1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستشمالی امریکہ

پاکستان اقوام متحدہ میں روس کی مذمت کرے، یورپی یونین کی اپیل

بینش جاوید
1 مارچ 2022

یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفیروں نے پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ یوکرین پر روسی فوجی حملے کے باعث اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس وقت جاری خصوصی اجلاس میں روسی جارحیت کے خلاف ووٹ دے ۔

https://p.dw.com/p/47oI2
تصویر: Rahmat Gul/AP Photo/picture alliance

یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفیروں کے علاوہ برطانیہ، کینیڈا، جاپان، ناروے اور سوئٹزرلینڈ کے سفیروں کی جانب سے بھی مشترکہ طور پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ''ہم پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ روس کے اقدامات کی مذمت کرے اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے حق میں آواز اٹھائے۔‘‘

پاکستان نے پیر کے روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں ووٹ دینے سے گریز کیا تھا جہاں جنگ سے متعلق فوری بحث شروع کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ یہ اجلاس اب جمعرات تک ملتوی ہو چکا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ وہ روس اور یوکرین کے تنازعے کے مذاکراتی حل کے حق میں ہیں۔ پچیس فروری کو جب اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں یوکرین پر روسی حملے کے خلاف ایک مذمتی قرارداد پر رائے شماری ہوئی تھی، تو چین، بھارت اور متحدہ عرب امارات نے اپنی اپنی رائے محفوظ رکھی تھی۔

پاکستان کی اس معاملے پر پوزیشن کے حوالے سے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا تھا، ''پاکستان کو لگ رہا ہے کہ اگر اس نے کسی کی طرف داری کی، تو اس کو آگے جا کر نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ مشکل بھارت کی بھی ہے، جو امریکا کا اتحادی ملک ہے لیکن بھارت نے بھی روس کے خلاف ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا۔‘‘ زاہد حسین کہتے ہیں کہ پاکستان کو یوکرین پر روسی حملے کے حوالے سے واضح پوزیشن لینا چاہیے کیوں کہ پاکستان جارحیت کو سپورٹ نہیں کر سکتا۔ لیکن ساتھ ہی پاکستان کو ایسا بیان بھی دینا چاہیے، جو واضح کرے کہ پاکستان تمام ممالک کی خود مختاری اور سالمیت کا احترام کرتا ہے۔

بے گھر يوکرائنی شہری، پولش سرحد پر پناہ لينے پر مجبور

زاہد حسین کہتے ہیں کہ پاکستان اور یوکرین کے مابین اہم دفاعی تعلقات ہیں۔ ''پاکستانی فوج کو یوکرین کی جانب سے ساز و سامان سپلائی کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس بحران میں پاکستانی حکام یوکرینی حکام سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔‘‘

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان، جنہیں یوکرین پر روسی حملے کے وقت ماسکو میں موجود ہونے کی وجہ سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، کا کہنا ہے، ''میری حکومت کی خارجہ پالیسی خود مختار ہے اور چین اور روس کے میرے دورے مستقبل میں پاکستان کے لیے سود مند ثابت ہوں گے۔‘‘