1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستپولینڈ

پولینڈ میں جنسی تعلیم کے خلاف شدید ردعمل

عاطف توقیر جاسیک لیپیارز | ادارت | کشور مصطفیٰ
19 مارچ 2026

پولینڈ میں حکومت کی جانب سے صحت کی تعلیم کے باب میں سیکس ایجوکیشن متعارف کروانے کے فیصلے پر شدید عوامی بحث ہو رہی ہے۔

https://p.dw.com/p/5Ahww
کونڈمز کی صورت میں سیکس کو علامتی طور پر ظاہر کیا گیا ہے
پولینڈ کی سیکس ایجوکیشن میں مانع حمل اشیاء اور جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں سے متعلق معلومات دی جاتی ہےتصویر: diy13@ya.ru/Depositphotos/IMAGO

پولستانی حکومت کی جانب سے صحت کی تعلیم میں سیکس ایجوکیشن کو شامل کرنے کے اعلان نے گزشتہ سال ہی تنازعہ کھڑا کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ مضمون نوجوانوں کو عملی زندگی کے لیے تیار کرتا ہے جبکہ قدامت پسند حلقے اسے بچوں کو ''گمراہ کرنے‘‘ کا سبب قرار دے رہے ہیں۔

تعلیمی سال کے آغاز سے پولینڈ کے طلبہ کو صحت کی تعلیم  میں ایک نیا مگر غیر لازمی مضمون پڑھنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس مضمون میں جسمانی اور ذہنی صحت، متوازن غذا، ماحول کے اثرات، سوشل میڈیا کے نقصانات اور منشیات جیسے موضوعات بھی شامل ہیں۔

تاہم اس کے دس حصوں میں سے ایک جنسی تعلیم ہے، جس پر شدید عوامی بحث جاری ہے۔ اس حصے میں مانع حمل طریقے، جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں اور جنسی تشدد جیسے موضوعات شامل ہیں۔

پولینڈ کی وزیر تعلیم
وزیر تعلیم مارچ کے آخر تک فیصلہ کریں گی کہ آیا صحت کی تعلیم کو لازمی بنایا جائے یا اختیاری ہی رکھا جائےتصویر: MEN

نظریاتی کشمکش کا میدان

پولینڈ میں تعلیم طویل عرصے سے نظریاتی کشمکش کا مرکز رہی ہے۔ 2015 سے 2023 تک برسرِ اقتدار رہنے والی عوامیت پسند جماعت لا اینڈ جسٹس پارٹی نے تعلیمی نظام میں ''حب الوطنی‘‘ اور ''روایتی اقدار‘‘ کو فروغ  دیا۔

مگر2023 کے آخر میں منتخب ہونے والی حکومت، جس کی قیادت ڈونلڈ ٹسک کر رہے ہیں، نے قانون کی بالادستی بحال کرنے اور تعلیمی اصلاحات کا وعدہ کیا۔

وزیر تعلیم باربرا نوواکا نے نہ صرف اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے بلکہ نصاب میں بھی تبدیلیاں کیں۔ اسی سلسلے میں صحت کی تعلیم کا نیا مضمون متعارف کرایا گیا، جس نے ماضی کے ''خاندانی زندگی کی تعلیم‘‘ کی جگہ لی ہے۔

چرچ اور قدامت پسندوں کی مخالفت

پولینڈ میں دائیں بازو کی جماعتوں اور کیتھولک چرچ نے اس نئے مضمون کی شدید مخالفت کی ہے۔ 2025 میں بشپس نے ایک خط میں حکومت پر الزام لگایا تھا کہ وہ بچوں کو ''بگاڑنے‘‘ کی کوشش کر رہی ہے اور جنسیات کو شادی اور خاندان کے تناظر سے الگ کر رہی ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اس مضمون کے خلاف مزاحمت کریں۔

کم شرکت، زیادہ تنازعہ

حکومت نے دباؤ کے تحت اس مضمون کو اختیاری قرار دے دیا اور والدین کو اجازت دی کہ وہ اپنے بچوں کو اس سے نکال سکتے ہیں۔ نتیجتاً صرف تقریباً 30 فیصد طلبہ اس مضمون کو پڑھ رہے ہیں جبکہ جنوب مشرقی علاقوں میں شرکت سب سے کم ہے جہاں چرچ اور دائیں بازو کا اثر زیادہ ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہر نفسیات اور جنسی تعلیم کی ماہر توشیا کوپیت کے مطابق یہ مضمون ''جدید اور وسیع دائرہ کار‘‘ رکھتا ہے اور نوجوانوں کے سوالات کے جواب دیتا ہے۔ انہوں نے کہا، ''بچوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان موضوعات پر بغیر شرمندگی کے بات کرنا سیکھیں۔‘‘

ایک اسکول کی پرنسپل، ماگدالینا ویلوگورسکا، کے مطابق، ''یہ مضمون انتہائی ضروری ہے۔ اس سے نوجوان اپنے جسم اور صحت کو بہتر سمجھتے ہیں۔‘‘

تیونس میں سیکس ایجوکیشن، ایک ممنوع موضوع

مستقبل کا فیصلہ

وزیر تعلیم مارچ کے آخر تک فیصلہ کریں گی کہ آیا صحت کی تعلیم کو لازمی بنایا جائے یا اختیاری ہی رکھا جائے۔

حامیوں کا کہنا ہے کہ بچوں کی بھلائی کو نظریاتی سیاست پر ترجیح دینی چاہیے، جبکہ مخالفین اسے ''جینڈر نظریہ‘‘ قرار دے کر مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ مضمون فی الحال برقرار ہے مگر 2027 کے انتخابات کے بعد اس کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ اگر قدامت پسند قوتیں دوبارہ اقتدار میں آتی ہیں، تو امکان ہے کہ اسے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔

اس طرح پولینڈ میں تعلیم ایک بار پھر سیاست، مذہب اور معاشرتی اقدار کے درمیان کشمکش کا مرکز بنی ہوئی ہے۔