1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ڈونلڈ ٹرمپ کیا چاہتے ہیں؟ جنگ یا امن

22 جون 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطی کے حوالے سے کیا حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں؟ ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار پیٹر فلپ کے خیال میں ٹرمپ اس جارحیت کے ساتھ امن کے اپنے ہی منصوبوں کو برباد کر رہے ہیں۔ تبصرہ ملاحظہ فرمائیں۔

https://p.dw.com/p/3Kt57
US-Präsident Donald Trump
تصویر: AFP/B. Smialowski

ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار پیٹر فلپ کے مطابق جمعرات کی رات امریکی ڈرون طیارے کی تباہی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بہت ہی یقین کے ساتھ ٹویٹ کی' ایران نے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے۔‘ اس سے زیادہ انہیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔

پیٹر فلپ لکھتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی امریکا اور ایران کے مابین جنگ کے خطرے پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ فریقین بدستور اس پر بحث و تکرار میں مصروف ہیں کہ ڈرون طیارہ ایرانی فضائی حدود میں تھا یا نہیں۔ ٹرمپ کے رد عمل نے صورتحال کو واضح کرنے کے بجائے مزید مبہم بنا دیا ہے۔

ڈرون کی تباہی کے چند گھنٹوں کے بعد ہی صدر نے ایران کے خلاف حملے کی تیاری کے احکامات دے دیے۔ کہا گیا کہ امریکی طیارے عام شہریوں کی ہلاکتوں کو کم از کم رکھنے کے لیے ایرانی ریڈار اور میزائل تنصیابات کو نشانہ بنائیں گے۔

دھمکی اور ساتھ ہی مذاکرات کی پیشکش

ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار مزید لکھتے ہیں کہ اس واقعے کے فوری بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے عمان سے ثالثی کی درخواست کی۔ اس سلطنت کی جانب سے امریکی انتباہ کچھ اس طرح سے پہنچایا کہ حملہ کی تیاری ہے لیکن صدر ٹرمپ جنگ نہیں چاہتے بلکہ وہ ایرانی قیادت سے مذاکرات کرنے کے خواہش مند ہیں اور تہران حکومت کی رضامندی ایک فضائی حملے کو ٹال سکتی ہے۔ اس موقع پر ایرانی حکام نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ تاہم امریکی پیغام ان تک پہنچا دیا جائے گا۔

پیٹر فلپ کے بقول ٹرمپ نے خود کو ایک مشکل میں پھنسا دیا ہے۔  خلیج فارس اور بحیرہ ہند میں تعینات امریکی دستے کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہیں۔ تاہم امریکا کی جانب سے حملے کی دھمکی اور تیاری صدر ٹرمپ کے اس موقف کی ایک طرح سے نفی ہے کہ وہ مذاکرات چاہتے ہیں۔

ممکن ہے کہ صدر ٹرمپ خود پیدا کردہ ان حالات سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ تلاش نہ کر پائیں۔ انہوں نے یہ بھی محسوس کیا ہو گا کہ سخت گیر موقف رکھنے والے ان کے مشیر جان بولٹن اور وزیر خارجہ  مائیک پومپیو جیسے لوگ بھی شاید اس سلسلے میں ان کی مدد نہ کر پائیں۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ انہی نا معلوم فوجی مشیروں نے ان کی رہنمائی کی ہو، جنہوں نے حالیہ تنازعے میں انہیں خبردار بھی کیا ہو گا۔ عین ممکن ہے کہ ان مشیروں نے ٹرمپ پر واضح کیا کہ یہ انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ ہو گا کہ اگر کوئی فوجی کارروائی اپنی مرضی سے شروع کی جائے اور انہیں یہ یاد دہانی کرائی ہو گی کہ ایسے کسی بھی فیصلے سے قبل سیاسی سطح پر اتفاق رائے لازمی ہے۔

Peter Philipp Kommentarbild PROVISORISCH
ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار پیٹر فلپتصویر: DW

پیٹر فلپ کے بقول ایران کے ساتھ جنگ ان انتحابی وعدوں کی خلاف ورزی ہو گی، جو انہوں نے مہم کے دوران کیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ مشرق وسطی کے خطے میں تعینات اپنے فوجیوں کو گھر واپس لانا چاہتے۔ اور اب وہ انہی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں اور ایک ایسی جنگ میں دھکیل رہے ہیں، جس کے نتائج کا کسی کو علم نہیں۔

ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار پیٹر فلپ مزید لکھتے ہیں کہ اگر یہ جنگ نہیں بھی ہوتی تو پھر بھی ٹرمپ نے خطے کے لیے جو بڑے بڑے اعلانات کیے تھے، ان میں بہت کم ہی باقی بچا ہے۔ مثال کے طور پر اسرائیل اور فلسطین کے مابین قیام امن کا  ''صدی کا منصوبہ‘‘۔ اس منصوبے کی تفصیلات ابھی تک عام نہیں کی گئی ہیں اور شاید کبھی کی بھی نہ جائیں۔ بس یہ واضح ہے کہ اس میں تمام اور جماعتیں شامل ہیں۔

ٹرمپ کی اسرائیل کی غیر مشروط حمایت اور دو ریاستی حل سے دوری کی وجہ سے فلسطینی امریکی منصوبوں سے نالاں ہیں۔ مثال کے طور پر اگلے منگل کو امریکی ایماء پر عمان میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں کوئی بھی فلسطینی شریک نہیں ہو گا۔ ساتھ ہی اسرائیل کی بھی باقاعدہ نمائندگی نہیں ہو گی۔ ساتھ ہی خطے کے دیگر ممالک نے بھی اگر اس اجلاس میں شرکت کی تو وہ اپنے اعلی اہلکار نہیں بھیجیں گے۔

تبصرہ: پیٹر فلپ

ترجمہ: عدنان اسحاق

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں