1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

عمران خان  اہم  مُلکی معاملات پر کیا سوچ رکھتے ہیں ؟

27 جولائی 2018

اپنی جوانی میں پلے بوائے کہلائے جانے والے عمران خان اب مذہبِ اسلام کو پاکستانی معاشرے کا اہم حصہ مانتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/32B1P
Pakistan Cricket Kapitän Imran Khan
تصویر: Getty Images/AFP/S. Dupont

عمراں خان پاکستان کے کچھ اہم ترین معاملات پر کیا سوچ رکھتے ہیں ؟

سیاست میں فوجی  مداخلت

پاکستان میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے بلا واسطہ اور بالواسطہ طور پر  پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں اس ملک پر حکمرانی کی ہے۔ عمران خان پر انتخابات سے قبل یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ انہیں فوج کی حمایت حاصل ہے۔ خان ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ سیاست میں فوجی مداخلت سے متعلق بحث کو عمران خان یہ کہہ کر ختم کر دیتے ہیں کہ فوج پاکستان کا حصہ  ہی تو ہے۔

خواتین کے ساتھ سلوک

عمران خان عوامی سطح پر جرگوں کی تعریف کر چکے ہیں۔ تاہم انہی جرگوں نے ماضی میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی عائد رکھی ہے اور خواتین کو اپنے کسی مرد رشتہ دار کے گناہ کی پاداش میں برہنہ گاؤں میں پھرایا بھی ہے۔ عمران خان مغرب میں خواتین کے حقوق پر بات کرنے والوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ ان کی رائے میں مغرب نے ماں کے درجے کو گرا دیا ہے۔

توہین مذہب کے قوانین

خان نے کھل کر پاکستان کے توہین مذہب قوانین کی حمایت کی ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے نمائندہ تنظیموں اور اقلیتوں کا کہنا ہے کہ ان قوانین کے ذریعے ذاتی دشمنیوں کا بدلہ لیا جاتا ہے۔ توہین مذہب یا توہین رسالت کے مرتکب شخص کو پھانسی کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ اسی قانون کی وجہ سے پاکستان میں پورے گاؤں نذر آتش ہوچکے ہیں اور کئی لوگ جیل میں بھی ہیں۔

عسکریت پسندی

خان پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بہت بڑے حامی ہیں۔ ان کی رائے میں پاک افغان سرحد پر امریکی عسکری مداخلت کی وجہ سے پاکستانی طالبان پیدا ہوئے ہیں۔

امریکا کے ساتھ تعلقات

خان شروع سے ہی افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کے مخالف رہے ہیں۔ ان کی رائے میں پاکستان کے سابق حکمرانوں نے ملک کی خود مختاری کو اربوں ڈالر کے عوض فروخت کر دیا ہے۔ وہ واشنگٹن کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن برابری کی سطح پر۔

بھارت کے ساتھ تعلقات

خان کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن ان کی رائے میں مسئلہ کشمیر پر بات کیے بغیر دو جوہری طاقتوں کے درمیان تعلقات آگے نہیں بڑھائے جاسکتے۔ خان سمجھتے ہیں کہ عالمی سطح پر کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔

ب ج/ ص ح (اے پی)