خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، جانشین غیر حاضر
وقت اشاعت 5 جولائی 2026آخری اپ ڈیٹ 5 جولائی 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
-
جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھیں گے، اسرائیلی فوجی سربراہ
-
وینزویلا زلزلہ: ہلاکتیں تقریباً 3 ہزار تک پہنچ گئیں
- نیٹو سمٹ کے لیے ٹرمپ کا دورہ ترکی، ایردوآن کیا چاہتے ہیں؟
- اسرائیلی وزیر اعظم جانتے ہیں کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے، امریکی صدر
- خامنہ ای کے تین بیٹوں کی نماز جنازہ میں شرکت، جانشین مجتبیٰ مگر منظر عام پر نہ آئے
- امریکن ڈریم واپس آ چکا ہے، صدر ٹرمپ
جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھیں گے، اسرائیلی فوجی سربراہ
اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے اتوار کے روز جنوبی لبنان میں واقع تاریخی بفورٹ قلعے کے اطراف تعینات فوجیوں کا دورہ کیا اور کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
اسرائیل کی فوج کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق زامیر نے فوجیوں سے کہا،’’اسرائیلی دفاعی فوج لبنانی سرزمین سے خطرات کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن انداز میں کارروائیاں جاری رکھے گی اور اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ فوری طور پر جارحانہ کارروائیوں کے لیے تیار ہے۔
اسرائیلی افواج نے اس تاریخی قلعے اور اس کے اطراف کے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اسرائیلی فوج اسے ایک اہم اسٹریٹجک مقام قرار دیتی ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس قلعے کے نیچے سرنگوں کا ایک نیٹ ورک دریافت کیا گیا، جو اسرائیلی حکام کے مطابق ایران نواز ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کے لیے سرحد کے قریب ایک محفوظ عسکری مرکز کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔
ایال زامیر نے کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودہ کارروائیاں اسرائیل اور لبنان کے درمیان حال ہی میں امریکی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان لڑائی کا مستقل خاتمہ ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا، ’’ہماری افواج یا اسرائیلی شہریوں کے خلاف کسی بھی خطرے کو فوری طور پر نشانہ بنایا جائے گا اور ختم کر دیا جائے گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ لبنانی فوج پر لازم ہے کہ وہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور علاقے کو حزب اللہ کے جنگجوؤں اور ان کے بنیادی ڈھانچے سے پاک کرے۔
اوپیک پلس اگست میں تیل کی پیداوار میں مزید اضافہ کرے گی
تیل پیدا کرنے والے ممالک پر مشتمل تنظیم اوپیک پلس (+OPEC ) کے سات ارکان نے تیل کی پیداوار کے کوٹے میں ایک بار پھر اضافے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے، جب خلیجی ممالک مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سعودی عرب، روس، عراق، کویت، قازقستان، الجزائر اور عمان کے وزرائے توانائی نے اتوار کے روز ورچوئل اجلاس میں شرکت کی اور فیصلہ کیا کہ اگست سن 2026 سے روزانہ 1 لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی تیل مارکیٹ میں لایا جائے گا۔
ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت تقریباً معطل ہونے کے باعث خلیجی ممالک کی تیل برآمدات شدید متاثر ہوئی تھیں، جس کے نتیجے میں انہیں پیداوار کم کرنا پڑی۔
اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2026 کی پہلی سہ ماہی اور مئی کے درمیان سعودی عرب، عراق اور کویت کی مشترکہ پیداوار میں تقریباً 60 لاکھ بیرل یومیہ کمی آئی تھی۔
