1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمن اداروں کو غیر ملکی ملکیت میں جانے سے روکنے کا منصوبہ

7 فروری 2019

جرمن وزیر اقتصادیات پیٹر آلٹمائر پر اپنی ’قومی صنعتی پالیسی 2030ء‘ بیان کرنے سے قبل ہی اس کا دفاع کرنے کے حوالے سے دباؤ بڑھ گیا تھا۔ حالانکہ ابھی تک اس بارے میں تمام تفصیلات سامنے نہیں آئی بھی نہیں تھیں۔

https://p.dw.com/p/3CtQ8
China Huawei 5G Netz
تصویر: picture-alliance/dpa/Z. Min

وفاقی جرمن وزیر اقتصادیات پیٹر آلٹمائر نے ملک کی صنعتی شعبے کو بہتر بنانے اور ٹیکنالوجی اور جدت پسندی میں بین الاقوامی مسابقت میں اضافے کے لیے ایک متنازعہ منصوبہ متعارف کرایا ہے۔ناقدین آلٹمائر پر تجارت میں ریاستی مداخلت کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ آلٹمائر نے ’قومی صنعتی پالیسی 2030ء‘ کو تفصیلی انداز میں بیان کیا ہے۔ اس پالیسی کے کچھ اہم حصے پہلے ہی گزشتہ ہفتے جرمن ذرائع ابلاغ تک پہنچ گئے تھے، جس کی باعث وزیر تحفظ تجارت اور سرکاری مداخلت کے دعوؤں کے دفاع پر مجبور ہو گئے۔

چین کی حیران کن ترقی اور انگُشت بہ دنداں مغربی ممالک

2030ء پلان ہے کیا؟

  •  سرکاری شعبے کو لازمی طور پر اختراعی شعبے کو تعاون فراہم کرنا ہو گا اور اہم ٹیکنالوجیز کو جرمنی اور یورپ لانے میں مدد کرنا ہو گی۔ نئی سماجی اور ماحولیاتی پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے کاروبار پر اٹھنے والے اخراجات کو کم کرنا ہو گا۔
  • مسابقت کے قانون پر مکمل طور پر نظر ثانی کی جائے تاکہ کسی خاص حالات میں جب ایک بڑی کمپنی عالمی سطح پر بہتر مقابلہ کر سکتی ہو تو دیگر چھوٹی کمپنیوں کے ایک دوسرے میں ضم ہونے کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔
  • جرمن اور یورپی کمپنیوں کے اعتماد میں لازمی طور پر اضافہ کیا جائے تاکہ وہ ٹیکنالوجی کے شعبے کی اہم کمپنیوں کو خرید سکیں۔
  • غیر معمولی حالات میں ریاست کو جزوی طور پر کاروباری اداروں کو قومیانے کی اجازت دینا ہو گی تا کہ بزنس کو کسی غیر ملکی سرمایہ کار کے ہاتھوں میں جانے سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
  • ایک سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا جائے تاکہ جزوی طور پر قومیائی گئی کمپنیوں کو تعاون فراہم کیا جا سکے۔ یہ تعاون محدود مدت کے لیے ہو گا۔

بجلی کے حساس جرمن شعبے میں داخلہ: برلن کا چین کو کھلا انکار

جرمن وزیر اقتصادیات آلٹمائر اب اپنی اس قومی پالیسی پر سیاسی جماعتوں اور تاجر تنظیموں کے ساتھ ساتھ بزنس کے شعبے کے نمائندوں سے بات چیت کریں گے۔ جرمن حکومت اس کے بعد ہی سامنے آنے والی نئی صنعتی حکمت عملی کو اپنا سکتی ہے۔

ع ا / ش ح (روئٹرز، ڈی پی اے)