ایران میں خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی باضابطہ اجازت
4 فروری 2026
گزشتہ قانون میں واضح طور پر خواتین کو موٹر سائیکل یا اسکوٹر چلانے سے منع نہیں کیا گیا تھا، لیکن عملی طور پر حکام لائسنس جاری کرنے سے انکار کر دیتے تھے۔ اس غیر واضح صورتحال کی وجہ سے، حادثات کی صورت میں خواتین کو قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جاتا تھا، خواہ وہ خود متاثرہ فریق ہی کیوں نہ ہوں۔
ایران کی 'النا‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے منگل کو ٹریفک کوڈ کی وضاحت کے مقصد سے ایک قرارداد پر دستخط کیے، جس کی منظوری ایرانی کابینہ نے جنوری کے آخر میں دی تھی۔ النا کے مطابق، یہ قرارداد ٹریفک پولیس کو پابند کرتی ہے کہ وہ ''خواتین درخواست گزاروں کو عملی تربیت فراہم کرے، پولیس کی براہ راست نگرانی میں امتحان منعقد کرے، اور خواتین کو موٹر سائیکل ڈرائیونگ لائسنس جاری کرے۔‘‘
یہ تبدیلی ایران بھر میں ہونے والے مظاہروں کی لہر کے بعد آئی ہے، جن کا آغاز شروع میں معاشی شکایات سے ہوا تھا لیکن پھر وہ ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہو گئے۔ تہران نے اعتراف کیا ہے کہ ان ہنگاموں کے دوران 3,000 سے زائد اموات ہوئیں، تاہم اس کا اصرار ہے کہ ان میں سے زیادہ تر سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور راہگیر تھے۔
33 سالہ سائنہ، جو ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کی ملازمہ ہیں اور چھ ماہ سے اسکوٹر استعمال کر رہی ہیں، ان کے لیے ٹریفک قوانین میں یہ تبدیلی ''بہت دیر‘‘ سے آئی ہے کیونکہ ''خواتین مہینوں سے موٹر سائیکلیں چلا رہی ہیں۔‘‘ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، ''مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے معاشرے کا اصل مسئلہ یہی ہے۔‘‘ ان کا اشارہ حالیہ احتجاج اور ایران کے معاشی چیلنجز کی طرف تھا۔
1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران میں خواتین کو کئی سماجی پابندیوں کا سامنا رہا ہے، جہاں لباس کے ضوابط موٹر سائیکل چلانے والوں کے لیے ایک چیلنج بنے رہے ہیں۔ خواتین کے لیے عوامی مقامات پر سر کو اسکارف سے ڈھانپنا اور باپردہ، ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننا لازمی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں کئی خواتین نے ان قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، اور گزشتہ چند مہینوں میں موٹر سائیکل سوار خواتین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
اس رجحان میں 2022 میں مہسا امینی کی دورانِ حراست موت کے بعد تیزی آئی، جو ایک نوجوان ایرانی خاتون تھیں، جنہیں مبینہ طور پر ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی موت نے ایران بھر میں خواتین کے احتجاج کو جنم دیا جنہوں نے مزید آزادیوں کا مطالبہ کیا۔
ادارت: جاوید اختر