ٹریکٹروں پرسوار فرانسیسی کسان احتجاج کرتے ہوئے پیرس میں داخل
8 جنوری 2026
فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے جمعرات آٹھ جنوری کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق احتجاج کرنے والے یہ کسان اس بات پر ناراض ہیں کہ ان کے بقول یورپی یونین کا میرکوسر کے ساتھ کیا جانے والا حالیہ تجارتی معاہدہ ان کے لیے غیر صحت مند کاروباری مقابلے کی وجہ بنے گا۔
اس موقف کے برعکس پیرس حکومت نے، جس کی اس یورپی معاہدے کے طے پانے میں رضا مندی شامل تھی، واضح طور پر خبردار کر دیا تھا کہ ملکی کسان اپنے اس ''غیر قانونی‘‘ احتجاج سے باز رہیں۔
نیچر کی بحالی کے لیے یورپی پارلیمان کا تاریخی قانون کیا ہے؟
مگر اس حکومتی تنبیہ کے باوجود ملکی کسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے مختلف شہروں سے ٹریکٹروں پر سوار ہو کر نہ صرف پیرس کا رخ کیا بلکہ آج جمعرات کے روز وہ فرانس کے اس سب سے بڑے شہر میں داخل بھی ہو گئی۔
احتجاج کا انتظام کس نے کیا؟
فرانس میں کسانوں کے اس احتجاج کا انتظام ان کی ملکی تنظیم نے کیا ہے، جو دیہی کنفیڈریشن یونین کہلاتی ہے۔ اس تنظیم کے احتجاجی ارکان میں سے درجنوں ٹریکٹروں پر سوار بہت سے کسان جمعرات کی صبح طلوع آفتاب سے پہلے ہی پیرس میں داخل ہو گئے تھے اور انہوں نے کچھ دیر کے لیے اس شہر کی بین الاقوامی سطح پر پہچان بن چکے مقامات میں سے آئفل ٹاور اور فتح کی محراب والے علاقوں میں قیام بھی کیا۔
کسانوں کا احتجاج، یورپی یونین کی گرین فارمنگ پالیسیاں کھٹائی میں
دیہی کنفیڈریشن یونین میں شامل فرانسیسی کسانوں کی مختلف علاقائی تنظیموں میں سے ایک کے شریک سربراہ لوڈووچ دوکلو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ''ہم نے کہا تھا کہ ہم احتجاج کرتے ہوئے پیرس جائیں گے، اور ہم پیرس آ گئے ہیں۔‘‘
علی الصبح پیرس شہر میں داخل ہونے والے کسانوں کے ٹریکٹروں پر کئی نعرے بھی لکھے ہوئے تھے۔ ان میں یہ نعرہ بھی شامل تھا، ''میرکوسر ٹریڈ ڈیل نامنظور۔‘‘
دیہی کنفیڈریشن یونین کے صدر بیرتراں وینتو کے مطابق آج کے احتجاج کے دوران شرکاء پیرس شہر کے علامتی طور پر انتہائی اہم مقامات پر اپنی آواز بلند کریں گے اور اگر ضروری ہوا تو پولیس کو گرفتاریاں بھی دیں گے۔
ان احتجاجی کسانوں کی طرف سے آج ہی پیرس میں فرانسیسی پارلیمان کے عمارت کے سامنے بھی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
میرکوسر ٹریڈ ڈیل میں ہے کیا؟
یورپی یونین نے جنوبی امریکی ممالک کے بلاک میرکوسر کے ساتھ جو تجارتی معاہدہ حال ہی میں بہت طویل مذاکرات کے بعد طے کیا، اس کے نتیجے میں اب دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی خطوں میں سے ایک کا قیام ممکن ہو گیا ہے۔
اس معاہدے کے تحت 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین سے لاطینی امریکہ کو زیادہ گاڑیاں، مشینری، وائنز اور سپرٹس برآمد کی جا سکیں گی۔
فرانسیسی کسانوں کا ملک گیر احتجاج
لیکن اس ٹرید ڈیل کے مخالف کچھ یورپی زرعی حلقوں، خاص کر فرانسیسی کسانوں کو خدشہ یہ ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے لاطینی امریکی خطے سے یورپی یونین میں سستی زرعی مصنوعات کی بھرمار ہو سکتی ہے، جو یورپی زرعی شعبے کے لیے بہت نقصان دہ بات ہو گی۔
اس سلسلے میں خاص طور پر فرانسیسی کسانوں کو خدشہ ہے کہ یورپی یونین کو بہت سستی زرعی مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک میں برازیل جیسا بڑا ملک اور اس کی ہمسایہ ریاستیں شامل ہو سکتی ہیں۔
پانی کی قلت کے سبب فرانسیسی ہسپانوی تنازعات، کسانوں پر غصہ
یورپی یونین کے میرکوسر بلاک کے ساتھ اس تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے میں 25 برس سے زائد کا مذاکراتی عرصہ لگا۔
میرکوسر بلاک میں جنوبی امریکہ کے برازیل، پیراگوائے، یوروگوائے اور ارجنٹائن جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ ان میں سے برازیل کی حیثیت زرعی شعبے کی بہت بڑی علاقائی طاقت کی ہے۔
ادارت: افسر اعوان