1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتمشرق وسطیٰ

امریکی مذاکرات کار پاکستان جا رہے ہیں، ٹرمپ

افسر اعوان اے ایف پی، اے پی، ڈی پی اے، روئٹرز کے ساتھ
وقت اشاعت 19 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 19 اپریل 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی مذاکرات کار ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے دوبارہ بات چیت کے لیے پیر کو پاکستان میں ہوں گے۔

https://p.dw.com/p/5CRM5
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو ’’ایک معقول معاہدے‘‘ کی پیشکش کر رہے ہیںتصویر: Alex Brandon/AP Photo/picture alliance
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا، ایرانی میڈیا
  • جے ڈی وینس امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کریں گے، وائٹ ہاؤس
  • امریکہ - ایران مذاکرات، اسلام آباد میں سکیورٹی سخت کر دی گئی
  • امریکی مذاکرات کار پاکستان جا رہے ہیں، ٹرمپ
  • ایران کا مشہد ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں شروع کرنے کا اعلان
  • لندن: یہودی عبادت گاہ پر آتشزنی کی ایک اور کوشش
  • امریکی یونیورسٹی میں فائرنگ، متعدد افراد زخمی، پولیس
  • اسرائیل نے جنوبی لبنان کے زیرِ قبضہ علاقوں کو زونز میں تقسیم کر دیا، اسرائیلی میڈیا
  • تیل کی پابندیوں میں نرمی روسی فوج کو اربوں ڈالرز فراہم کر رہی ہے، زیلنسکی
  • ٹرمپ اور ایران کا مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ
     
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا، ایرانی میڈیا سیکشن پر جائیں
19 اپریل 2026

امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا، ایرانی میڈیا

ایرانی پرچم
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا، ایرانی میڈیاتصویر: Mandel Ngan/AFP

ایرانی میڈیا نے اتوار کے روز رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی قیادت نے ابھی تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ان کے مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کے لیے نئی بات چیت کی خاطر پیر کو پاکستان میں ہوں گے۔
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے اس معاملے سے باخبر ایک ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جب تک امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھے گی، تب تک مزید کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ تاہم، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران پاکستان کی ثالثی میں دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔

https://p.dw.com/p/5CRxo
جے ڈی وینس امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کریں گے، وائٹ ہاؤس سیکشن پر جائیں
19 اپریل 2026

جے ڈی وینس امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کریں گے، وائٹ ہاؤس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکی وفد کی قیادت کریں گےتصویر: Manuel Balce Ceneta/AP Photo/picture alliance

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔ یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ خود یہ دورہ نہیں کریں گے۔
ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے تہران کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے اسلام آباد مذاکرات کار بھیج رہے ہیں، کیونکہ جنگ بندی کی مدت جلد ختم ہونے والی ہے۔ تاہم، صدر نے کہا کہ وینس سکیورٹی خدشات کی بنا پر یہ دورہ نہیں کریں گے۔ ٹرمپ نے اے بی سی نیوز کو بتایا، ’’یہ صرف سکیورٹی کی وجہ سے ہے، جے ڈی بہترین ہیں۔‘‘
لیکن جب ان تبصروں کے بارے میں پوچھا گیا تو وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اپنا مؤقف تبدیل کر دیا۔ وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہوں گے، جنہوں نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کی قیادت کی تھی، جو کسی ٹھوس نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ وفد میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔

جے ڈی وینس، پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار، آرمی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کی قیادت کی تھی، جو کسی ٹھوس نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔تصویر: Jacquelyn Martin/AP Photo/dpa/picture alliance
https://p.dw.com/p/5CRxh
امریکہ - ایران مذاکرات، اسلام آباد میں سکیورٹی سخت کر دی گئی سیکشن پر جائیں
19 اپریل 2026

امریکہ - ایران مذاکرات، اسلام آباد میں سکیورٹی سخت کر دی گئی

اسلام آباد میں ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر پولیس اہلکار موجود ہیں - فائل فوٹو
آج اتوار کو پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی میں واضح اضافہ کر دیا گیا۔تصویر: Akhtar Soomro/REUTERS

امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل آج اتوار کو پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی میں واضح اضافہ کر دیا گیا۔
امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی مذاکرات کار ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے پیر کو پاکستان پہنچیں گے۔ یہ پیش رفت 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے روبرو مذاکرات کے ایک ہفتے سے کچھ زیادہ وقت بعد سامنے آئی ہے۔ اس وقت مذاکرت کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔
پاکستانی حکام نے اس سے قبل شہر بھر اور پڑوسی شہر راولپنڈی میں سڑکوں کی بندش اور ٹریفک کی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔
اے ایف پی کے صحافیوں نے اسلام آباد کے محفوظ ترین ہوٹلوں، بشمول میریٹ اور سرینا کے قریب مسلح گارڈز اور چوکیاں دیکھیں، جہاں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان مذاکرات کا گزشتہ دور ہوا تھا۔
اتوار کو سرینا ہوٹل کی طرف جانے والی زیادہ تر سڑکیں خاردار تاروں، رکاوٹوں، سخت سکیورٹی اور ٹریفک کے متبادل راستوں کے باعث بند رہیں۔

https://p.dw.com/p/5CRs4
امریکی مذاکرات کار پاکستان جا رہے ہیں، ٹرمپ سیکشن پر جائیں
19 اپریل 2026

امریکی مذاکرات کار پاکستان جا رہے ہیں، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی مذاکرات کار ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے دوبارہ بات چیت کے لیے پیر کو پاکستان میں ہوں گے تصویر: Kent Nishimura/AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی مذاکرات کار ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے دوبارہ بات چیت کے لیے پیر کو پاکستان میں ہوں گے۔ 
ساتھ ہی انہوں نے دوبارہ دھمکی دی ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کر دیں گے۔

آج اتوار 19 اپریل کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں، ٹرمپ نے ایران پر آبنائے ہرمز میں ہفتہ کے روز ہونے والے حملوں کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو ’’ایک معقول معاہدے‘‘ کی پیشکش کر رہے ہیں اور اگر تہران نے انکار کیا تو ’’امریکہ ایران کے ایک ایک پاور پلانٹ اور ایک ایک پل کو ختم کر دے گا۔ اب مزید شرافت نہیں دکھائی جائے گی۔‘‘
اپنی نئی دھمکی میں، جو انہوں نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر دی، ٹرمپ نے ایران کے پلوں اور پاور پلانٹس کے بارے میں کہا: ’’وہ تیزی سے اور آسانی سے گرا دیے جائیں گے، اور اگر انہوں نے ڈیل قبول نہ کی، تو جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے وہ کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہو گی، جو کہ پچھلے 47 سالوں میں دیگر صدور کو ایران کے ساتھ کر لینا چاہیے تھا۔‘‘
دوسری طرف آج اتوار کو آبنائے ہرمز بند رہی۔ ایران نے جمعہ کو اس تزویراتی آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے اعلان کے بعد، ہفتہ کو اسے جہاز رانی کے لیے دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں پر مبنی جنگ بندی بدھ کو ختم ہونے والی ہے۔

پاکستان، ایرانی امریکی مذاکرت کے دوسرے دور کے لیے کوشاں

https://p.dw.com/p/5CRrr
ایران کا مشہد ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں شروع کرنے کا اعلان سیکشن پر جائیں
19 اپریل 2026

ایران کا مشہد ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں شروع کرنے کا اعلان

ایران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر مہان ایئر کا ایک ہوائی جہاز - فائل فوٹو
ایرانی سول ایوی ایشن کے مطابق مشہد ایئرپورٹ سے پیر کے روز سے بین الاقوامی پروازیں دوبارہ شروع کر دی جائیں گیتصویر: Rouzbeh Fouladi/ZUMA/picture alliance

ایران کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ ملک کے شمال مشرق میں واقع مشہد ایئرپورٹ سے پیر کے روز سے بین الاقوامی پروازیں دوبارہ شروع کر دی جائیں گی۔
ایران سرکاری ٹی وی نے سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’مشہد ایئرپورٹ پر کل سے بین الاقوامی مسافر پروازیں چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔‘‘
سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق، ادارے نے بعد میں بتایا کہ مسافر اب ’’مشہد ایئرپورٹ سے آنے اور جانے والے بین الاقوامی روٹس کے لیے ٹکٹ خرید سکتے ہیں۔‘‘
ایرانی ہوائی اڈے 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے حملوں کے بعد سے بند تھے۔ سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے پہلے کہا تھا کہ وہ مرحلہ وار ایرانی فضائی حدود کو دوبارہ کھولنے کا آغاز کرے گی، جس میں پہلے ٹرانزٹ پروازیں اور پھر مشرقی ہوائی اڈوں سے آپریشنز شروع کیے جائیں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق توقع ہے کہ تہران کے ہوائی اڈے، امام خمینی اور مہرآباد ایئرپورٹ تیسرے مرحلے میں کھلیں گے، جبکہ مغربی ہوائی اڈوں پر آپریشنز آخری مرحلے میں بحال ہوں گے۔

https://p.dw.com/p/5CRiO
لندن: یہودی عبادت گاہ پر آتشزنی کی ایک اور کوشش سیکشن پر جائیں
19 اپریل 2026

