1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بلوچستان کی پہلی سپورٹس جرنلسٹ

13 دسمبر 2020

مہک شاہد کو بلوچستان کی پہلی خاتون سپورٹس جرنلسٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس شعبے کو عموماﹰ مردوں کی مخصوص فیلڈ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں زیادہ تر فیلڈ ورک ہوتا ہے، جو ہجوم کے ساتھ سر انجام دینا پڑتا ہے۔

https://p.dw.com/p/3me8T
Pakistan Mehek Shahid, die erste weibliche Sportjournalistin von Belutschistan
تصویر: Sadeqa Khan

یہی وجہ ہے کہ صحافت کے دیگر اقسام کی بہ نسبت سپورٹس جرنلز م میں خواتین صحافیوں کی تعداد پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی ابھی کافی کم ہے۔ ایک مشکل اور نوآموز فیلڈ کو اختیار کرنے اور اس میں پیش آنے والے مسائل پر ڈی ڈبلیو اردو سے گفتگو کرتے ہوئے مہک کا کہنا تھا، ''مجھے سپورٹس خصوصاﹰ کرکٹ کا شوق بچپن سے ہے اور میں ورلڈ کپ کے میچز گھر والوں کے ساتھ بہت شوق سے دیکھا کرتی تھی۔‘‘

مہک شاہد نے بلوچستان یونیورسٹی سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹرز کرنے کے بعد سن 2018 میں اسپورٹس رپورٹنگ کی فیلڈ میں قدم رکھا تو ا نہیں اپنی فیملی خصوصا والدین کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔ وہ کہتی ہیں، ''اس کے باوجود بلوچستان کے قدامت پسند معاشرے میں لائیو فیلڈ ورک اور کوریج کرنا انتہائی مشکل کام تھا۔ مجھے بھی ابتدا میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی کو مرد کھلاڑیوں کے درمیان رپورٹنگ کرنے پر اعتراض تھا تو کسی کو میری آواز عجیب معلوم ہوتی تھی۔‘‘

Pakistan Mehek Shahid, die erste weibliche Sportjournalistin von Belutschistan
تصویر: Mehek Shahid

یہ بھی پڑھیے:

’اسفنکس آف بلوچستان‘ کی حقیقت کیا ہے؟

بلوچستان کی ساحلی پٹی پر مرجان کی چٹانیں

مہک کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک عشرے میں امن و  امان کی خراب  صورتحال کے باعث بلوچستان خصوصاﹰ کوئٹہ میں کھیلوں کی سرگرمیاں ختم ہوتی جا رہی تھیں لیکن اب اس پر کافی کام کیا جا رہا اور گزشتہ دو برسوں میں مقامی سطح  پر کھیل کے مقابلوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، ''لہذا اب مجھے بھی کام کرنے میں مزا آتا ہے۔ کوئٹہ  میں اسٹیڈیم  جا کر کسی میچ کی کوریج کرنا ایک مشکل کام اس لیے بھی ہے کیونکہ وہاں خواتین شائقین کی تعداد انتہائی کم ہو تی ہے۔‘‘ مگر  مہک ایک ٹرینڈ سیٹر بھی ہیں، جو  مقامی لڑکیوں اور خواتین کی سپورٹس میں دلچسپی بڑھانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی چاہتی ہیں کہ ان کی اپنی کہانی بھی بلوچستان کی تمام خواتین تک پہنچے۔

Pakistan Mehek Shahid, die erste weibliche Sportjournalistin von Belutschistan
تصویر: Mehek Shahid

مہک شاہد کا کہنا تھا، ''مجھے سپورٹ ایونٹ کور کرتے ہوئے تین سال کا عرصہ ہونے والا ہے، میں نے کسی میڈیا گروپ کا حصہ بننے کے بجائے اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے کوریج کو ترجیح دی۔‘‘ ان کے خیال میں اب ٹرینڈز تبدیل ہو رہے ہیں اور فری لانسر یا یوٹیوب چینل کے ذریعے زیادہ بہتر انداز میں کام کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس طرح متعلقہ میڈیا گروپ کی پالیسی یا دیگر پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ وہ لائیو کوریج سے ویڈیو ایڈیٹنگ تک سارا کام خود ہی کرتی ہیں اور پھر ان ویڈیوز کو اپنے فیس بک پیج اور یوٹیوب چینل کے ذریعے نشر کرتی ہیں۔ مہک اب تک کرکٹ اور فٹ بال میچز کی کوریج کر چکی ہیں اور سپورٹس جرنلزم میں زینب عباس ان کی آئیڈیل ہیں۔ 

مہک شاہد کا کہنا ہے کہ انہیں احساس ہے کہ بلوچستان میں خواتین کو ہر فیلڈ میں بہت زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ''عموماﹰ لڑکیوں کو گھر والے ہی سپورٹ نہیں کرتے۔ والدین کی سوچ ابھی قدامت پسند ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ بہت سی فیلڈز عورتوں کے لیے نہیں ہیں۔ اس کے بعد آپ کو گھر سے باہر بہت سے مسائل در پیش ہوں گے۔ دن رات ایسے لوگوں سے سامنا ہو گا، جو آپ کے آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے۔ ان سے بھی آپ اسی وقت نمٹ سکتی ہیں، جب آپ باہمت ہوں اور زندگی و مستقبل کے لیے ایک واضح  راہ متعین کر چکی ہوں۔ ‘‘

بلوچستان کے خانہ بدوش اور روایتی پتھر کی روٹی ’کاک‘