ARY نیوز کے دفتر پر ’ایم کیو ایم‘ کے کارکنوں کا حملہ | حالات حاضرہ | DW | 22.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ARY نیوز کے دفتر پر ’ایم کیو ایم‘ کے کارکنوں کا حملہ

ایک پاکستانی ٹی وی چینل ARY نیوز نے الزام عائد کیا ہے کہ سیاسی جماعت ’ایم کیو ایم‘ کے کارکنوں نے کراچی میں اس کے دفتر پر حملہ کیا ہے اور املاک کو نقصان پہنچایا ہے اور کئی ملازمین کو زخمی کر دیا ہے۔

پاکستانی ARY نیوز نے اپنی ٹرانسمیشن میں اپنے دفتر پر ہونے والے حملے کی فوٹیج میں دکھایا کہ حملہ آور دفتر میں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔ ARY نیوز کے مطابق یہ حملہ آور پاکستان کی سیاسی جماعت ’ایم کیو ایم‘ کے کارکن ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق شہر کے وسطی علاقے میں واقع اے آر وائی کے دفتر اور قریبی دکانوں میں توڑ پھوڑ کے واقعات اور فائرنگ سے ایک شخص کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

ARY نیوز کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی معلومات کے مطابق، ’’سیاسی جماعت کے مسلح افراد نے سکیورٹی گارڈز سے اسلحہ چھین لیا اور چینل کے ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان حملہ آوروں نے ایک گھنٹے تک ARY نیوز کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی اور کئی اشیا چوری بھی کر لیں۔‘‘

کراچی میں اس حملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’لاقانونیت کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ رینجرز کی نفری کو ARY نیوز کے دفتر کے باہر تعینات کر دیا گیا ہے۔‘‘

اس حملے کے بعد سے پاکستان کے سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ #ARYUnderAttack ٹرینڈ کر رہا ہے۔

کئی صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور میڈیا کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس نیوز چینل پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

ARY نیوز چینل کے مطابق ایم کیو ایم کے لیڈر الطاف حسین نے اپنی تقریر میں مظاہرین کو کہا تھا کہ نیوز چینل کے دفتر پر حملہ کریں۔ اس چینل کے ایک اینکر کاشف عباسی نے کہا، ’’ یہ متحدہ کے کارکن تھے۔‘‘ اس چینل کی ویب سائٹ کے مطابق حملہ آوروں نے چینل کے ملازمین کی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی نذر آتش کیا اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق پولیس کے ایک سینیئر افسر ثاقب اسماعیل کے مطابق ان مظاہرین کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا۔ انہوں نے روئٹرز کو بتایا، ’’ایم کیو ایم کے کارکنان نے ARY کے دفتر پر فائرنگ کی اور ایک پولیس موبائل گاڑی کو بھی نذر آتش کیا۔‘‘ پاکستانی میڈیا کے مطابق یہ مظاہرین ایم کیو ایم کی بھوک ہڑتال کی مناسب ٹی وی کوریج نہ کرنے پر ناراض تھے۔

دوسری جانب پاکستانی میڈیا میں شائع ہونی والی خبروں کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما واسع جلیل کا کہنا ہے کہ لوگ پر امن طریقے سے ARY نیوز کے دفتر کے باہر اس چینل کی جانبدارانہ رپورٹنگ پر احتجاج کر رہے تھے لیکن پولیس نے ان پر مظاہرین پر فائرنگ شروع کر دی تھی۔ ایم کیو ایم کے سینیٹر سید علی رضا عابدی نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا، ’’ایم کیو ایم تین برسوں سے پر امن طریقے سے مظاہرے کر رہی ہے، آج فوارہ چوک پر پہلے سے موجود نامعلوم افراد اس حملے میں ملوث تھے۔‘‘

سندھ کے چیف منسٹر مراد علی شاہ نے بھی اس واقعے کی مذمت کی اور آئی جی سندھ سے اس کی رپورٹ طلب کی اور سندھ پولیس کو عوام اور صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا بھی حکم دیا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے وزیراعظم، پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی اے آر نیوز کے دفتر پر حملے کی مذمت کی۔

DW.COM