1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایس پی طاہر کا قتل: سوالات کے جواب کون دے گا؟

عبدالستار، اسلام آباد
15 نومبر 2018

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پولیس افسر ایس پی طاہر داوڑ کی لاش کو افغان حکام نے پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔ لاش وصول کرنے والے پاکستانی وفد کی قیادت وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کر رہے تھے۔

https://p.dw.com/p/38KOM
Pakistan Leiche von Tahir Khan Dawa wurde den pakistanischen Behörden zurückgegeben
تصویر: picture-alliance/AP Photo/M. Anwar Danishyar

میت کی حوالگی کے بعد ان کی گمشدگی پر اٹھنے والے سوالات تو ختم ہو گئے ہیں لیکن ان کے قتل کے حوالے سے کئی نئے سوالات نے جنم لے لیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تحریکِ انصاف کی حکومت کو شرمندگی کا بھی سامنا ہے اور ان سوالات کے جوابات تلاش کرنا ان کے لیے ایک چیلنج بھی ہے۔
مقتول ایس پی طاہر کو طالبان مخالف پولیس آفیسر سمجھا جاتا تھا اور ان پر جنگجووں کی طرف سے دو حملے بھی ہو چکے تھے۔ ان کے کچھ رشتے داروں کو بھی حال ہی میں قتل کیا گیا تھا۔ داوڑ قبیلے سے تعلق رکھنے والے طاہر کو ستائیس اکتوبر کو اغواء کیا گیا تھا اوران کی کل بروز بدھ لاش افغانستان میں ملی تھی۔ ان کے قتل کی وزیرِاعظم پاکستان عمران خان، ڈی جی آئی ایس پی میجر جنرل عبدالغفور اور کئی سیاست دانوں نے بھرپور الفاظ میں مذمت کی۔
ایس پی طاہر کے قتل کی ذمہ داری ولایتِ خراسان نامی تنظیم نے قبول کر لی ہے۔ پولیس افسر کے اسلام آباد جیسے محفوظ شہر سے اغواء ہو جانا اور تقریبا اٹھارہ سو میں سے چھ سو نگرانی کے کیمروں کے کام نہ کرنے کا انکشاف بھی کئی حلقوں کے لئے باعثِ حیرت ہے۔ اس قتل نے وفاقی دارالحکومت سمیت پورے ملک میں سکیورٹی کے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ معروف تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی نے اس قتل پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’یہ بات صحیح ہے کہ ننگرہار میں داعش کی موجودگی ہے لیکن جس علاقے سے لاش ملی ہے، وہاں داعش موجود نہیں ہے۔ پھر یہ بھی نوٹ کرنے والی بات ہے کہ داعش اپنے خبر رساں ادارے عماق کے ذریعے کسی بھی کارروائی کا دعویٰ کرتی ہے لیکن ایس پی طاہر کے قتل کے حوالے سے ایسا کوئی دعویٰ ابھی تک نہیں کیا گیا۔ پھر جس طرح کی پشتو اس خط میں لکھی گئی ہے، جس میں ہلاکت کی ذمہ داری تسلیم کی گئی ہے، وہ بہت ہی بچگانہ ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ لکھنے والے نے کبھی پشتو پڑھی یا لکھی نہیں ہے۔ تو یہ وہ سارے سوالات ہیں، جن کے جوابات سامنے آنے چاہئیں۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے اس معاملے میں بالکل تعاون نہیں کیا، ’’پولیس نے اس معاملے میں ایسے کردار ادا کیا، جیسے کے وہ بالکل بے بس ہوں۔ ایسا لگتا تھا کہ ان کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں تھا۔ وہ صرف تسلیاں دیتے رہے۔‘‘
