ویتنام کشتی الٹنے کا واقعہ، 38 ہلاکتیں، تلاش کا کام جاری
وقت اشاعت 20 جولائی 2025آخری اپ ڈیٹ 20 جولائی 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
ویتنام کشتی الٹنے کا واقعہ، 38 ہلاکتیں، تلاش کا کام جاری
کامچاٹکا میں زلزلے:پیسیفک خطے میں ہائی الرٹ
ہانگ کانگ میں طوفانی بارش: ہوائی سفر اور ٹرانسپورٹ مفلوج
ادارت: افسر اعوان
ٹائیفون وِیفا کی یلغار: ہانگ کانگ میں طوفانی بارش، ہوائی سفر اور ٹرانسپورٹ مفلوج
ہانگ کانگ اتوار کے روز ٹائیفون وِفا کی زد میں آگیا جس نے وہاں کا نظام زندگی درہم برہم کر دیا۔ 167 کلومیٹر فی گھنٹہ (103 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں اور شدید بارش نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
موسمیاتی حکام نے اتوار کی شام چار بجے کے بعد ٹائیفون کا انتباہی سگنل 10 سے کم کر کے 8 کر دیا، جو شہر میں خطرے کی بلند ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔ یہ سگنل تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہا، جبکہ صرف تین گھنٹوں میں 110 ملی میٹر (4 انچ) سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی۔
طوفان کے باعث:
400 سے زائد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں
عوامی ٹرانسپورٹ میں شدید خلل پیدا ہوا
سینکڑوں درخت جڑ سے اکھڑ گئے
تعمیراتی مقامات کو نقصان پہنچا
شہر کی آبزرویٹری کے مطابق، بارش کا زیادہ تر زور شمالی علاقوں میں رہا، جہاں نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ ایمرجنسی سروسز الرٹ پر ہیں۔
کامچاٹکا میں زلزلوں کے بعد سونامی کا خطرہ: پیسیفک خطے میں ہائی الرٹ
روس کے مشرقی جزیرہ نما کامچاٹکا میں اتوار کے روز آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد پیسیفک سونامی وارننگ سنٹر نے سونامیکی وارننگ جاری کی ہے، جس سے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق، کامچاٹکا میں پہلا زلزلہ 6.7 شدت کا تھا، جس کے چند منٹ بعد دوسرا، زیادہ شدید زلزلہ آیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.4 ریکارڈ کی گئی۔ یہ زلزلہ سطح زمین سے 20 کلومیٹر (12 میل) کی گہرائی میں ریکارڈ کیا گیا اور اس کا مرکز پیٹروپاولوسک کامچٹسکی شہر سے 144 کلومیٹر (89 میل) مشرق میں تھا۔ اس شہر کی آبادی تقریباً 1,80,000 نفوس پر مشتمل ہے۔
ابتدائی طور پر پیسیفک سونامی وارننگ سنٹر PTWC نے خبردار کیا کہ زلزلے کے نتیجے میں سونامی کی بڑی لہریں پیدا ہو سکتی ہیں، تاہم بعد میں وارننگ کو کم کرتے ہوئے کہا گیا کہ ممکنہ لہریں ایک میٹر (تقریباً 3.3 فٹ) تک بلند ہو سکتی ہیں۔
دریں اثناء روس کی ہنگامی وزارت نے کامچاٹکا میں آنے والے دوسرے زلزلے کے بعد سونامی کی وارننگ جاری کی ہے اور ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو ساحل سے دور رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یاد رہے کہ 1952ء میں اسی علاقے میں 9.0 کی شدت کے زلزلے کے بعد 30 فٹ بلند سونامی لہریں آئیں تھیں، جو جزیرہ ہوائی تک پہنچی تھیں، تاہم اس وقت بھی کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔
ویتنام: کشتی الٹنے کا واقعہ، 38 ہلاکتیں، ایک زندہ بچ جانے والے کی کہانی
ویتنام کے مشہور سیاحتی مقام ہا لانگ بے میں ہفتے کے روز پیش آنے والے کشتی حادثے میں کم از کم 38 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ پانچ افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ حادثے کے وقت کشتی پر 48 مسافر اور عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔
حادثے میں زندہ بچ جانے والے ڈانگ انہ توان نے بتایا کہ مسافروں نے عملے سے بارش اور خراب موسم کے پیش نظر کشتی واپس ساحل کی طرف لے جانے کی درخواست کی تھی، لیکن عملے نے انہیں یقین دلایا کہ وہ اپنی منزل کے قریب ہیں اورکشتی کو آگے بڑھاتے رہے۔
36 سالہ سیلز مین ڈانگ انہ توان نے، جو آگ بجھانے والے آلات بیچتے ہیں، آنکھوں دیکھا حال ایسو سی ایٹڈ پریس کو بتاتے ہوئے کہا، ’’تقریباً 15 منٹ تک بارش ہوتی رہی، پھر کشتی زور سے ہلنے لگی، میزیں اور کرسیاں ادھر اُدھر لڑھکنے لگیں، اور چند ہی لمحوں میں کشتی الٹ گئی۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’پانی کشتی کے اندر داخل ہوا، میں نے سانس لینے کی کوشش کی لیکن مزید پانی اندر آگیا۔ میں نے اپنی لائف جیکٹ اتاری، نیچے غوطہ لگایا اور روشنی کی ایک لکیر کا پیچھا کرتے ہوئے باہر نکل آیا۔‘‘
توان اور تیندیگر افراد نے الٹی ہوئی کشتی سے چمٹے رہ کر جان بچائی۔ وہ دو گھنٹے تک بارش رکنے اور امداد پہنچنے کا انتظار کرتے رہے۔
ایک ویتنامی آن لائن اخبار وی این ایکسپریس کے مطابق، امدادی کارکنوں نے 11 افراد کو بچایا، جن میں سے ایک زخمی ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ ایک 14 سالہ لڑکے کو چار گھنٹے بعد کشتی سے زندہ نکالا گیا۔
اخبار کے مطابق، حادثے کی وجہ تیز ہوائیں تھیں۔ زیادہ تر مسافر ہنوئی سے تعلق رکھنے والے سیاح تھے، جن میں تقریباً 20 بچے بھی شامل تھے۔
حکام نے امدادی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