1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کمزور دل جنسی فعل بھی کمزور کر دیتا ہے

28 اکتوبر 2021

مردوں میں جنسی عمل میں کمزوری کی بڑی وجوہات امراضِ قلب، ذیا بیطس اور ڈپریشن قرار دی جاتی ہیں۔ اس مناسبت سے اور بھی امراض ہیں لیکن اس پریشان صورت حال کا علاج ممکن ہے، بس اپنی شرم کو اتار پھینکنا ضروری ہوتا ہے۔

https://p.dw.com/p/42Hhw
Mann mit verschränkten Händen
تصویر: Colourbox

یہ ایک حقیقت ہے کہ مرد جنسی فعل کی ادائیگی یا نامرد ہونے کا تذکرہ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ ایسی گفتگو کرتے ہی نہیں جس ميں انہيں اپنے جنسی عضو کی عدم سختی کا تذکرہ کرنا پڑے۔ اس مناسبت سے جب گفتگو عتیق اللہ عزیز سے کی گئی، جو جنوبی جرمن شہر میونخ کے ایک امراض گردہ و مثانہ (یورولوجی) کے مطب پر مرکزی کنسلٹنٹ ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اُن کے کلینک پر نامردی کا شکار مرد کبھی اکیلے نہیں آتے۔

مردانہ کمزوری والے افراد کو کووڈ کا اور کووڈ کے شکار صحت مند افراد کو مردانہ کمزوری کا خطرہ

'جنسی طاقت ہی مردانگی ہے‘

عتیق اللہ عزیز کا کہنا ہے کہ جرمنی میں چالیس سے ساٹھ لاکھ مردوں کو عضو اور نامردی  کے مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق یہ وہ سرکاری اعداد و شمار ہیں جو متعدی امراض کی ریسرچ میں استعمال کیے گئے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسے مردوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ماہر یورولوجسٹ کے مطابق یہ کہنا بہتر ہو گا کہ جرمنی میں مردوں میں جنسی عضو میں پائی جانے والی کجہی و کمزوری ایک بہت عام مرض ہے۔ ماہرین نے ایسے مردوں کا تناسب بیس فیصد بتایا ہے۔

Symbolfoto | Fettleibigkeit
موٹاپا بھی کسی مرد کے جنسی فعل کو کمزور کر دیتا ہےتصویر: Dominic Lipinski/PA/empics/picture alliance

یہ امر اہم ہے کہ جرمنی سمیت دوسرے قریب سبھی معاشروں میں جنسی قوت کو مردانگی کا مظہر قرار دیا جاتا ہے۔ جرمنی کے ایسے مرد جن کے عضو جنسی عمل میں شریک ہونے سے قاصر ہیں، وہ خود کو ایک مکمل مرد قرار نہیں دیتے اور شرم کی وجہ سے کسی لڑکی یا خاتون سے دوستی یا تعلق بڑھانے سے گبھراتے ہیں۔

مردانہ کمزوری کچھ نہیں ہوتی،گلاں ای بنیاں نیں

عضو میں کجہی کے ابتدائی اشارے

عتیق اللہ عزیز کا کہنا ہے کہ کسی مرد کے عضو میں کجہی حقیقت میں دل کے مرض کا ابتدائی اشارہ بھی ہو سکتا ہے اور ویسے بھی انگریزی کی ضرب المثل ہے "Sick heart, sick penis!" یعنی بيمار دل، کمزور عضو۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کمزور جنسی فعل کے مریضوں کا معائنہ کرتے ہوئے کسی بھی مرد میں دوسری بیماریوں یا جسمانی مسائل کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ اس تناظر میں معالج کو یہ دیکھنا لازمی ہوتا ہے کہ اس کا مریض ذیابیطس یا شوگر کے ساتھ ساتھ موٹاپے، نکوٹین کی لت اور زیادہ شراب نوشی کا شکار تو نہیں۔ جنسی فعل میں ناکامی یا نامردی یا عضو کی کجہی کے مریضوں کو عتیق اللہ عزیز یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنا لائف اسٹائل تبدیل کریں اور صحت مندانہ سرگرمیوں کو زندگی کا حصہ بنائیں۔

BG Indonesien traditioneller Walfang | von Claudio Sieber
یہ امر اہم ہے کہ جرمنی سمیت دوسرے قریب سبھی معاشروں میں جنسی قوت کو مردانگی کا مظہر قرار دیا جاتا ہےتصویر: Claudio Sieber

لائف اسٹائل میں تبدیلی

امریکا میں مردانہ عضو کے مسائل پر کی گئی ایک ریسرچ میں اس بیماری کوصحت مندانہ خوراک کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جو مرد مناسب اور بہتر خوراک کھاتے ہیں، ان کے عضو میں کجہی کا مرض بھی کم ہو سکتا ہے۔ ہارورڈ میڈیکل اسکول کے جریدے میں اس مسئلے کے حل کے لیے پانچ عملی اقدامات بیان کیے گئے ہیں، جن سے مردانہ عضو کا فعل بہتر ہو سکتا ہے۔ ان میں روزانہ ورزش، اچھی خوراک، نظام دل و تنفس کا صحت مند ہونا، زائد وزن سے نجات اور کولہے کے حصے کی ورزش شامل ہیں۔

مردانہ کمزوری کی دوا ’ویاگرا‘ کے بیس سال

گولی ہر وقت بہتر نہیں ہوتی

ماہر امراضِ پوشیدہ عتیق اللہ عزیز کا کہنا ہے کہ جنسی فعل کی ادائیگی میں مردانہ طاقت کی گولیاں ہر مرتبہ فائدہ مند نہیں ہوتی ہیں اور اب ان مسائل کو حل کرنے میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، ان میں جنسی عضو کی پیوند کاری اور ایسی بافتوں کا امپلانٹ، جن سے عضو میں سختی پیدا ہوتی ہے۔ ایسی بافتوں کو cavernous nerves کہتے ہیں۔ مردانہ عضو کی پیوند کاری میں ایک پمپ مرد کے ٹیسٹیکل بيگ میں ڈال دیا جاتا ہے اور ضرورت کے وقت پمپ کو استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے جنسی عضو میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ سیکس یا جنسی فعل کے قابل ہو جاتا ہے۔

Frankreich Medizin l Urologie - Chirurgie
اب مردانہ جنسی کمزوری کا علاج جنسی عضو کی پیوند کاری سے بھی کیا جاتا ہےتصویر: BSIP/picture-alliance

عتیق اللہ عزیز کا کہنا ہے کہ ذہنی مسائل بھی مردانہ عضو میں عملی حرکت کو معدوم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور خاص طور پر نوجوان لڑکوں کے نفسیاتی اور ذہنی عوارض بھی نامردی کا سبب بنتے ہیں۔ نوجوانوں میں ذہنی و نفسیاتی مسائل کی وجوہات میں کام کا پریشر اور محبت یا انسیت کے تعلقات میں مسلسل ناکامی سے پیدا ہونے والا ڈپریشن اہم ہوتے ہیں۔

يولیا فیرگین (ع ح / ع س)