ایران جنگ کے اثرات: بھارت میں کھاد کی پیداوار ایک چوتھائی کم
21 اپریل 2026
نئی دہلی سے منگل 21 اپریل کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق بھارت میں، جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت بھی، زرعی شعبہ بھی اقتصادی طور پر کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
مائیکرو پلاسٹک سے سبزیوں کی افزائش متاثر، ماہرین کا انکشاف
تاہم 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ، جس میں اس وقت چودہ روزہ فائر بندی وقفہ جاری ہے، اس جنوبی ایشیائی ملک کے لیے زرعی شعبے میں اس قدر نقصانات کا باعث بنی ہے کہ بھارت میں مختلف اقسام کی زرعی کھادوں کی پیداوار گزشتہ ماہ تقریباﹰ ایک چوتھائی کم ہو گئی۔
بھارتی زرعی شعبہ اپنے پیداواری حجم کے لحاظ سے بہت بڑا ہے اور وہاں استعمال ہونے والی کھادوں میں سے اہم ترین یوریا ہے، جس کی صنعتی پیداوار کے لیے توانائی کے ذریعے کے طور پر قدرتی گیس استعمال ہوتی ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیاں: غذائی فصلوں کی پیداوار نصف ہونے کا خدشہ
لیکن ایرانجنگ مین آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں عالمی منڈیوں کو تیل اور گیس کی جو سپلائی شدید متاثر ہوئی، اس کے اثرات بھارت تک بھی پہنچے اور توانائی کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافے کے ساتھ ساتھ سپلائی بھی اتنی کم رہی کہ صرف مارچ کے مہینے میں ہی بھارت میں کھاد کی مجموعی پیداوار میں تقریباﹰ 25 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔
دنیا بھر میں زرعی کھادوں کی ایک تہائی ترسیل بحری راستوں سے
بین الاقوامی زرعی شعبے کے لیے کھادوں کی ترسیل کے حوالے سے بحری مال برداری اتنی اہم ہے کہ عالمی سطح پر برآمدی کھادوں کا تقریباﹰ ایک تہائی حصہ مختلف سمندری راستوں سے ہی اپنی منزلوں تک پہنچتا ہے۔
ایران جنگ کے باعث زرعی شعبے کے لیے کھادوں کی ترسیل میں پیدا شدہ مسائل اس لیے بھی باعث تشویش ہیں کہ مختلف عالمی اور بین الاقوامی اداروں کے مطابق یہ صورت حال دنیا بھر میں اشیائے خوراک کی مجموعی پیداوار پر بھی بری طرح اثر انداز ہو سکتی ہے۔
بھارت میں گندم کی قیمتیں ریکارڈ حد تک زیادہ ہو گئیں
بھارت کے لیے یہ حالات اس وجہ سے پریشانی کا باعث ہیں کہ اس ملک کی آبادی کے 45 فیصد حصے کا تعلق زراعت سے ہے۔ نئی دہلی میں وزارت تجارت کے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ''مارچ 2026ء میں مارچ 2025ء کے مقابلے میں بھارت میں کھادوں کی مجموعی پیداوار 24.6 فیصد کم ہو گئی۔‘‘
گلائفوسیٹ انسانوں میں سرطان کا سبب؟ استعمال کہاں ممنوع، کہاں محدود
اسی دوران بھارتی وزارت پٹرولیم نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں ''کھادوں کے کافی ذخائر دستیاب‘‘ ہیں اور یہ کوششیں بھی جاری ہیں کہ ملکی زرعی شعبے کو کھادوں کی ترسیل کا عمل ''زیادہ سے زیادہ ممالک کی مدد سے مزید متنوع‘‘ بنایا جائے۔
بھارت میں کسانوں کو کھادوں کی سب سے زیادہ ضرورت خریف کے موسم میں جون سے جولائی تک اور ربیع کے موسم کے دوران اکتوبر سے نومبر کے مہینوں میں پڑتی ہے۔
ادارت: جاوید اختر