لندن: یہودی عبادت گاہ پر آتشزنی کی ایک اور کوشش

23 مارچ کو لندن میں آتش زنی کے ایک واقعے کے بعد فائر سروس کے اہلکار
لندن کے شمال مغربی علاقے میں ایک یہودی عبادت گاہ پر آتشزنی کی ایک اور کوشش رپورٹ ہوئی ہے تصویر: Alberto Pezzali/AP Photo/picture alliance

لندن کے شمال مغربی علاقے میں ایک یہودی عبادت گاہ (سیناگاگ) پر آتشزنی کی ایک اور کوشش رپورٹ ہوئی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران اس علاقے میں یہودیوں کی املاک پر آتشزنی کی کوشش کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
کمیونٹی سکیورٹی ٹرسٹ کے مطابق ہفتے کی رات ہیرو (Harrow) میں واقع کینٹون یونائیٹڈ سیناگاگ میں پیش آنے والے اس واقعے سے ایک اندرونی کمرے کو دھوئیں سے معمولی نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان یا عمارت کا بڑا نقصان نہیں ہوا۔
گروپ کے ترجمان نے کہا: ’’ہم آتشزنی کی ایک اور کوشش سے واقف ہیں، جس میں اس بار شمالی لندن کی ایک عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل فنچلے، گولڈرز گرین اور ہینڈن میں یہودی برادری کو نشانہ بنانے والے اسی طرح کے حالیہ واقعات پیش آ چکے ہیں۔‘‘
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ وہ شمال مغربی لندن میں حالیہ آتشزنی کے واقعات پر ’’سخت رنجیدہ‘‘ ہیں، جن میں سے تازہ ترین واقعہ ہفتے کی رات پیش آیا، جبکہ اس سے قبل جمعہ کی رات بھی اسی طرح کا ایک واقعہ پیش آیا تھا۔
وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ’’یہ قابلِ نفرت عمل ہے اور اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہماری یہودی برادری پر حملے دراصل برطانیہ پر حملے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہم مجرموں کے تعاقب میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔‘‘

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ وہ شمال مغربی لندن میں حالیہ آتشزنی کے واقعات پر ’’سخت رنجیدہ‘‘ ہیںتصویر: Jaimi Joy/Getty Images
https://p.dw.com/p/5CRiG
امریکی یونیورسٹی میں فائرنگ، متعدد افراد زخمی، پولیس سیکشن پر جائیں
19 اپریل 2026

امریکی یونیورسٹی میں فائرنگ، متعدد افراد زخمی، پولیس

ایک پولیس اہلکار کرائم سین کی ٹیپ لگا رہا ہے - فائل فوٹو
ہنگامی الرٹ میں یونیورسٹی نے لوگوں کو علاقے سے دور اور ’’ہوشیار رہنے‘‘ کی ہدایت کی ہےتصویر: Mark Stockwell/AP Photo/picture alliance

امریکہ کی یونیورسٹی آف آئیووا میں فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ آج اتوار کی علی الصبح پیش آیا۔
یہ واقعہ ایک ایسے علاقے میں پیش آیا جو اپنی نائٹ لائف کے لیے مشہور ہے۔ آئیووا سٹی کے حکام نے ایک بیان میں کہا، ’’آئیووا سٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ اتوار کو ہونے والی فائرنگ کی تحقیقات کر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا، ’’ ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔‘‘
بیان میں کہا گیا، ’’اس وقت، فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے متعدد متاثرین کو علاج کے لیے مقامی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔‘‘ حکام کے مطابق زخمیوں کی حالت فی الحال معلوم نہیں ہے۔
آئیووا سٹی پولیس نے بتایا کہ ان کے افسران مقامی وقت کے مطابق رات 2:00 بجے سے کچھ دیر قبل کیمپس میں ہونے والی ایک ’’بڑی لڑائی‘‘ کی اطلاع پر پہنچے تھے، اور موقع پر پہنچنے والے افسران نے ’’فائرنگ کی آوازیں سنیں۔‘‘
یونیورسٹی آف آئیووا نے واقعے کی تصدیق کی ہے، تاہم کسی جانی نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ہنگامی الرٹ میں یونیورسٹی نے لوگوں کو علاقے سے دور اور ’’ہوشیار رہنے‘‘ کی ہدایت کی ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق فائرنگ کی اطلاع مڈویسٹ کے اس کالج ٹاؤن کے وسط میں واقع کالج اور کلنٹن اسٹریٹس کے قریب سے دی گئی۔

