1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتپاکستان

ایران سے کشیدگی پر پاکستان میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس

19 جنوری 2024

نگراں وزیر اعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں تینوں مسلح افواج اور خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان شامل ہوں گے۔ اجلاس کا مقصد ایران اور پاکستان کے مابین حالیہ واقعات کے بعد قومی سلامتی کا وسیع جائزہ لینا ہے۔

https://p.dw.com/p/4bRmq
Pakistan Islamabad House of the Prime Minister
تصویر: Creative Commons

پاکستان کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی کا ایک ہنگامی اجلاس آج جمعے کے  روز منعقد ہو رہا ہے۔ اس اجلاس کا مقصد ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد ملکی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا جائے۔

تہران کی جانب سے پاکستان کے اندر "دہشت گردوں کے اہداف" کو نشانہ بنانے کے دو دن بعد اسلام آباد نے جمعرات کو ایران میں باغیوں پر حملوں  کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان کے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اجلاس میں ملک کے طاقتور آرمی چیف اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان بھی شرکت کریں گے۔

Arif Alvi
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فوجی قیادت بھی شریک تصویر: W.K. Yousufzai/AP/picture alliance

پاکستانی نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس کا مقصد ''ایران اور پاکستان کے مابین حالیہ واقعات کے بعد قومی سلامتی کا وسیع جائزہ‘‘ لینا ہے۔

دوطرفہ کشیدگی اورعدم استحکام کا خدشہ

دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان غیر محفوظ سرحد کے آر پار فضائی حملوں نے جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان اور شیعہ اکثریتی ملک ایران کے درمیان کشیدگی اور خطے میں وسیع تر عدم استحکام کے خدشات کو ہوا دی ہے۔

ایران مشرق وسطیٰ میں عسکریت پسند گروپوں کا بڑا حمایتی ہے، جن میں غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی شامل ہیں۔

حماس اور حزب اللہ کو جرمنی، امریکہ اور اسرائیل نے دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔ واشنگٹن نے جمعرات کو حوثی باغیوں کو بھی دہشت گردی کی فہرست میں شامل کر لیا۔

پاکستان کی سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو دہشت گردی یا علیحدگی پسند عناصر کے بارے میں جو بھی خدشات ہیں ان کو فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی ذرائع سے دور کیا جانا چاہیے تھا۔

Pakistan greift Ziele im Iran an
ایرانی حملے کے دو دن بعد پاکستان نے ایران کے صوبے سیستان پر حملے کیے تصویر: Tasnim

انہوں نے کہا کہ میں یقینی طور پر کہہ سکتی ہوں کہ ایران نے انتہائی احمقانہ اور غلط کام کیا۔ انہوں نے کہا، ''مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان کے پاس بہت سے آپشن تھے۔ میں ابھی حکومت میں نہیں ہوں، میں کھل کر بات کر سکتی ہوں۔‘‘

اقوام متحدہ اور امریکہ نے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے جبکہ چین نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔

یورپی یونین نے جمعرات کو کہا کہ وہ ''مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے بڑھنے والے تشدد کے بارے میں فکر مند ہے۔‘‘

ش ر⁄ رب (اے ایف پی، روئٹرز)

ايرانی حمايت يافتہ جنگجو تنظيمیں اور ملیشیا گروپ