1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مہنگے سرکاری طیارے کی خریداری، پنجاب حکومت سوالات کی زد میں

25 فروری 2026

پاکستانی صوبہ پنجاب کی حکومت کی طرف سے ایک نئے اور مہنگے سرکاری ہوائی جہاز کی خریداری ان دنوں شدید تنقید کی زد میں ہے۔ اپوزیشن، ماہرین اور صحافتی حلقے اس فیصلے کی شفافیت اور ایسے لگژری جیٹ کی ضرورت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/59P4i
پاکستانی صوبہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز
پاکستانی صوبہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نوازتصویر: Arif Ali/AFP/Getty Images

اس وسیع تر تنقید کے باعث صوبائی حکومت مجموعی طور پر دفاعی پوزیشن اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ معاملہ بدھ 25 فروری کے روز پنجاب اسمبلی میں بھی زیر بحث آیا۔ اجلاس کے دوران حزب اختلاف کے ارکان نے احتجاجاً کاغذ کے ہوائی جہاز بنا کر اڑائے، جبکہ بعض ارکان نے اپنے اپنے مائیکروفونز پر کاغذی جہاز چپکا کر اس معاملے کی طرف توجہ مبذول کرائی۔

پنجاب میں مسلح پولیس مقابلے: سی سی ڈی کا موقف

اس موقع پر ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے حزب اختلاف کے قائد معین ریاض قریشی نے کہا کہ پنجاب کے ساڑھے بارہ کروڑ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس ہوائی جہاز کی خریداری کے لیے رقم کس مد سے ادا کی گئی اور اس خریداری کا اصل مقصد کیا ہے؟

ان کے بقول اگر یہ جہاز 'ایئر پنجاب‘ کے لیے خریدا گیا ہے، تو اس کا چارٹر کہاں ہے؟ انہوں نے کہا، ’’ایک ایسے وقت پر جب صنعتیں بند ہو رہی ہیں، زراعت بحران کا شکار ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور مہنگائی عروج پر ہے، ایک مہنگے لگژری طیارے کی خریداری عوامی ترجیحات سے متصادم دکھائی دیتی ہے۔ آخر عیاشی اور لگژری کی بھی کوئی حد ہونا چاہیے۔‘‘

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاریتصویر: AMNA YASEEN/AFP/Getty Images

صوبائی وزیر اطلاعات کی طرف سے وضاحت

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری سے چند روز قبل جب ایک پریس کانفرنس کے دوران اس حوالے سے سوال کیا گیا تھا، تو ان کا کہنا تھا کہ یہ جہاز 'ایئر پنجاب‘ کے قیام کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق اب تک نہ تو ایئر پنجاب کے کوئی عملی خد و خال واضح ہیں اور نہ ہی دنیا کی کسی کمرشل ایئر لائن میں حکومت کی طرف سے خریدے گئے طیارے جیسے کوئی لگژری بزنس جیٹ استعمال کیے جاتے ہیں۔

پاکستان: ’تحریک لبیک پاکستان‘ پر پابندی عائد

پاکستانی صحافی نوید چوہدری نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک پنجاب حکومت کی جانب سے اتنے مہنگے لگژری جیٹ کی خریداری کا کوئی واضح اور مؤثر جواز سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق یہ معلوم نہیں کہ خریداری کے لیے سمری کب تیار ہوئی، کس نے منظوری دی، خریداری کا طریقہ کیا تھا اور رقم کس مد سے ادا کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں جواب دہی کا احساس کمزور ہو چکا ہے، اسی لیے ایسے فیصلے کسی مؤثر احتساب کے خوف یا عمل کے بغیر سامنے آتے ہیں۔ نوید چوہدری کے مطابق سرکاری افسران کے لیے بے تحاشا مراعات، گاڑیاں اور دیگر سہولیات بھی اسی شاہ خرچی پر مبنی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔

مریم نواز کی ان کے والد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف، درمیان میں، اور موجودہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ایک تصویر
مریم نواز کی ان کے والد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف، درمیان میں، اور موجودہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ایک تصویرتصویر: K.M. Chaudary/AP/picture alliance

