1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

خلیل زاد کے دورے کے دوران چار طالبان رہنما اسلام آباد میں

5 دسمبر 2018

افغانستان کے لیے خصوصی امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ طالبان کے مطابق خلیل زاد کی اسلام آباد میں موجودگی کے دوران طالبان کے چار سینئر رہنما بھی اسلام آباد میں موجود تھے۔

https://p.dw.com/p/39UI6
USA UN Botschafter Kandidat Zalmay Khalilzad
تصویر: AP

امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کو افغانستان میں جاری 17 سالہ جنگ کا ایک پر امن سیاسی حل تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انہوں نے منگل چار دسمبر کو اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ دوسری طرف قطر میں قائم طالبان کے دفتر کی جانب سے بتایا گیا ہے  کہ اس موقع پر طالبان کے چار رہنما بھی اسلام آباد میں موجود تھے۔ اس دفتر کے ایک اہلکار کے مطابق تاہم ان رہنماؤں کا یہ دورہ ذاتی نوعیت کا ہے۔ ان چار طالبان رہنماؤں میں ایک سابق سفیر اور ایک گورنر بھی شامل ہیں۔ اس اہلکار نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو یہ معلومات اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ديں کیونکہ اسے میڈیا سے گفتگو کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان اکثر واشنگٹن حکومت کو یہ باور کراتا رہتا ہے کہ طالبان پر اس کا اثر و رسوخ کچھ زیادہ نہیں ہے تاہم ماضی میں بھی ايسا ہو چکا ہے کہ پاکستان اس عسکریت پسند گروپ کے رہنماؤں کو خفیہ بات چیت کے لیے ملک میں بلاتا رہا ہے۔

طالبان کے ایک اہلکار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ قطر دفتر نے طالبان کے سعودی عرب میں سابق سفیر شاہ الدین دلاور،  صوبہ لوگر کے سابق گورنر ضیاء الرحمان مدنی، سابق سفارت کار سہیل شاہین اور صلاح حنفی کو اسلام آباد بھیجا۔ خیال رہے کہ ضیاء الرحمان مدنی طالبان کو فنڈنگ فراہم کرنے پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست پر ہیں۔

Taliban eröffnen Büro in Doha Qatar
قطر میں قائم طالبان کے دفتر کی جانب سے بتایا گیا ہے  کہ اس موقع پر طالبان کے چار رہنما بھی اسلام آباد میں موجود تھے۔تصویر: Reuters

یہ بات تو واضح نہیں ہو سکی کہ ان چار طالبان نے کس کس سے ملاقات کی ہے یا وہ کتنے دن پاکستان میں موجود رہیں گے تاہم امید یہی ہے کہ ان کے دورہ قطر میں ہونے والی مزید بات چیت کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ زلمے خلیل زاد رواں ماہ اسی سلسلے میں قطر جائیں گے۔

رواں برس ستمبر میں امریکا کی جانب سے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کیے جانے کے بعد سے زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں ایک ایسے امن معاہدے کے لیے تیز رفتار کوششیں شروع کر رکھی ہیں جو گزشتہ 17 برس سے جنگ کے شکار اس ملک میں امن و استحکام لا سکیں اور نتیجتاﹰ افغانستان میں تعینات امریکی فوجی وطن واپس جا سکیں۔ اس وقت قریب 15 ہزار امریکی فوجی افغانستان میں تعینات ہیں۔

ا ب ا / ع س (ایسوسی ایٹڈ پریس)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں