1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

حکومت پاکستان کا سفری پابندیاں عائد کرنے کا اختیار بحال

29 اپریل 2026

پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کے ریاستی اختیار کو دوبارہ سے بحال کر دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ پہلے سے ہی محدود شہری آزادیوں پر مزید قدغن لگانے کا باعث بن سکتا ہے۔

https://p.dw.com/p/5Cz8f
بی ایس ایفکا سپاہی پاکستانی شہریوں کے پاسپورٹ چیک کر رہا ہے جب وہ بھارت سے روانہ ہونے کی تیاری کر رہے ہیں
بہت سے انسانی حقوق کے کارکن، صحافی اور یہاں تک کہ ان کے اہل خانہ بھی حکومت کی جانب سے لگائی گئی سفری پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیںتصویر: Anushree Fadnavis/REUTERS

تفصیلات کے مطابق، وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو معطل کردیا ہے جس نے حکومت کو شہریوں کے نام طویل مدتی سفری پابندیوں کی فہرست میں ڈالنے سے روک دیا تھا، وفاقی آئینی عدالت نے فی الحال حکومت کا وہ اختیار بحال کر دیا ہےجس کے تحت افراد کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جا سکتے ہیں اور پاسپورٹ منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے یہ فیصلہ پچھلے سال دسمبر میں ایک ڈی پورٹ ہونے والے شہری کی درخوست پر دیا تھا اور حکومت کو شہریوں کے پاسپورٹ کینسل کرنے یا ان پر سفری پابندیاں عائد کرنے سے روک دیا تھا۔ حکومت نے اس موقع پر یہ دلیل دی تھی کہ غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں۔ تاہم اس معاملے کا حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے جو کہ آئینی عدالت کیس سننے کے بعد دے گی لیکن حتمی فیصلے تک حکومت کا پابندیوں کا اختیار بحال ہو گیا ہے۔

پاکستان میں یہ بات متعدد بار سامنے آئی ہے کہ بہت سے لوگ جو ایسے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہے اور نہ ہی غیر قانونی ہجرت یا ملک بدری میں ملوث رہے ہیں، انہیں بھی بیرونِ ملک سفر سے روک دیا جاتا ہے۔ ان کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیے جاتے ہیں، جو ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے مختلف ہے کیونکہ اس لسٹ میں شامل افراد کے پاسپورٹ غیر فعال یا سرے سے منسوخ ہی کر دیے جاتے ہیں۔

صحافی مطیع اللہ جان کے مطابق ایسے فیصلوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور انہیں معاشرے میں اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور یہ قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے نہیں بلکہ ریاستی سطح پر قانون شکنی کو فروغ دینے کے لیے ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائیکورٹ نے پچھلے سال دسمبر میں ایک فیصلہ دیا تھا اور حکومت کو شہریوں کے پاسپورٹ کینسل کرنے یا ان پر سفری پابندیاں عائد کرنے سے روک دیا تھاتصویر: Faruq Azam/DW

راحت حاصل کرنا مشکل

بہت سے انسانی حقوق کے کارکن، صحافی اور یہاں تک کہ ان کے اہل خانہ بھی حکومت کی جانب سے لگائی گئی سفری پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں، اور حالیہ عرصے میں یہ بارہا رپورٹ کیا جا چکا ہے کہ یہ افراد اکثر عدالتوں سے ریلیف حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، جہاں کیسز میں تاخیر یا محدود پیش رفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایسے ہی ایک کیس کا شکار ایک صحافی سہراب برکت نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان کا نام اب بھی سفری پابندی کی فہرست میں ہے اور وہ سفر نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا، "میں بہت سے ایسے مقدمات کا سامنا کر رہا ہوں جو سچے نہیں ہیں اور میرے خلاف غلط طریقے سے بنائے گئے ہیں، اور میرا نام سفری پابندی کی فہرست میں بھی ڈال دیا گیا ہے۔ میں نے ان مقدمات میں ضمانت حاصل کر لی ہے جو مجھ پر اس مواد کی وجہ سے بنائے گئے جس کا میں براہِ راست ذمہ دار بھی نہیں ہوں، لیکن مجھے اپنا نام کلیئر کروانے کے لیے اب بھی جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔"

یہی صورتحال شاعر احمد فرہاد کی ہے جنہیں پہلے ان کی شاعری کی وجہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب انہیں متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔ فرہاد نے کہا، "میں نے مختلف ذرائع سے تصدیق کی ہے کہ میرا نام سفری پابندی کی فہرست میں شامل ہے۔ میرا سفر کا ارادہ تھا لیکن میں نے اسے منسوخ کر دیا کیونکہ مجھے ایئرپورٹ پر گرفتاری کا ڈر ہے۔ میں اپنا نام نکلوانے کے لیے عدالت میں کیس تو دائر کروں گا لیکن مجھے کامیابی کی امید بہت کم ہے۔"

پاکستانی صحافی مطیع اللہ جان
صحافی مطیع اللہ جان کے مطابق ایسے فیصلوں کو ایک ہتھیار کے طور پر معاشرے میں اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہےتصویر: Akhtar Soomro/REUTERS

عدالتیں بھی بہت زیادہ فعال نہیں

یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ لوگ ریاست کے ایسے اقدامات کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار کیوں ہیں۔ قانونی برادری سے وابستہ افراد کا خیال ہے کہ آئینی عدالت کے قیام اور حالیہ قانونی تبدیلیوں کے بعد بروقت ریلیف حاصل کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

نامور وکیل حامد خان کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت ایک آزاد فورم کے طور پر کام نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا، "اگرچہ پاکستان میں عدالتیں پہلے بھی بہت زیادہ فعال نہیں تھیں، لیکن وہ کسی حد تک ریلیف فراہم کر دیتی تھیں۔ مگر اب ہائی کورٹس یا سپریم کورٹ سے رجوع کرنے سے بھی آسانی سے ریلیف نہیں مل رہا، اور اس حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں کہ فیصلے کس طرح کیے جا رہے ہیں۔"

یہ تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے کہ نہ صرف آواز اٹھانے والے بلکہ بعض معاملات میں ان کے رشتہ دار بھی سفری پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک صحافی کے اہل خانہ، جو طویل عرصے سے سفری پابندیوں کا شکار ہیں، انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے ہائی کورٹ میں کیس دائر کر رکھا ہے، لیکن عدالت نے ابھی تک کوئی واضح حکم جاری نہیں کیا اور ان کے نام الزامات کی وضاحت کے بغیر سفری پابندی کی فہرست میں موجود ہیں۔

ادارت: جاوید اختر