https://p.dw.com/p/5CRb9
اسرائیل نے جنوبی لبنان کے زیرِ قبضہ علاقوں کو زونز میں تقسیم کر دیا، اسرائیلی میڈیا سیکشن پر جائیں
19 اپریل 2026

اسرائیل نے جنوبی لبنان کے زیرِ قبضہ علاقوں کو زونز میں تقسیم کر دیا، اسرائیلی میڈیا

Israel Nordisrael 2026 | Israelische Soldaten auf Panzern nahe der Grenze zum Libanon
تصویر: Ammar Awad/REUTERS

اسرائیلی میڈیا نے آج اتوار 19 اپریل کو رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان جنگ بندی کے بعد، اسرائیل نے جنوبی لبنان کے ان حصوں کو تین زونز میں تقسیم کر دیا ہے، جن پر اس کا کنٹرول ہے۔
ایک اسرائیلی اخبار ’یدیعوت احارانوت‘ کے مطابق، ’’سرخ لکیر‘‘ (ریڈ لائن) سے مراد ان دیہات کی پہلی قطار ہے جو براہِ راست اسرائیل - لبنان سرحد پر واقع ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ وہاں زیادہ تر عمارتیں پہلے ہی تباہ ہو چکی ہیں اور اب اس علاقے میں ایران کے حمایت یافتہ لبنانی گروپ حزب اللہ کا کوئی جنگجو موجود نہیں ہے۔ اس علاقے میں کچھ مقامات پر اسرائیلی زمینی فوج نے مستقل پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ 
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اسرائیلی فوج نے رابطہ کرنے پر ابتدائی طور پر اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اخبار نے مزید بتایا کہ ’’پیلی لکیر‘‘ (یلو لائن) سرحد سے چھ سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسرائیل نے اسی طرح کی ’’یلو لائن‘‘ غزہ پٹی میں بھی نافذ کی ہے، جس کے نصف حصے پر اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے بعد سے اس کا قبضہ برقرار ہے۔ لبنان کے اس زون میں درجنوں دیہات شامل ہیں اور مبینہ طور پر فوج کا مقصد شمالی اسرائیل پر ہونے والی شیلنگ، خاص طور پر راکٹ حملوں کو روکنا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی زمینی فوج اب بھی اس زون میں تعینات ہے اور وہاں اب بھی جھڑپیں ہو رہی ہیں، جن میں حزب اللہ کے گڑھ ’’بنت جبیل‘‘ کے ارد گرد کے علاقے شامل ہیں۔
تیسری لکیر دریائے لیطانی تک پھیلی ہوئی ہے، جو سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے۔ اخبار کے مطابق، اس علاقے میں فوج بنیادی طور پر ’’فائر پاور اور مشاہداتی چوکیوں‘‘ کے ذریعے اپنا کنٹرول نافذ کرنا چاہتی ہے۔

Libanon Tyros 2026 | Menschen versammeln sich an Ort eines israelischen Luftangriffs
ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق، ’’سرخ لکیر‘‘ سے مراد ان دیہات کی پہلی قطار ہے جو براہِ راست اسرائیل - لبنان سرحد پر واقع ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ وہاں زیادہ تر عمارتیں پہلے ہی تباہ ہو چکی ہیںتصویر: Louisa Gouliamaki/REUTERS
https://p.dw.com/p/5CRYf
تیل کی پابندیوں میں نرمی روسی فوج کو اربوں ڈالرز فراہم کر رہی ہے، زیلنسکی سیکشن پر جائیں
19 اپریل 2026

تیل کی پابندیوں میں نرمی روسی فوج کو اربوں ڈالرز فراہم کر رہی ہے، زیلنسکی

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روسی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کی شدید مذمت کی ہےتصویر: SANA/AFP