تاہم 17 جون کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جس کے تحت مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس مفاہمتی معاہدے کے بعد خطے میں بحری تجارت آہستہ آہستہ بحال ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بتدریج معمول پر آ رہی ہے اور تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار کے بقول اس راستے سے یومیہ ایک کروڑ بیرل سے زیادہ تیل گزر رہا ہے تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کا ایک بڑا حصہ پہلے سے ذخیرہ شدہ تیل پر مشتمل ہے، جبکہ بند پڑی پیداوار کی مکمل بحالی میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سن 2027 میں عالمی منڈی میں تیل کی فراوانی کا امکان ہے، جس سے قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ادھر مئی میں متحدہ عرب امارات کی اوپیک پلس سے علیحدگی کے بعد تنظیم کو داخلی اتحاد برقرار رکھنے کا بھی چیلنج درپیش ہے۔
خامنہ ای کے تین بیٹوں کی نماز جنازہ میں شرکت، جانشین مجتبیٰ مگر منظر عام پر نہ آئے
امریکہ اور اسرائیل کے ایک مشترکہ فضائی حملے میں ہلاک کیے گئے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے تین بیٹوں نے اتوار کے روز تہران میں ان کے تابوت کے سامنے کھڑے ہو کر نماز جنازہ ادا کی، تاہم اپنے والد کے بعد اس اہم عہدے پر تعینات کیے جانے والے مجتبیٰ خامنہ ای نظر نہیں آئے۔
سرکاری ٹی وی کی نشر کردہ تصاویر میں مصطفیٰ، میثم اور مسعود خامنہ ای کو تہران کی امام خمینی گرینڈ مصلیٰ امام بارگاہ کے وسیع صحن میں رکھے گئے تابوتوں کے نزدیک نماز ادا کرتے دکھایا گیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے عوامی عقیدت اور انقلابی جذبے کے اظہار کے طور پر خامنہ ای کی تدفین کے سلسلے میں ایک ہفتے پر محیط بڑے جنازوں اور جلوسوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ ان تقریبات کے تحت ان کی میت کو عراق کے مقدس شیعہ مقامات پر بھی لے جایا جائے گا۔
سینئر ایرانی حکام اور غیر ملکی شخصیات کی تعزیت کے لیے ایک روز تک تابوت کو اندرونی ہال میں رکھا گیا تھا، جس کے بعد ہفتے کے روز اسے عوامی نمائش کے لیے باہر منتقل کیا گیا۔ ان کے ساتھ ان کی بیٹی، داماد، بہو اور 14 ماہ کی نواسی کے تابوت بھی رکھے گئے تھے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی اب تک نہ تو کوئی عوامی تصویر جاری کی گئی ہے اور نہ ہی وہ کسی تقریب میں دکھائی دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایرانی اہداف پر بمباری کے دوران، جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے دیگر افراد ہلاک ہوئے، مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے تھے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں ان کے چہرے کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ایک یا دونوں ٹانگوں پر بھی سنگین چوٹیں آئیں۔ تاہم ان خبروں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
وینزویلا زلزلہ: ہلاکتیں تقریباً 3 ہزار تک پہنچ گئیں، ریسکیو کارروائیاں اختتام کے قریب
وینزویلا میں 24 جون کو آنے والے دو شدید زلزلوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر اب تقریباً 2,954 ہو گئی ہے جبکہ بین الاقوامی امدادی ٹیمیں ملبے تلے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مزید 300 سے زائد اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس تباہی کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور عارضی کیمپوں یا سڑکوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ دسیوں ہزار افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
اگرچہ حکومت نے کوئی سرکاری تخمینہ جاری نہیں کیا تاہم اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلوں کے بعد تقریباً 50 ہزار افراد لاپتا ہو سکتے ہیں۔
