1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
اقتصادیاتفرانس

ٹریکٹروں پرسوار فرانسیسی کسان احتجاج کرتے ہوئے پیرس میں داخل

مقبول ملک اے ایف پی، ڈی پی اے اور روئٹرز کے ساتھ
8 جنوری 2026

یورپی یونین کے جنوبی امریکی ممالک کے بلاک میرکوسر (Mercosur) کے ساتھ ایک حالیہ تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کرتے فرانسیسی کسانوں کی ایک بڑی تعداد ٹریکٹروں پر سوار جمعرات کے روز ملکی دارالحکومت پیرس میں داخل ہو گئی۔

https://p.dw.com/p/56Vo5
پیرس پہنچنے کے بعد ایک سڑک پر کسانوں نے ٹریکٹروں سے راستہ بند کر کے چند جگہوں پر جھاڑہوں کو آگ بھی لگا دی تھی
پیرس پہنچنے کے بعد ایک سڑک پر کسانوں نے ٹریکٹروں سے راستہ بند کر کے چند جگہوں پر جھاڑہوں کو آگ بھی لگا دی تھیتصویر: Thomas Samson/AFP/Getty Images

فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے جمعرات آٹھ جنوری کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق احتجاج کرنے والے یہ کسان اس بات پر ناراض ہیں کہ ان کے بقول یورپی یونین کا میرکوسر کے ساتھ کیا جانے والا حالیہ تجارتی معاہدہ ان کے لیے غیر صحت مند کاروباری مقابلے کی وجہ بنے گا۔

اس موقف کے برعکس پیرس حکومت نے، جس کی اس یورپی معاہدے کے طے پانے میں رضا مندی شامل تھی، واضح طور پر خبردار کر دیا تھا کہ ملکی کسان اپنے اس ''غیر قانونی‘‘ احتجاج سے باز رہیں۔

نیچر کی بحالی کے لیے یورپی پارلیمان کا تاریخی قانون کیا ہے؟

مگر اس حکومتی تنبیہ کے باوجود ملکی کسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے مختلف شہروں سے ٹریکٹروں پر سوار ہو کر نہ صرف پیرس کا رخ کیا بلکہ آج جمعرات کے روز وہ فرانس کے اس سب سے بڑے شہر میں داخل بھی ہو گئی۔

پیرس کی ایک سڑک جسے احتجاجی کسانوں نے اپنے ٹریکٹروں سے بند کر رکھا ہے
پیرس کی ایک سڑک جسے احتجاجی کسانوں نے اپنے ٹریکٹروں سے بند کر رکھا ہےتصویر: Gonzalo Fuentes/REUTERS

احتجاج کا انتظام کس نے کیا؟

فرانس میں کسانوں کے اس احتجاج کا انتظام ان کی ملکی تنظیم نے کیا ہے، جو دیہی کنفیڈریشن یونین کہلاتی ہے۔ اس تنظیم کے احتجاجی ارکان میں سے درجنوں ٹریکٹروں پر سوار بہت سے کسان جمعرات کی صبح طلوع آفتاب سے پہلے ہی پیرس میں داخل ہو گئے تھے اور انہوں نے کچھ دیر کے لیے اس شہر کی بین الاقوامی سطح پر پہچان بن چکے مقامات میں سے آئفل ٹاور اور فتح کی محراب والے علاقوں میں قیام بھی کیا۔

کسانوں کا احتجاج، یورپی یونین کی گرین فارمنگ پالیسیاں کھٹائی میں

دیہی کنفیڈریشن یونین میں شامل فرانسیسی کسانوں کی مختلف علاقائی تنظیموں میں سے ایک کے شریک سربراہ لوڈووچ دوکلو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ''ہم نے کہا تھا کہ ہم احتجاج کرتے ہوئے پیرس جائیں گے، اور ہم پیرس آ گئے ہیں۔‘‘

علی الصبح پیرس شہر میں داخل ہونے والے کسانوں کے ٹریکٹروں پر کئی نعرے بھی لکھے ہوئے تھے۔ ان میں یہ نعرہ بھی شامل تھا، ''میرکوسر ٹریڈ ڈیل نامنظور۔‘‘

ایک ٹریکٹر پر لکھا گیا احتجاجی نعرہ: ’’یہ معاہدہ فرانسیسی زراعت کا قتل ہے‘‘
ایک ٹریکٹر پر لکھا گیا احتجاجی نعرہ: ’’یہ معاہدہ فرانسیسی زراعت کا قتل ہے‘‘تصویر: Gonzalo Fuentes/REUTERS

دیہی کنفیڈریشن یونین کے صدر بیرتراں وینتو کے مطابق آج کے احتجاج کے دوران شرکاء پیرس شہر کے علامتی طور پر انتہائی اہم مقامات پر اپنی آواز بلند کریں گے اور اگر ضروری ہوا تو پولیس کو گرفتاریاں بھی دیں گے۔

ان احتجاجی کسانوں کی طرف سے آج ہی پیرس میں فرانسیسی پارلیمان کے عمارت کے سامنے بھی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔  

میرکوسر ٹریڈ ڈیل میں ہے کیا؟

یورپی یونین نے جنوبی امریکی ممالک کے بلاک میرکوسر کے ساتھ جو تجارتی معاہدہ حال ہی میں بہت طویل مذاکرات کے بعد طے کیا، اس کے نتیجے میں اب دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی خطوں میں سے ایک کا قیام ممکن ہو گیا ہے۔

اس معاہدے کے تحت 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین سے لاطینی امریکہ کو زیادہ گاڑیاں، مشینری، وائنز اور سپرٹس برآمد کی جا سکیں گی۔

فرانسیسی کسانوں کا ملک گیر احتجاج

پیرس کی مشہور زمانہ ’فتح کی محراب‘ جسے کسانوں نے اپنے ٹریکٹروں سے بند کر دیا
پیرس کی مشہور زمانہ ’فتح کی محراب‘ جسے کسانوں نے اپنے ٹریکٹروں سے بند کر دیاتصویر: Sarah Meyssonnier/REUTERS

لیکن اس ٹرید ڈیل کے مخالف کچھ یورپی زرعی حلقوں، خاص کر فرانسیسی کسانوں کو خدشہ یہ ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے لاطینی امریکی خطے سے یورپی یونین میں سستی زرعی مصنوعات کی بھرمار ہو سکتی ہے، جو یورپی زرعی شعبے کے لیے بہت نقصان دہ بات ہو گی۔

اس سلسلے میں خاص طور پر فرانسیسی کسانوں کو خدشہ ہے کہ یورپی یونین کو بہت سستی زرعی مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک میں برازیل جیسا بڑا ملک اور اس کی ہمسایہ ریاستیں شامل ہو سکتی ہیں۔

پانی کی قلت کے سبب فرانسیسی ہسپانوی تنازعات، کسانوں پر غصہ

یورپی یونین کے میرکوسر بلاک کے ساتھ اس تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے میں 25 برس سے زائد کا مذاکراتی عرصہ لگا۔

میرکوسر بلاک میں جنوبی امریکہ کے برازیل، پیراگوائے، یوروگوائے اور ارجنٹائن جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ ان میں سے برازیل کی حیثیت زرعی شعبے کی بہت بڑی علاقائی طاقت کی ہے۔

ادارت: افسر اعوان

یورپی یونین کا سربراہی اجلاس اور کسانوں کا احتجاج

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