پاکستانی بحریہ کو جدید چینی آبدوزیں ملنے والی ہیں
30 اپریل 2026
یہ آبدوزیں چینی ساختہ جے-10 سی لڑاکا طیاروں کے علاوہ ہیں، جنہیں گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے تنازعے کے دوران پہلی بار عملی جنگ میں آزمایا گیا تھا۔
پاکستان اور چین طویل عرصے سے ایک دوسرے کے اتحادی ہیں اور اس تنازعے کے بعد سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ چینی ساختہ طیارے اس کے فضائی حملے کا حصہ تھے، جنہوں نے گزشتہ موسم گرما میں بھارت کے فرانسیسی ساختہ رافال لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا۔
چین کے شہر سانیا میں ان آبدوزوں میں سے پہلی آبدوز کو پاکستانی بحری بیڑے میں شامل کرنے کی ایک تقریب منعقد ہوئی، جس کا نام "ہانگور" رکھا گیا ہے۔ پاکستانی فوج کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس تقریب میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور ملکی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے شرکت کی۔
اس بیان میں آبدوزوں کی تعداد یا کوئی دیگر تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
پاکستانی بحریہ کے لیے ’سنگ میل‘
ایک پاکستانی سرکاری اہلکار نے بتایا کہ یہ بیڑا آٹھ آبدوزوں پر مشتمل ہوگا، جن میں سے چار چین میں تیار کر کے اسلام آباد کو فراہم کی جائیں گی، جبکہ باقی چار پاکستان میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کے پروگرام کے تحت تیار کی جائیں گی۔
اس اہلکار نے کہا، ''ہم مستقبل میں اپنی دفاعی پیداوار کے تحت ان کی برآمدات کی بھی پوزیشن میں ہوں گے۔‘‘
ایڈمرل نوید اشرف نے اسے ''بحری دفاع کو مضبوط بنانے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے بیڑے کو اپ گریڈ کرنے کے عمل میں ایک اہم سنگ میل‘‘ قرار دیا۔
ایڈمرل اشرف نے مزید کہا کہ ہانگور کلاس آبدوزیں جدید ترین ہتھیاروں، جدید سینسرز اور ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (ہوا کے بغیر چلنے والے نظام) سے لیس ہوں گی۔ یہ خطے میں بحری نظم و استحکام برقرار رکھنے اور جارحیت کی روک تھام میں اہم کردار ادا کریں گی۔
ان آبدوزوں کی فراہمی سے متعلق خبر ایسے وقت پر سامنے آئی ہے، جب پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں اپنے کئی میزائلوں کے نئے تجربات بھی کیے ہیں۔
ادارت: مقبول ملک