لاطینی امریکہ کی حالیہ تاریخ کے بدترین زلزلوں میں شمار ہونے والی یہ قدرتی آفت دارالحکومت کراکس کے شمال میں واقع ساحلی علاقے لا گوائرا میں سب سے زیادہ تباہی کا باعث بنی، جہاں متعدد رہائشی عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو گئیں۔
زلزلوں کے دس دن بعد امدادی اور ریسکیو ٹیموں نے ممکنہ طور پر زندہ بچ جانے والے لاپتا افراد کی تلاش کا عمل سمیٹنا شروع کر دیا ہے، تاہم بہت سے خاندان اب بھی اپنے پیاروں کی لاشیں ملبے سے نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
امریکہ اور جنوبی امریکہ سے آنے والی کئی امدادی ٹیموں نے ہفتے کے روز اپنے آپریشنز ختم کرنے کی تیاری شروع کر دی۔
مقامی حکومت کو معاونت فراہم کرنے کی خاطر وینزویلا آنے والی لاس اینجلس کاؤنٹی فائر ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم نے کہا کہ تازہ ترین تلاش کے دوران زندگی کے کوئی آثار نہیں ملے جبکہ فلوریڈا اور ورجینیا کی ٹیمیں بھی واپسی کی تیاری کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق ان زلزلوں سے 6.7 ارب ڈالر کا مادی نقصان ہوا ہے، جو وینزویلا کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 6 فیصد کے برابر ہے۔ ان زلزلوں سے پہلے بھی وینزویلا کئی دہائیوں سے معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام کا شکار تھا، جس کے باعث ملک کا بنیادی ڈھانچہ اور صحت کا نظام کمزور ہو چکا تھا۔
نیٹو سمٹ کے لیے ٹرمپ کا دورہ ترکی، ایردوآن کیا چاہتے ہیں؟
7 اور 8 جولائی کو ترک صدر رجب طیب ایردوان کی میزبانی میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں فوجی اتحاد کے 32 رکن ممالک کے رہنما شریک ہوں گے۔
ناقدین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیٹو سربراہی اجلاس کے لیے انقرہ کا دورہ ترکی کو درجنوں جنگی طیاروں کے انجن حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے تاہم اس دوران ایف-35 طیاروں کے تنازعے کا حل نکلنے کا امکان کم ہے، جس کے باعث دونوں اتحادی ممالک کے تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔
گزشتہ ماہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ترکی کو F110 جیٹ انجنوں کی فراہمی اور ایف-35 پروگرام میں دوبارہ شمولیت کے حوالے سے صدر ایردوان کو ’’خوش‘‘ کر دیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیان کا غالب امکان یہ ہے کہ امریکہ ترکی کے KAAN اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کے لیے مطلوب تقریباً چالیس انجنوں کی فراہمی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کر دے گا۔
سن 2017 میں روسی S-400 میزائل دفاعی نظام خریدنے کی وجہ سے ترکی کو امریکہ کے ساتھ شدید اختلافات کا سامنا کرنا پڑا۔
واشنگٹن نے سن 2019 میں ترکی کو ایف-35 پروگرام سے خارج کر دیا تھا اور ایک سال بعد CAATSA کے تحت پابندیاں بھی عائد کر دیں، جس سے ترک دفاعی صنعت کے کئی منصوبے متاثر ہوئے۔ اس امریکی ایکٹ کے تحت ایسے ممالک پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، جو ایران، روس اور شمالی کوریا کے ساتھ دفاعی تعلقات قائم کریں گے
دوسری جانب ایف-35 پروگرام میں ترکی کی واپسی اب بھی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی کانگریس کی جانب سے CAATSA پابندیاں ختم کرنے کے لیے ترکی کو S-400 نظام سے دستبردار ہونا پڑ سکتا ہے لیکن اسے کسی تیسرے ملک کو فروخت کرنے کے لیے روس کی منظوری درکار ہو گی۔
امریکن ڈریم واپس آ چکا ہے، صدر ٹرمپ
امریکہ نے اپنے قیام کے 250 سال مکمل ہونے کا جشن شاندار آتش بازی اور فوجی فضائی مظاہروں کے ساتھ منایا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رات گئے قوم سے خطاب میں کہا کہ امریکن ڈریم واپس آ چکا ہے۔