اس قتل پر سب سے زیادہ غصہ پختون قوم پرستوں میں پایا جاتا ہے، جو اس قتل کے پیچھے ایک گہری سازش دیکھ رہے ہیں۔ معروف پختون دانشور ڈاکڑ سید عالم محسود کے خیال میں یہ قتل پختونوں کی نسل کشی کے ایک نئے انداز کی طرف اشارہ کرتا ہے، ’’ایسا لگتا ہے کہ خطے میں ایک اور پراکسی جنگ ہونے جا رہی ہے، جس کا مرکز ایک بار پھر پختون سر زمین ہو گی۔ لہذا ایسے پختون رہنما اور افراد جو اس جنگ کی ممکنہ طور پر مخالفت کر سکتے ہیں، انہیں خاموش کیا جا رہا ہے۔ پہلے مولانا سمیع الحق کو قتل کیا گیا اور اب ایس پی طاہر، جو نہ صرف ایک پولیس افسر تھے بلکہ پختون شاعر بھی تھے، انہیں قتل کر دیا گیا ہے۔ ایک کو بحریہ ٹاون جیسے محفوظ علاقے میں قتل کیا گیا اور دوسرے کو اسلام آباد سے اغواء کر کے لاش افغانستان میں پھینکی گئی۔ ہمارے خیال میں اس قتل میں ریاستی عناصر دونوں طرح سے ملوث ہیں۔ اگر انہوں نے طاہر کو تحفظ نہیں دیا تو بھی وہ ذمہ دار ہیں اور اگر وہ اس کے اغواء کو روکنے میں ناکام ہوئے تو اس طرح بھی وہ ذمہ دار ہیں۔ اس قتل پر وزیر داخلہ، جو خود عمران خان ہیں، آئی ایس آئی چیف اور اسلام آباد کے پولیس سربراہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔‘‘
انہوں نے انکشاف کیا کہ ایس پی طاہر پشتون تحفظ موومنٹ کے ہمدرد بھی تھے، ’’آج سب پختون پی ٹی ایم کے ہمدرد ہیں۔ مولانا سمیع الحق بھی اس کے ہمدرد تھے جب کہ مولانا فضل الرحمان سمیت سارے پختون سیاست دان اور دانشور بھی اس کے ہمدرد ہیں۔ ایس پی طاہر نے اپنی شاعری میں پختون سر زمین کی تباہی و بربادی کا تذکرہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے پختونوں پر ڈھائے جانے والے ظلم وستم کے خلاف احتجاج کیا۔ ان کی کچھ نظموں کو گایا بھی گیا۔‘‘
سید عالم محسود کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ اگر یہ ذاتی دشمنی ہے، تو کوئی کسی کو افغانستان لے جا کر کیوں مارے گا، ’’اگر ذاتی دشمنی کا کیس ہوتا تو اسلام آباد میں ہی مار دیتا۔ تو اس قتل کے حوالے سے بہت سارے سوالات ہیں، جن کے جوابات ملنے چاہئیں۔‘‘
ٹویٹر پر بھی اس قتل پر خوب تبصرے ہو رہے ہیں۔ جب کہ کچھ تنظیمیں اس قتل کے خلاف مظاہروں کے بھی پروگرام بنا رہی ہیں۔ ٹویٹر پر ایمل ولی خان نے لکھا، ’’وزیرِاعظم جواب دو، طاہر داوڑ کا حساب دو۔‘‘ آزاد پشتون قبائل نے لکھا، ’’ہم چیئرمین سینیٹ کی اس بات کی مذمت کرتے ہیں، جس میں وہ ایس پی طاہر داوڑ کی فاتحہ خوانی میں حصہ لینے سے یہ کہہ کر انکار کر رہے ہیں کہ یہ تو روز روز ہوگا۔ روز روز ہم یہ نہیں کر سکتے۔ لیکن جب پشتونوں کے سروں پر ڈالرز لینے کا وقت آتا ہے، تو یہ لوگ بالکل بھی نہیں دیکھتے کہ یہ دن ہے کہ رات۔‘‘

Pakistan Leiche von Tahir Khan Dawa wurde den pakistanischen Behörden zurückgegeben
تصویر: picture-alliance/AP Photo/M. Sajjad