1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستانی بحریہ کو جدید چینی آبدوزیں ملنے والی ہیں

جاوید اختر روئٹرز کے ساتھ
30 اپریل 2026

ایک حکومتی اہلکار نے جمعرات کے روز بتایا کہ پاکستانی بحریہ کو جدید چینی آبدوزوں کا ایک بیڑا ملے گا۔ یہ اقدام ملکی بحری سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے بیجنگ کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کا حصہ ہے۔

https://p.dw.com/p/5D4vJ
چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی بحریہ اپنی بحری پریڈ میں حصہ لے رہی ہے جو چین کی  بحریہ کے قیام کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی ہے
چین کے شہر سانیا میں ان آبدوزوں میں سے پہلی آبدوز کو پاکستانی بحری بیڑے میں شامل کرنے کی ایک تقریب منعقد ہوئی(علامتی تصویر)تصویر: Mark Schiefelbein/AFP

یہ آبدوزیں چینی ساختہ جے-10 سی لڑاکا طیاروں کے علاوہ ہیں، جنہیں گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے تنازعے کے دوران پہلی بار عملی جنگ میں آزمایا گیا تھا۔

پاکستان اور چین طویل عرصے سے ایک دوسرے کے اتحادی ہیں اور اس تنازعے کے بعد سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ چینی ساختہ طیارے اس کے فضائی حملے کا حصہ تھے، جنہوں نے گزشتہ موسم گرما میں بھارت کے فرانسیسی ساختہ رافال لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا۔

چین کے شہر سانیا میں ان آبدوزوں میں سے پہلی آبدوز کو پاکستانی بحری بیڑے میں شامل کرنے کی ایک تقریب منعقد ہوئی، جس کا نام "ہانگور" رکھا گیا ہے۔ پاکستانی فوج کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس تقریب میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور ملکی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے شرکت کی۔

اس بیان میں آبدوزوں کی تعداد یا کوئی دیگر تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر ژوہائی میں 10 نومبر 2022 کو ہونے والے ایئرشو کے دوران چینی فضائیہ کے J-10 لڑاکا طیارے اپنی کرتب بازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں
چینی ساختہ جے-10 سی لڑاکا طیاروں کو گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے تنازعے کے دوران پہلی بار عملی جنگ میں آزمایا گیا تھاتصویر: Anadolu Agency/picture alliance

پاکستانی بحریہ کے لیے ’سنگ میل‘

ایک پاکستانی سرکاری اہلکار نے بتایا کہ یہ بیڑا آٹھ آبدوزوں پر مشتمل ہوگا، جن میں سے چار چین میں تیار کر کے اسلام آباد کو فراہم کی جائیں گی، جبکہ باقی چار پاکستان میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کے پروگرام کے تحت تیار کی جائیں گی۔

اس اہلکار نے کہا، ''ہم مستقبل میں اپنی دفاعی پیداوار کے تحت ان کی برآمدات کی بھی پوزیشن میں ہوں گے۔‘‘

ایڈمرل نوید اشرف نے اسے ''بحری دفاع کو مضبوط بنانے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے بیڑے کو اپ گریڈ کرنے کے عمل میں ایک اہم سنگ میل‘‘ قرار دیا۔

ایڈمرل اشرف نے مزید کہا کہ ہانگور کلاس آبدوزیں جدید ترین ہتھیاروں، جدید سینسرز اور ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (ہوا کے بغیر چلنے والے نظام) سے لیس ہوں گی۔ یہ خطے میں بحری نظم و استحکام برقرار رکھنے اور جارحیت کی روک تھام میں اہم کردار ادا کریں گی۔

ان آبدوزوں کی فراہمی سے متعلق خبر ایسے وقت پر سامنے آئی ہے، جب پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں اپنے کئی میزائلوں کے نئے تجربات بھی کیے ہیں۔

ادارت: مقبول ملک

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