واشنگٹن میں نیشنل مال پر منعقدہ ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پرجوش مجمعے سے کہا، ’’ہم ہمیشہ سب سے آگے رہیں گے۔ ہم کبھی اپنے ملک کو زوال کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔ ہم ہمیشہ بہترین رہیں گے۔‘‘
خراب موسم اور شدید گرج چمک کے باعث کچھ وقت کے لیے دارالحکومت میں منعقدہ مرکزی تقریب میں خلل بھی پڑا۔ تاہم موسم بہتر ہوا تو شاندار آتش بازی اور فضائی مظاہروں کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اسی طرح ملک کے مختلف حصوں میں بھی یوم آزادی کی خوشیاں شدید موسمی حالات میں منائی گئیں۔ ملک کے کئی علاقے گزشتہ چند دنوں سے سخت گرمی کی لہر کی لپیٹ میں تھے۔
ناقدین کے مطابق صدر ٹرمپ کے خطاب میں سیاسی رنگ بھی نمایاں رہا، جو عمومی طور پر یوم آزادی کے روایتی صدارتی خطابات سے مختلف قرار دیا جا رہا ہے۔ عام طور پر امریکی صدور اس موقع پر قومی یکجہتی کا پیغام دیتے ہیں لیکن ٹرمپ نے ایک بار پھر SAVE America Act نامی انتخابی بل کی حمایت کی، جسے کانگریس میں ان کی اپنی جماعت کے بعض ارکان کی جانب سے بھی مزاحمت کا سامنا ہے۔
انہوں نے امریکی آئین کی دوسری ترمیم کے تحت اسلحہ رکھنے کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا اور کمیونزم پر تنقید بھی دہرائی۔ واضح رہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل یہ دونوں باتیں ٹرمپ کے سیاسی بیانیے کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔
امریکہ میں شدید گرمی اور خراب موسم نے کئی تقریبات کو متاثر بھی کیا۔ بالخصوص کنیکٹیکٹ کے شہر ہارٹفورڈ اور پنسلوانیا کے شہروں ہیریس برگ اور ولکس بیری میں جشن منسوخ کر دیا گیا۔ بوسٹن میں آتش بازی اور کنسرٹ کے شرکاء کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ فلاڈیلفیا میں بھی انخلا کے احکامات جاری کیے گئے۔ نیویارک اور پٹسبرگ میں آتش بازی کی تقریبات منعقد ہوئیں تاہم ان کے اوقات تبدیل کر دیے گئے۔
نیتن یاہو جانتے ہیں کہ ’باس‘ کون ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو آئندہ ہفتے وائٹ ہاؤس کا دورہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے اور نیتن یاہو کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم جانتے ہیں کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے۔
ہفتے کے دن صدر ٹرمپ نیوز ویب سائٹ Axios کو بتایا، ’’ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ (نیتن یاہو) جانتے ہیں کہ باس کون ہے‘‘۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں متوقع ہے، جب دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کی کوششوں پر اختلافات کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔امریکہ اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی۔
ایک اسرائیلی عہدے دار نے Axios کو بتایا کہ اگلا ہفتہ شاید اس ملاقات کے لیے بہت جلدی ہو، کیونکہ ٹرمپ 7 اور 8 جولائی کو نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی کا دورہ کریں گے۔
اس اسرائیلی عہدے دار نے کہا، ’’ممکن ہے یہ ملاقات اس کے بعد والے ہفتے میں ہو۔‘‘ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی آخری ملاقات 11 فروری کو واشنگٹن میں ہوئی تھی۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے جمعے کے روز ٹیلی فون پر گفتگو کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ امریکہ میں ’’جلد‘‘ ہی ملاقات کریں گے۔
واشنگٹن حکومت اسرائیل کی سب سے قریبی اتحادی سمجھی جاتی ہے تاہم حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ نے کھلے عام نیتن یاہو پر تنقید بھی کی۔ یہ تنقید اس وقت سامنے آئی، جب لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں نے ایران کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو متاثر کرنے کا خدشہ پیدا کیا۔