پاکستان کی معیشت کی شرح نمو چار فیصد رہے گی | حالات حاضرہ | DW | 13.10.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان کی معیشت کی شرح نمو چار فیصد رہے گی

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ اس مالی سال میں پاکستانی معیشت کی  شرح نمو چار فیصد رہے گی۔ گزشتہ برس پاکستان کی شرح نمو تین اعشاریہ نو فیصد تھی۔

عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ملک میں افراط زر کی شرحیں 8 اعشاریہ پانچ فیصد، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تین اعشاریہ ایک فیصد اور ملک میں بے روز گاری کی شرح چار اعشاریہ آٹھ فیصد تک رہے گی۔

پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے بھی کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح چار سے پانچ فیصد کے درمیان ہونے کی توقع ہے۔

لیکن آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ 'ورلڈ اکنامک آؤٹ لک' میں پاکستان کو ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل کیا ہے۔ پاکستان کے علاوہ بھارت، انڈونیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ اور ویتنام بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

پاکستان، ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ

افغانستان: طالبان ایک ٹریلین ڈالر کی معدنی دولت کے رکھوالے بن گئے

عالمی مالیاتی ادارے کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026 تک پاکستانی معیشت کی شرح نمو پانچ فیصد تک جا سکتی ہے۔

عالمی معیشت میں بہتری کے اشارے

عالمی مالیاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال عالمی اقتصادی شرح نمو 5 اعشاریہ نو فیصد رہے گی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا کے باعث پوری دنیا کی معیشت سست روی کا شکار رہی لیکن اب اس میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق  کورونا وائرس کی ویکیسین کی دستیابی اور حکومتوں کی جانب سے درست حکمت عملی معیشتوں کو بہتر کر سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ڈیلٹا اور کورونا وائرس کے دیگر ویریئنٹس میں تیزی سے پھیلاؤ مستقبل کے حوالے سے بے یقنی پیدا کرتا ہے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ دنیا کورونا وبا پر کب قابو پا سکے گی۔

 رپورٹ کے مطابق ممالک کے لیے واضح پالیسیوں کو مرتب کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ بے روز گاری کی شرح میں اضافہ، افراط زر میں اضافہ، خوراک کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیاں ایسے عوامل ہیں جو ممالک کو پالیسی تشکیل دینے میں مشکل کا سبب بن رہے ہیں۔