1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کشمیر میں پولیس مقابلے کی انکوائری، ترے وعدے پر جئے ہم

18 دسمبر 2021

لو جی، بتایا گیا کہ اس سال پندرہ نومبر کو حیدر پوره سری نگر میں ہوئے مبینہ پولیس مقابلے کی مجسٹریٹ کے ذریعے تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے اس کا خیر مقدم کرنے میں ایک منٹ بھی ضائع نہیں کیا۔

https://p.dw.com/p/44VXz
Farhana Latief
تصویر: privat

چند افراد کی خوشی دیدنی تھی کہ بس اب چند روز میں ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، قصورواروں کو سزائیں ملیں گی اور بے گناہوں کو انصاف ملے گا۔ مگر کیا کریں بقول شاعر، یاد ماضی عذاب ہے یا رب! پچھلے تیس سالوں کے دوران کشمیر میں اس طرح کی سینکڑوں ہلاکتوں کی تحقیقات کا، جو حال ہوا ہے، اس کو دیکھ کر بس یہی لب پر آتا ہے کہ یا تو چھین لے حافظہ میرا یا حکمرانوں کو توفیق دے کہ وه وعدوں کا ایفا کر کے واقعی ملزمان کو سزائیں دے ۔

 2006ء کی بات ہے کہ میں بارہویں جماعت میں پڑھتی تھی، جب جموں و کشمیر کے تجارتی شہر سوپور کے پاس شہر آفاق ولر جھیل میں بھارتی بحریہ کے مارکوس کمانڈوز کی ایک کشتی، جو اسکول کے بچوں کو لے کر جا رہی تھی، الٹ گئی۔ اس کے نتیجے میں اکیس بچے ہلاک ہو گئے۔ بتایا گیا کہ اس واقعے کی عدالتی تفتیش ہو گی۔ ہوئی بھی ہو گی مگر ابھی تک رپورٹ کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے اور نہ کسی کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی۔ دنیا کے کسی بھی علاقے میں بچوں کی اس طرح ہلاکت نے حکومت کی چولہیں ہلا دی ہوتیں۔

کشمیر میں جیسے، جیسے آپ بڑے ہونے لگتے ہیں، رفتہ رفتہ یہ سمجھ آ جاتا ہے کہ اس خطے میں تفتیش کا مقصد ملزموں کی شناخت کرنا اور انہیں سزا دینا نہیں ہے۔ بھارت کے حامی سیاست دان کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے ایک بار کہا تھا کہ ان تحقیقات کا مقصد وقت حاصل کرنا، بڑھتے ہوئے غصے کو بجھانا اور لوگوں کو یہ یقین دلانا ہوتا ہے کہ ریاستی مشینری خود کو ذمہ دار محسوس کرتی ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

 2008 سے لے کر اب تک کشمیر میں 108 مجسٹریٹوں کے ذریعے تفتیش کے احکامات صادر کیے گئے ہیں۔ مگر ان کے انجام کی کسی کو خبر نہیں ہے۔ آج تک مسلح افواج کے کسی بھی اہلکار پر مقدمہ چلایا نہیں جا سکا ہے۔ کئی برس قبل تو بھارت کے مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئی اور فوج سپریم کورٹ میں آپس میں لڑ پڑے کیونکہ سی بی آئی جنوبی کشمیر میں پتھری بل کے مقام پر ایسے ہی ایک انکاونٹر کی تفتیش کر رہی تھی اور اس نے کہا تھا کہ چار شہریوں کو لشکر طیبہ کے دہشت گرد بتا کر مارچ 2000 کو فوج نے مبینہ طور پر ہلاک کر دیا تھا۔

جب حیدر پوره واقع کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تو میری نظروں کے سامنے جھیل ولر میں ڈوبنے والے ان بچوں کی تصویر گھومنے لگی۔ اس سانحے کی یاد تازه ہو گئی، جو میری رہائش گاه سے چند میل کے فاصلے پر پیش آیا تھا۔  سیاسی جماعتیں ہلاک شده افراد کی لاشوں کو واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہی تھیں۔ ان کے لئے اب انصاف یہی تھا کہ ان کے اعزاء و اقارب ان ہلاک شده افراد کی آخری رسوم ادا کریں۔

 شاید یہ سیاسی جماعتیں اپنا ٹریک ریکارڈ دیکھ رہی تھیں۔ کیونکہ یہ وہی جماعتیں ہیں، جو جب پاور میں تھیں، تو ایسے واقعات پر چپ سادھ لیتی تھیں۔ 2009 میں شوپیاں قصبہ کے نواح میں دو خواتین کی عصمت دری اور قتل، 2010 میں ایک سوسے زائد افراد کی ہلاکتیں اور پھر 2016 میں پیلٹ گنوں کا استعمال، جیسے واقعات تو ان ہی لیڈروں کی ناک کے نیچے رونما ہوئے۔ ناانصافی کو بڑھاوا دینے اور اس کو دوام بخشنے میں ان کا رول کچھ کم نہیں رہاہے۔ اس لئے ان کی طرف سے انصاف کی مانگ کو ہضم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ جو اپنے دور حکومت میں انصاف نہیں دلا سکا اور صاف و شفاف تحقیقات نہیں کروا سکا، وه اب کسی اور کو کیا درس دے سکتا ہے؟

موجوده کشمیر میں ویسے ہی انصاف اور انسانی حقوق کا حصول ایک بغیر تعبیر کا خواب سا لگتا ہے۔ عوام کو اگر ''حیوانوں یا جنگلی جانوروں‘‘ کو تفویض کیے گئے حقوق ہی ملیں تو کم از کم ہلاکتوں کی روک تھام تو ہو ہی سکتی ہے۔