ساتھیوں سمیت بنگلہ دیش لوٹ کر’سرینڈر کر دوں گی،‘ شیخ حسینہ
10 جولائی 2026
بنگلہ دیش میں طویل ترین مدت تک وزیر اعظم رہنے والی 78 سالہ شیخ حسینہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو ٹیلیفون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی عوامی لیگ کے دیگر رہنما دو سال قبل جس ملک سے نکلنے پر مجبور ہو گئے تھے، اب وہ اسی ملک واپس جا کر خود کو عدالت کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول اس اقدام سے یہ بھی واضح ہو گا کہ موجودہ بنگلہ دیش اپوزیشن کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتا ہے۔
شیخ حسینہ نے کہا، ''وطن واپسی پر مجھے گرفتار کیا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ قتل بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود مجھے واپس جانا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کو شدید دباؤ اور مظالم کا سامنا ہے۔ ''اگر موت آنی ہی ہے، تو میں چاہتی ہوں کہ وہ اپنی سرزمین پر آئے، جہاں میرے والدین دفن ہیں اور جہاں ان کا خون بہا تھا۔‘‘
معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ ایک بنگلہ دیشی عدالت کی طرف سے انہیں سزائے موت کا حکم سنائے جانے اور اپنی جماعت عوامی لیگ پر پابندی کے بعد بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
بھارت سے تعلقات پر بھی اثرات
ڈھاکہ میں وزیر اعظم کے طور پر شیخ حسینہ 2024 میں حکومت مخالف عوامی احتجاج کے بعد بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں، جس کے ساتھ ہی مختلف ادوار پر محیط ان کی تقریباً 20 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا تھا۔
بعد ازاں بنگلہ دیش کی جنگی جرائم کی عدالت نے نومبر میں ملکی طالب علموں کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے خلاف مبینہ خونریز کریک ڈاؤن کا حکم دینے کے الزام میں حسینہ کو ان کی عدم موجودگی میں سزائے موت سنا دی تھی۔ شیخ حسینہ اپنے خلاف ان الزامات کو مسترد کرتی ہیں۔
شیخ حسینہ نے کہا کہ انہوں نے اپنی بنگلہ دیش واپسی کے بارے میں کسی بھی غیر ملکی حکومت سے کوئی مشاورت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈھاکہ حکومت مسلسل بھارتی حکومت کو خطوط لکھ کر ان کی حوالگی کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن وہ خود اپنی مرضی سے وطن واپس جائیں گی۔
بنگلہ دیشی حکومت اور بھارتی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم بھارت نے اپریل میں کہا تھا کہ وہ بنگلہ دیشی حکومت کی شیخ حسینہ کی حوالگی سے متعلق درخواست کا جائزہ لے رہا ہے اور ڈھاکہ میں نئی حکومت کے ساتھ تعمیری تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
خیال رہے کہ نئی دہلی کی جانب سے شیخ حسینہ کو بھارت میں پناہ دیے جانے کے بعد سے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں نمایاں تناؤ آ چکا ہے، جبکہ ڈھاکہ حکومت کئی مرتبہ ان کی حوالگی کا مطالبہ کر چکی ہے۔
’عوام ہی فیصلہ کریں گے‘
شیخ حسینہ نے کہا کہ انہیں انصاف پر یقین ہے اور ان کے خیال میں عدالتی کارروائی شروع ہونے کے بعد عوام خود دیکھ سکیں گے کہ یہ مقدمہ کس حد تک غیر منصفانہ ہوتا ہے، اور وہ یہی بات ثابت کرنا چاہتی ہیں۔
شیخ حسینہ نے تاہم اعتراف کیا کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی ہر حکومت سے غلطیاں ہو سکتی ہیں، لیکن ان کے بقول کسی بھی حکومت کے اچھے یا برے اقدامات اور فیصلوں کا تعین کرنے کا حق صرف عوام کو حاصل ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا، ''میں نے اپنی جماعت سے کہا ہے کہ میں وطن واپس جا رہی ہوں، آپ سب بھی ایک دن واپس آئیں، ہم سب مل کر عدالت میں رضاکارانہ طور پر پیش ہوں گے۔‘‘
تاہم انہوں نے اپنی آئندہ وطن واپسی کی نہ تو کوئی حتمی تاریخ بتائی اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ وہ وطن لوٹ کر کس ملکی عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گی۔
ادارت: مقبول ملک