1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مختلف شادیوں میں شریک تین بھارتی لڑکیوں کا ریپ کے بعد قتل

20 اپریل 2018

اپنے اپنے خاندانوں میں مختلف شادیوں میں شریک تین بھارتی لڑکیوں کو مبینہ جنسی زیادتیوں کے بعد قتل کر دیا گیا۔ بھارت میں لڑکیوں اور خواتین کے ریپ اور قتل کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات پر اس وقت شدید عوامی غصہ پایا جاتا ہے۔

https://p.dw.com/p/2wO8p
تصویر: Reuters/Sivaram V

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے جمعہ بیس اپریل کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ان میں سے ایک واقعے میں ایک نو سالہ لڑکی کو، جو ریاست اتر پردیش کے قصبے ایٹاہ میں شادی کی ایک تقریب میں شریک تھی، وہاں مہمانوں کے لیے کھانا پکانے کے لیے بلائے گئے مرد باورچیوں میں سے ایک نے پہلے مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔

 'اگر بیٹیاں زندہ بچیں گی تو انہیں پڑھائیں گے‘

جنسی زيادتی کے واقعات پر خاموشی، مودی تنقید کی زد میں

ایٹاہ پولیس کے سربراہ اجے بھادوریا نے بتایا کہ یہ ملزم اس بچی کو شادی کی اس تقریب سے کچھ دور ایک الگ تھلگ جگہ پر لے گیا تھا، جہاں اس نے پہلے تو اس نابالغ لڑکی پر جنسی حملہ کیا اور پھر اس کی جان لے لی۔

Indien Kaschmir Vergewaltigung und Tod einer Achtjährigen
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک آٹھ سالہ بچی کے ریپ اور قتل کے خلاف احتجاج کرتے بچےتصویر: Reuters/C. McNaughton

اس بچی کی لاش آج جمعے کو علی الصبح اسی جگہ سے ملی، جہاں اس جرم کا ارتکاب کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس ملزم کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔ طبی معائنے سے بھی ثابت ہو گیا ہے کہ بچی کو قتل کیے جانے سے قبل جنسی حملے کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

ایک اور ریپ، بھارت میں بڑھتے جنسی جرائم پر عوام کا غم و غصہ

کشمیری بچی کے ساتھ زیادتی کے ملزم عدالت میں پیش

ریاست اتر پردیش کے اسی علاقے میں ایک دوسرے واقعے میں بدھ اٹھارہ اپریل کی رات شادی کی ایک تقریب میں موجود ایک ٹینٹ سروس کمپنی کا ایک کارکن ایک سات سالہ بچی کو وہاں سے کچھ دور لے گیا، جہاں بعد میں اس نے اس لڑکی کو ریپ کرنے کے بعد قتل کر دیا۔ پولیس نے اس واقعے میں بھی تصدیق کر دی ہے کہ ملزم نے اس بچی کو قتل کرنے سے قبل اس کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی تھی۔

Indien Dorf Bezirk von Uttar Pradesh
ریاست اتر پردیش کا وہ گاؤں جہاں ایک رکن اسمبلی نے مبینہ طور پر ایک بچی کا گینگ ریپ کیاتصویر: DW/S. Mishra

اسی نوعیت کے ایک تیسرے واقعے میں بدھ 18 اپریل ہی کی رات وسطی بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ کے علاقے کبیردھم  میں بھی ایک شادی کی تقریب میں شامل ایک 11 سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔

آٹھ سالہ آصفہ کا ریپ اور قتل، بھارت سراپا  احتجاج

ریپ کے بدلے ریپ، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

مقامی پولیس کے مطابق اس جرم کے مرتکب ایک مبینہ 25 سالہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس نے یہ اعتراف بھی کر لیا ہے کہ اس نے پہلے اس لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور پھر اس کا سر ایک پتھر پر پٹخ پٹخ کر اسے قتل کر دیا۔

بھارت میں حالیہ دنوں اور ہفتوں کے دوران نابالغ بچیوں کے ریپ اور قتل کے جرائم میں واضح اضافہ اور تواتر دیکھا گیا ہے، جس پر عوامی سطح پر حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

آٹھ سالہ آصفہ کا ریپ اور قتل، بھارت سراپا احتجاج

ان تازہ گھناؤنے جرائم سے قبل ریاست اتر پردیش ہی میں حال ہی میں ایک 16 سالہ لڑکی کا گینگ ریپ بھی کیا گیا تھا، جس کا مبینہ ملزم حکمران سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والا ایک رکن اسمبلی تھا۔ اس کے علاوہ بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی اسی مہینے ایک آٹھ سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔

چار سالہ پاکستانی بچی پر جنسی حملہ اور قتل: دو ملزم گرفتار

’پاکستان گیارہ سے پندرہ برس کے بچوں کے لیے بہت پُرخطر‘

خود نئی دہلی میں ملکی حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق سن 2016 میں بھارت میں بچوں کے ریپ، ان پر جنسی حملوں اور ایسے ہی دیگر جرائم کے مجموعی طور پر 36 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں ایسے جرائم کی اصل تعداد پولیس کو رپورٹ کیے گئے ایسے جرائم سے متعلق سالانہ سرکاری ڈیٹا سے کہیں زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ایسے بہت سے جرائم رجسٹر ہی نہیں کیے جاتے۔

م م / ع ح ق / ڈی پی اے