ghani Kakar

ان کے بقول، ''سکیورٹی کا مسئلہ تو پورے ملک کو درپیش ہے لیکن اسے باڑ لگانے سے نہیں بلکہ جامع پالیسی اور دوراندیشی پر مبنی فیصلوں کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔باڑ سے متعلق اب تک حکومت کوئی واضح موقف پیش نہیں کرسکی ہے۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ گوادر میں دراصل حکومت کس حصے کومحفوظ بنانا چاہتی ہے؟  اس منصوبے پر جو رقم خرچ کی جائے گی وہ کون ادا کرے گا، صوبائی حکومت یا مرکز؟ یہ ابہام بھی دور ہونا چاہئے ۔

ڈیڑھ لاکھ ایکڑ پر باڑ لگانے کامنصوبہ

 بلوچستان نیشنل پارٹی نے گوادر میں حفاظتی باڑ کے منصوبے کے خلاف صوبائی ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔ پارٹی کے مرکزی نائب صدر  ساجد ترین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں صوبائی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے ۔

 ساجد ترین کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے گوادر شہر میں ڈیڈھ لاکھ ایکڑ اراضی پر باڑ لگانے کامنصوبہ تیار کیاہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "مبینہ باڑ منصوبے کے حوالے سےحکومت تمام تحفظات کو نظرانداز کررہی ہے۔ اس منصوبے کے لئے خندق کی کھدائی بھی شروع ہوچکی ہے ۔ آئینی درخواست میں ہم نے عدالت عالیہ سے  باڑ کے منصوبے کو ختم کرنے کی استدعا کی ہے، سیکیورٹی کے نام پر  گوادر شہر کو تقسیم کرنے سے مقامی آبادی بڑے پیمانے پر متاثر ہوگی۔‘‘

ساجد ترین کا کہنا تھا کہ  گوادر باڑ منصوبے سے 70 فیصد  سے ذائد مقامی آبادی کےمتاثر ہونے کا خدشہ ہے اس لیے اس ضمن میں سخت عوامی ردعمل سامنے آرہا ہے ۔

گوادر کے مقامی شہری اپنے حقوق کے لیے ماضی میں بھی تحریکیں چلا چکے ہیں
گوادر کے مقامی شہری اپنے حقوق کے لیے ماضی میں بھی تحریکیں چلا چکے ہیںتصویر: Abdul Ghani Kakar/DW

مقامی لوگوں کی رائے

گوادر کے مقامی شہری بھی باڑ منصوبے پر شدید تشویش کا شکارہیں۔ اس ساحلی شہر میں مقیم  55 سالہ ستار بلوچ کہتے ہیں کہ اس منصوبے  کی وجہ سے مقامی لوگ  اپنی زمینوں  تک بھی رسائی کھو دیں گے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''ہمیں سیف سٹی کے نام پر تقسیم کرکے اپنے آبائی علاقوں سے بھی محروم کیا جا رہا ہے یہاں اکثر لوگوں کا واحد زریعہ معاش، ماہی گیری اور زراعت سے وابستہ ہے۔ باڑ لگنے کے بعد لوگوں کی زرعی زمینوں کا کیا ہو گا؟حکومت اگر واقعی مقامی آباد ی کی اس قدر خیرخواہ ہے تو لوگوں کی بنیادی ضروریات کی فراہمی پر توجہ دے۔‘‘

ستار بلوچ کا کہنا تھا کہ گوادر کے لوگ ترقی یا سکیورٹی کے نام پر خود کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔واضح رہے کہ گوادر شہر میں باڑ لگانے کے مبینہ منصوبے کے حوالے  سے  بلوچستان حکومت کا اب تک کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا ہے۔  

         

بلوچستان کے ’عوام کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا گیا‘