1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
اقتصادیاتپاکستان

پاکستان کے دفاعی بجٹ میں اب صوبے بھی حصہ دار

عاطف بلوچ اے ایف پی، روئٹرز کے ساتھ | ادارت | شکور رحیم
13 جون 2026

پاکستانی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ صوبوں کی جانب سے دی جانے والی مالی شراکت کو اس سال کے دفاعی بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب خطے میں جاری کشیدگی بجٹ سے متعلق فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

https://p.dw.com/p/5FLBs
پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے۔ یہ تصویر بارہ جون سن 2024 کی ہے
پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے بقول صوبوں کی شراکت کے لیے تین سالہ فریم ورک کی تیاری پر بات چیت جاری ہے، فائل فوٹوتصویر: Pakistan Finance Ministry Press Service/AP/picture alliance

پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ صوبوں کی جانب سے وفاقی اخراجات میں شراکت کو جزوی طور پر اس سال کے دفاعی بجٹ میں شامل کیا گیا ہے جبکہ تین سالہ تعاون کے فریم ورک پر بات چیت جاری ہے۔

پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ سال کے لیے یہ انتظام پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے، خاص طور پر علاقائی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے دفاعی بجٹ میں تقریبا 18 فیصد اضافہ کر کے اسے 10.79 ارب ڈالر تک پہنچا دیا ہے۔

پاکستانی وزیر خزانہ کے بقول صوبوں کی شراکت کے لیے تین سالہ فریم ورک کی تیاری پر بات چیت جاری ہے، جس کا مقصد مستقبل میں مالی نظم و نسق کو مزید مستحکم بنانا اور دفاعی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کرنا ہے۔

اس تین سالہ تعاون کے فریم ورک کی مکمل تفصیلات ابھی تک باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئی ہیں تاہم یہ واضح ہے کہ اس فریم کے منظور ہونے کے نتیجے میں پاکستان کے تمام صوبے آئندہ تین برسوں تک باقاعدہ طریقے سے وفاقی اخراجات بالخصوص دفاعی بجٹ میں اپنا حصہ ڈالیں گے تاکہ وفاق پر مالی دباؤ کم کیا جا سکے۔

وفاقی حکومت نے مالی سال 2027-2026 کے لیے ملکی دفاع کی مد میں تین ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جو گزشتہ سال کے 2.55 ہزار ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 17.65 فیصد زیادہ ہے۔

حکومت کے مطابق دفاعی بجٹ میں یہ اضافہ بھارت کے ساتھ جاری کشیدگی، افغان سرحد پر بگڑتی سکیورٹی صورتحال اور ملک کے اندر مسلسل جاری عسکریت پسندانہ سرگرمیوں کے پیش نظر فوج اور سکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

محمد اورنگزیب نے جمعے کے دن پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئے بجٹ کے تحت مجموعی اخراجات 18.77 کھرب روپے (67.49 ارب ڈالر) تک پہنچ جائیں گے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت آئندہ مالی سال کے لیے چار فیصد معاشی ترقی اور 8.2 فیصد مہنگائی کا ہدف رکھ رہی ہے تاہم قیمتوں کا دباؤ اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، خاص طور پر ان گھرانوں کے لیے جو پہلے ہی کئی سال سے مسلسل بڑھتی مہنگائی سے متاثر ہیں۔

افغان سرحد سے متصل پاکستانی علاقے چمن میں پاکستانی فوج کا ایک ٹینک، یہ تصویر ستائیس فروری سن 2026 کی ہے
وفاقی حکومت نے مالی سال 2027-2026 کے لیے ملکی دفاع کی مد میں تین ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، فائل فوٹوتصویر: Abdul Basit/AFP

یہ بجٹ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے منظور کردہ سات ارب ڈالر کے پروگرام کی شرائط کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، جس کے تحت حکومتی آمدنی میں اضافے، ٹیکسوں کا دائرہ بڑھانے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے مالی خسارے کو کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

جمعے کے دن ہی اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر درجنوں سرکاری ملازمین نے بجٹ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا۔

اسی دوران جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے قومی اسمبلی میں شور مچا کر اور وزیر خزانہ پر کاغذات پھینک کر احتجاج کیا، جس کے باعث انہیں بجٹ پیش کرتے ہوئے کئی بار رکنا پڑا۔

پاکستان کا نیا مالی سال یکم جولائی سے شروع ہو گا جبکہ پارلیمنٹ کے ارکان ان بجٹ تجاویز پر اسی ماہ کے آخر میں ووٹنگ کریں گے۔ پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد ہی صدر پاکستان آصف علی زرداری اس بجٹ پر دستخط کر کے اسے باقاعدہ قانونی شکل دیں گے۔