1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اسلام آباد مذاکرات کے تناظر میں شہباز شریف کا سہ ملکی دورہ

جاوید اختر اے ایف پی اور روئٹرز کے ساتھ
15 اپریل 2026

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف آج بدھ کو سعودی عرب، قطر اور ترکی کے سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ ایران جنگ اور اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ امریکی ایرانی مذاکرات کے تناظر میں یہ دورہ انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/5CBy8
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف
سعودی عرب نے پاکستان کو تین بلین ڈالر کی مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے، جس کی ادائیگی آئندہ ہفتے متوقع ہےتصویر: Saudi Press Agency/REUTERS

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق سعودی عرب اور قطر کے دورے دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں ہوں گے، جہاں وزیر اعظم شہباز شریف سعودی اور قطری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور دوطرفہ تعاون کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

شہباز شریف ترکی بھی جائیں گے جہاں وہ پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے۔ اس موقع پر وہ دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ لیڈرز پینل میں شریک ہو کر پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔ شہباز شریف کی ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور دیگر اہم عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ امریکی ایرانی مذاکرات کے تناظر میں یہ دورے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

جنگ میں سیزفائر کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں اہم مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو ہوا تھا جو بنا کسی معاہدے کے ختم ہوا، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی رواں ہفتے اسلام آباد میں ہی منعقد ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس جانب اشارہ کر چکے ہیں۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف
سعودی عرب کی بروقت مالی معاونت پاکستان کو، خاص طور پر معیشت اور بیرونی کھاتوں کے حوالے سے، مستقبل کے لیے اہم اعتماد اور رفتار فراہم کرے گی تصویر: Saudi Press Agency/REUTERS

سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کے لیے مزید تین بلین ڈالر کی مدد

پاکستان کی سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کو تین بلین ڈالر کی مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے، جس کی ادائیگی آئندہ ہفتے متوقع ہے۔ پہلے سے موجود پانچ بلین ڈالر کے سعودی ڈیپازٹ کو اب سالانہ رول اوور کے سابقہ طریقہ کار کے بجائے طویل مدت کے لیے بڑھا دیا جائے گا۔

پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں گے اور بیرونی کھاتوں کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مارکیٹ کی ضروریات اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق مالی ذخائر برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

محمد اورنگزیب نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں میں دیگر ہم منصب شخصیات اور رہنماؤں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔ اورنگزیب ان دنوں واشنگٹن میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری خاص طور پر پاکستان کے حالیہ سفارتی کردار کو تسلیم کر رہی ہے جس کے ذریعے ان فریقین کے درمیان مکالمہ ممکن بنانے میں مدد ملی، جو دہائیوں سے آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت نہیں کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ عالمی پذیرائی اور سعودی عرب کی بروقت مالی معاونت پاکستان کو، خاص طور پر معیشت اور بیرونی کھاتوں کے حوالے سے، مستقبل کے لیے اہم اعتماد اور رفتار فراہم کرے گی ۔

ترکی کے صدر اردوان انطالیہ ڈپلومیسی فورم کو خطاب کرتے ہوئے
شہباز شریف ترکی بھی جائیں گے جہاں وہ پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گےتصویر: Khalil Hamra/AP Photo/picture alliance

متحدہ عرب امارات کو قرض کی ممکنہ واپسی

پاکستان رواں ماہ متحدہ عرب امارات کو ممکنہ طور پر 3.5 بلین ڈالر کا قرض واپس کرنے جا رہا ہے۔ لیکن اس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا اور آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو 2018ء میں دو بلین ڈالر کے ڈیپازٹس دیے گئے تھے جو گزشتہ آٹھ سالوں سے پاکستان کے پاس موجود ہیں اور وہ کئی بار رول اوور ہوئے تاہم گزشتہ سال دسمبر میں اسے سالانہ بنیادوں پر رول اوور کرنے کی بجائے متحدہ عرب امارات نے اسے قلیل مدت پر کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

رواں سال فروری میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے دو بلین ڈالر کو دو مہینوں کے لیے رول اوور کیا گیا جس کی مدت اپریل میں پوری ہو رہی ہے اور اب پاکستان کی جانب سے اسے واپس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس لیے پاکستان اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو ایک خاص سطح پر بحال رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور اب سعودی عرب کی طرف سے اس ضمن میں مدد کا اعلان سامنے آیا ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے منگل کے روز کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے باعث پاکستان کی معاشی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے لیے پاکستان میں معاشی شرح نمو کا تخمینہ کم کر کے 3.5 فیصد کر دیا ہے جبکہ ملک میں افراط زر کی شرح بڑھ کر 8.4 فیصد ہو جانے کا خدشہ ہے۔

بحرانوں کا شکار پاکستان: ذمہ دار کون، فوج یا سیاست دان؟

ادارت: مقبول ملک

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