حکومت پر غلط ترجیحات کا الزام

پاکستانی تجزیہ کار محمد مالک نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ کفایت شعاری کے دعوے کرنے والی پنجاب حکومت نے ایک ایسے وقت پر گلف اسٹریم جی 500 جیسا لگژری طیارہ خریدا ہے، جب صوبے کے شہری شدید معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق غربت اور مہنگائی میں اضافے کے دور میں اس نوعیت کے اخراجات حکومت کی غلط ترجیحات کو ظاہر کرتے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس ہوائی جہاز کی خریداری کو خفیہ کیوں رکھا گیا، خریداری کا طریقہ کار کیا تھا، کس ایجنٹ کے ذریعے سودا طے پایا اور آخر اس سطح کے 'ٹاپ آف دا لائن‘ بزنس جیٹ کی فوری ضرورت کیوں پیش آئی؟ ان کے بقول خطے کے کسی دوسرے ملک میں کوئی صوبائی وزیر اعلیٰ اس طرح کا ہوائی جہاز استعمال نہیں کرتا۔

پنجاب نے تحریک لبیک پر پابندی کے لیے سمری وفاق کو بھجوا دی

پنجاب حکومت کے ذرائع کے مطابق گلف اسٹریم جی 500 ماڈل کا یہ طیارہ چند ہفتے قبل شمالی امریکہ سے لاہور پہنچا تھا اور تقریباً 40 روز تک شہر کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر گراؤنڈ رہا۔ بعد ازاں اس کی تزئین و آرائش کی گئی اور اس نے پاکستان میں اپنی پہلی پرواز چھ فروری کو لاہور سے ملتان تک کی۔ اس کے بعد یہ طیارہ مبینہ طور پر لاہور سے کوئٹہ، میانوالی اور سیالکوٹ بھی گیا۔
تاہم تاحال پنجاب حکومت نے اس ہوائی جہاز کی مکمل اور حتمی تفصیلات جاری نہیں کیں، البتہ اس کی قیمت تقریباً دس ارب روپے کے برابر بتائی جا رہی ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہتصویر: Farooq Naeem/AFP/Getty Images

’کم لاگت اور کم رینج والا طیارہ بھی کافی ہوتا‘

ریٹائرڈ بریگیڈیئر فاروق حمید خان، جو ایوی ایشن کے شعبے میں طویل تجربہ رکھتے ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ ہر جہاز کی ایک عملی عمر ہوتی ہے اور پچیس سال بعد اس کی دیکھ بھال اور تکنیکی معائنوں کی لاگت بڑھ جاتی ہے، تاہم موجودہ معاشی حالات میں اس درجے کے اسٹیٹ آف دی آرٹ طیارے کی خریداری کوئی موزوں فیصلہ نہیں۔
ان کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے سفری تقاضوں کو دیکھتے ہوئے کم لاگت اور کم رینج والا طیارہ بھی کافی ہو سکتا تھا، کیونکہ صوبائی وزیر اعلیٰ کے بیرون ملک دورے محدود ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ایئر فورس یا چارٹرڈ پروازوں سے بھی کام لیا جا سکتا تھا۔

گلف اسٹریم ایئرواسپیس کی ویب سائٹ کے مطابق جی 500 طیارہ ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے پرواز کرتے ہوئے ایک ہی فلائٹ میں 8,334 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں آرام کی سہولت موجود ہے اور اس کے مختلف ماڈلز میں آٹھ سے لے کر انیس افراد تک کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے۔

مریم نواز کی تشہیری مہم تنقید کی زد میں کیوں؟

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے ملیے!

رانا ثناءاللہ کا موقف

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اس حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ تمام وزرائے اعلیٰ کے پاس سرکاری جہاز موجود ہوتے ہیں اور یہ طیارہ پنجاب حکومت کی ملکیت ہے، نہ کہ کسی فرد واحد کی۔ ان کے مطابق پرانا جہاز پچیس سال سے استعمال میں تھا اور ڈالر کی بڑھتی قیمت کے باعث نئے جہاز کی لاگت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔

ادھر خیبر پختونخوا میں صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم نے بھی پنجاب حکومت کی جانب سے نئے ہوائی جہاز کی خریداری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت اب تک سیلاب متاثرین کو مکمل معاوضہ ادا نہیں کر سکی، ایسے میں اتنا مہنگا جہاز خریدنے کی ضرورت سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے پاس پہلے ہی ایک جیٹ اور دو ہیلی کاپٹر موجود ہیں، تو مزید فضائی سہولیات کی فوری ضرورت کیوں پیش آئی؟

پاکستان میں سوشل میڈیا پر بھی اس موضوع پر بحث جاری ہے۔ بعض صارفین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایک طرف پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو ''تقریباً دس ارب روپے‘‘ میں فروخت کیا گیا، تو دوسری جانب صرف ایک لگژری ہوائی جہاز کی قیمت گیارہ ارب روپے تک پہنچ رہی ہے۔

ادارت: مقبول ملک