امریکی بحریہ 'قزاقوں‘ کی طرح کام کر رہی ہے، ٹرمپ
2 مئی 2026
فلوریڈا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ''ہم نے... اس (جہاز) پر اوپر سے لینڈ کیا اور جہاز پر قبضہ کر لیا۔ ہم نے اس کے سامان اور تیل پر قبضہ کر لیا۔ یہ ایک بہت ہی منافع بخش کاروبار ہے۔‘‘
انہوں نے مجمع کے شور و غل کے دوران مزید کہا، ''ہم قزاقوں کی طرح ہیں۔ ہم ایک طرح سے قزاقوں جیسے ہی ہیں، لیکن ہم کوئی کھیل نہیں کھیل رہے۔‘‘
امریکی بحری سرگرمیوں کا قزاقی سے ٹرمپ کا یہ موازنہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب قانونی ماہرین آبنائے ہرمز کی ایرانی ناکہ بندی اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے ایرانی منصوبوں پر خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر فضائی حملے شروع ہونے کے بعد تہران نے اس آبی گزرگاہ کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا تھا، جو تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔
آبنائے ہرمز کی ایرانی بندش کے جواب میں گزشتہ ماہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی ذمہ دار ''امریکی سینٹرل کمانڈ‘‘ نے کہا ہے کہ جمعہ تک اس نے ناکہ بندی کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے 45 بحری جہازوں کا رخ موڑا ۔
پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ نے اپریل میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ یہ ناکہ بندی ''جب تک ضرورت پڑی‘‘ جاری رہے گی، جبکہ اعلیٰ امریکی فوجی افسر جنرل ڈین کین نے کہا کہ اس کا اطلاق ''ایرانی بندرگاہوں کی طرف آنے یا وہاں سے جانے والے تمام جہازوں پر ہوگا، چاہے ان کی قومیت کچھ بھی ہو۔‘‘
دوسری جانب، ایران نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جب تک واشنگٹن اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے گا، وہ آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت برقرار رکھے گا۔
ادارت: عاطف بلوچ