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روسی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ ردعمل امریکہ کی جانب سے اس استثنیٰ میں توسیع کے بعد سامنے آیا ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانا تھا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں زیلنسکی نے لکھا، ’’روسی تیل کے لیے ادا کیا جانے والا ہر ڈالر جنگ کے لیے پیسہ ہے۔‘‘ اور اسے یوکرین پر تباہ کن حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اگرچہ زیلنسکی نے براہِ راست امریکہ کا نام نہیں لیا، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعہ کے روز ایک ماہ کے لیے پابندیوں میں استثنیٰ جاری کیا، جس کے تحت سمندر میں موجود روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔
اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں توانائی کی آسمان چھوتی قیمتوں کو کم کرنا تھا۔
زیلنسکی نے بتایا کہ اس وقت سمندر میں 110 سے زائد ٹینکرز بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے روسی تیل لے جا رہے ہیں۔ ان جہازوں پر 12 ملین ٹن سے زیادہ خام تیل موجود ہے، ’’جو پابندیوں میں نرمی کی وجہ سے اب ایک بار پھر کسی نتائج کے خوف کے بغیر فروخت کیا جا سکتا ہے۔‘‘
زیلنسکی کے مطابق، ’’یہ 10 ارب ڈالر ہیں، ایک ایسا ذریعہ جسے براہِ راست یوکرین کے خلاف نئے حملوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔‘‘
یوکرینی رہنما نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روس نے یوکرینی شہروں اور بستیوں پر 2,360 سے زائد ڈرونز، 1,320 سے زائد گائیڈڈ فضائی بم اور مختلف اقسام کے تقریباً 60 میزائل داغے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے سربراہ کے مطابق، اتوار کو شمالی شہر چرنیہیف پر رات گئے ہونے والے ایک حملے میں 16 سالہ لڑکا ہلاک اور چار افراد زخمی ہوئے۔
زیلنسکی نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’یہ ضروری ہے کہ روسی ٹینکرز کو روکا جائے اور انہیں بندرگاہوں پر تیل پہنچانے کی اجازت نہ دی جائے۔ جارح ملک کی تیل کی برآمدات میں کمی آنی چاہیے، اور یوکرین کی طویل المدتی پابندیاں اسی مقصد کے حصول کے لیے کام کرتی رہیں۔‘‘

یوکرین میں جنگ کے چار سال، کب کیا ہوا؟

https://p.dw.com/p/5CRS2
ٹرمپ اور ایران کا مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ سیکشن پر جائیں
19 اپریل 2026

ٹرمپ اور ایران کا مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔تصویر: Vahid Salemi/dpa/AP/picture alliance

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ ’’بہت اچھی بات چیت‘‘ کا حوالہ دیا، البتہ انہوں نے جہاز رانی کی اہم گزرگاہ (آبنائے ہرمز) کے حوالے سے ’’بلیک میلنگ‘‘ کے خلاف وارننگ بھی دی۔

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔

اسرائیلی فوج نے آج اتوار 19 اپریل کی صبح بتایا کہ جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران ایک اسرائیلی فوجی ہلاک اور نو دیگر زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
ادھر ایران کے چیف مذاکرات کار، محمد باقر قالیباف نے سرکاری میڈیا کو بتایا، ’’ہم نے پیش رفت کی ہے لیکن ہمارے درمیان اب بھی بڑا فاصلہ ہے۔ کچھ مسائل ایسے ہیں جن پر ہم اصرار کر رہے ہیں... ان کی بھی ریڈ لائنز ہیں۔ لیکن یہ مسائل صرف ایک یا دو ہو سکتے ہیں۔‘‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہی کہا ہے کہ امریکہ کی ’’بہت اچھی بات چیت‘‘ ہو رہی ہے لیکن انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
تہران نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی تھی جس سے اس جنگ میں نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جو امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو شروع کی تھی۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کے مسلسل امریکی محاصرے کا جواب دے رہا ہے، جسے اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ جبکہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی بحریہ اپنے دشمنوں کو ’’نئی عبرتناک شکست ‘‘ دینے کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ نے اس اقدام کو ’’بلیک میلنگ‘‘ قرار دیا، باوجود اس کے کہ انہوں نے مذاکرات کی تعریف کی۔
جمعہ کے روز، ایران نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جمعرات کو امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے 10 روزہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

ادارت: کشور مصطفیٰ
 

https://p.dw.com/p/5CRM6
مزید پوسٹیں