جرمنی میں بچوں کے جسم میں پلاسٹیسائزرز کی موجودگی کا انکشاف
15 مارچ 2026
جرمنی میں کیے گئے ٹیسٹوں میں انکشاف ہوا ہے کہ بچوں اور نوعمروں کے جسموں میں ممنوعہ پلاسٹیسائزرز کے آثار پائے گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ نے ممکنہ طور پر ان زہریلے کیمیکلز کے بارے میں کبھی نہ سنا ہو، لیکن یہ تقریباً ہر جگہ موجود ہوتے ہیں، حتیٰ کہ کپڑوں، کاسمیٹکس اور پیکنگ میٹیریئل میں بھی۔
پلاسٹیسائزر کیا ہیں؟
پلاسٹیسائزر کو عام الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ یہ وہ کیمیکلز ہوتے ہیں جنہیں پلاسٹک اور ربڑ میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ انہیں نرم اور آسانی سے موڑنے کے قابل بنایا جا سکے۔ یہ روزمرہ استعمال کی بے شمار اشیاءمیں پائے جاتے ہیں، مثلاً پلاسٹک کے پردے، پلاسٹک پیکنگ، پی وی سی کے رین کوٹ، گھروں میں استعمال ہونے والی لچکدار پائپس اور تاروں کی انسولیشن وغیرہ میں بھی۔
پلاسٹیسائزرز کو بعض اوقات فتھالیٹس بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کاسمیٹکس جیسے نیل پالش، لوشن اور شیمپو وغیرہ میں بھی موجود ہوتا ہے۔ پلاسٹیسائزرز ایسی مصنوعات کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں اور ان کی شکل و ساخت برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ لوشن اور کریم جیسی اشیاء کو پانی سے بچانے اور زیادہ دیر تک قابلِ استعمال بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
ان میں سے بعض پلاسٹیسائزرز کے استعمال اور مقدار پر یورپی یونین، امریکہ، کینیڈا اور جاپان میں صحت اور ماحول پر ممکنہ نقصان دہ اثرات کے باعث پابندی یا سخت پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، تاہم دنیا کے دیگر حصوں میں یہ اب بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں۔
جرمنی، بچوں میں پلاسٹیسائزر کی موجودگی
اگرچہ بچوں کے کھلونوں میں پلاسٹیسائزر کے استعمال پر سخت پابندیاں ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں جرمن محققین نے چھوٹے بچوں میں ایک ایسے پلاسٹیسائزر کی غیر معمولی زیادہ مقدار کا انکشاف کیا ہے، جو بہت سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
گزشتہ سال کے موسم بہار اور گرمیوں کے دوران جرمنی بھر سے 259 بچوں اور نوعمر افراد کے پیشاب کے نمونے لیے گئے۔ ان میں سے 92 فیصد نمونوں میں مونواین ہیکسل فتھالیٹ (MnHexP) نامی پلاسٹیسائزر پایا گیا۔ یہ مادہ پلاسٹیسائزر کے ٹوٹنے سے بنتا ہے۔
اس سے پہلے سن 2024 میں ہونے والی ایک تحقیق میں جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں دو سے چھ سال کے تقریباً 250 بچوں کے پیشاب کے نمونے لیے گئے تھے۔ ان میں سے تقریباً دو تہائی نمونوں میں یہی مادہ پایا گیا، جو تین سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً دس گنا زیادہ تھا۔
جرمنی کے وفاقی ادارے برائے ماحولیات (UBA) کی جانب سے قومی سطح پر کی گئی ایک تحقیق میں اس وقت بالغ افراد کی تقریباً ایک تہائی آبادی میں بھی اس کی موجودگی پائی گئی تھی۔ اس ادارے کے سربراہ ڈرک میسنر نے بتایا، ”حالیہ برسوں کے نتائج دیکھتے ہوئے ہمیں بچوں اور نوعمروں میں MnHexP کا ملنا تو اتنا حیران کن نہیں لگا، لیکن اتنے زیادہ نمونوں میں اس کی موجودگی اور بعض جگہوں پر اس کی بہت زیادہ مقدار واقعی حیران کن تھی۔"
کیا پلاسٹیسائزر صحت کے لیے نقصان دہ ہیں؟
ماہرین کے مطابق بعض بچوں میں MnHexP نامی مادے کی مقدار اتنی زیادہ تھی کہ صحت کے خطرےکو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم زیادہ تر بچوں میں اس کی مقدار اب بھی اس حد سے کم تھی جسے عام طور پر نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ مادہ اس وقت بنتا ہے جبDnHexP جلد یا سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ یورپی کیمیکل ایجنسی نے 2013ء سے اسے انتہائی تشویش ناک مادہ قرار دے رکھا ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق یہ مادے جسم کے ہارمون نظام میں مداخلت کر سکتے ہیں، جس سے نشوونما اور دیگر حیاتیاتی عمل متاثر ہو سکتے ہیں۔ کچھ تحقیقات کے مطابق طویل عرصے تک ان کے رابطے میں رہنے سے بچوں میں موٹاپا، ذیابیطس، بلند فشار خون اور اعصابی یا نظام تنفس سے جڑی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
متبادل کیا ہیں؟
ان خدشات کے باعث سائنس دان پودوں سے تیار کردہ پلاسٹیسائزرز پر تحقیق کر رہے ہیں، مثلاً گندم، مکئی، چاول یا ریپ سیڈ کے تیل سے بنے متبادل۔ تاہم یہ ابھی تک روایتی پلاسٹیسائزرز جتنے مؤثر نہیں ہیں اور ان کی تیاری کے مراحل پر لاگت بھی زیادہ آتی ہے۔
ان سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
ماہرین کے مطابق ایسی مصنوعات استعمال کرنا بہتر ہے جن پر "فتھالیٹ فری” لکھا ہو۔ اس کے علاوہ لکڑی کے کھلونے، شیشے یا دھات کے برتن استعمال کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ ان میں یہ کیمیکل موجود نہیں ہوتے۔
مارٹن کیوبلر