’سرحدی جھڑپوں میں درجنوں فوجیوں کی ہلاکت کے دوطرفہ دعوے‘
وقت اشاعت 12 اکتوبر 2025آخری اپ ڈیٹ 12 اکتوبر 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
* پاکستانی وزیر اعظم کی طرف سے افغانستان کی ’اشتعال انگیزی‘ کی مذمت
* پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی گزرگاہیں شدید جھڑپوں کے بعد بند
* یرغمالیوں کی واپسی عقیدے کی فتح ہے، ایوانکا ٹرمپ
* حماس اور اسرائیل کے مابین قیدیوں کا تبادلہ پیر کو متوقع
* دنیا کے معمر ترین صدر کی اقتدار میں توسیع کی کوشش، کیمرون میں صدارتی انتخابات
* اتوار کو تقریباً 600 امدادی ٹرک غزہ پٹی میں داخل ہونے کی توقع
* 200 طالبان اور ان کے اتحادی مارے، 23 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے، پاکستانی فوج
* یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلے کا وقت مقرر
* اسرائیل کا سرنگوں کو تباہ کرنے کا عزم
* جنگ بندی معاہدے کی پیچیدگیاں
* فرینکفرٹ اَن ڈیئر اوڈر میں اے ایف ڈی کے امیدوار میئر شپ کا دوسرا انتخابی مرحلہ، اے ایف ڈی امیدوار بھی شامل
* روس کا یوکرین کے توانائی نظام پر حملہ، امریکہ سے ٹام ہاک میزائلوں کی فراہمی پر شدید تشویش
ادارت: افسر اعوان/ عدنان اسحاق
روس کا یوکرین کے توانائی نظام پر حملہ، امریکہ سے ٹام ہاک میزائلوں کی فراہمی پر شدید تشویش
ماسکو نے اتوار کی رات یوکرین کے بجلی کے نظام پر حملہ کیا، جو سردیوں سے قبل یوکرینی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مفلوج کرنے کی جاری مہم کا حصہ ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب روس نے امریکہ کی جانب سے یوکرین کو ٹام ہاک کروز میزائل فراہم کرنے کے امکان پر ’’شدید تشویش‘‘ کا اظہار کیا۔
کییف کے علاقائی گورنر میکولا کالاشنیک نے بتایا کہ یوکرین کی سب سے بڑی نجی توانائی کمپنی DTEK کے دو ملازمین روسی حملوں میں زخمی ہوئے۔ ان حملوں کا نشانہ ایک سب وے اسٹیشن تھا۔ یوکرین کی وزارت توانائی کے مطابق ڈونیٹسک، اوڈیسا اور چیرنہیف کے علاقوں میں بھی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے گئے۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا، ’’روس ہمارے شہروں اور کمیونٹیز پر فضائی دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہے، اور توانائی کے نظام پر حملے تیز کر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران روس نے یوکرین پر ’’ 3,100 سے زائد ڈرونز، 92 میزائل اور تقریباً 1,360 گلائیڈ بم‘‘ داغے۔
زیلنسکی نے روسی تیل کے خریداروں پر مزید سخت ثانوی پابندیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، ’’پابندیاں، محصولات اور روسی تیل کے خریداروں کے خلاف مشترکہ اقدامات، جو اس جنگ کی مالی معاونت کرتے ہیں، سب زیر غور رہنے چاہییں۔‘‘
یوکرینی صدر نے ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات چیت کی تھی۔ انہوں نے اس گفتگو کو ’’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا تھا۔ اس بات چیت میں انہوں نے یوکرین کے توانائی نظام پر روسی حملوں اور فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے مواقع پر بات کی۔ ایک روز قبل زیلنسکی نے کہا تھا کہ وہ امریکی حکام سے مختلف طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں، بشمول ٹام ہاک میزائل اور مزید ATACMS ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں کی فراہمی پر بات چیت کر رہے ہیں۔
ادھر کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے اتوار کو شائع ہونے والے بیان میں کہا، ’’ٹام ہاک میزائلوں کا موضوع انتہائی تشویشناک ہے۔‘‘
انہوں نے روسی سرکاری ٹی وی کے رپورٹر پاویل زاروبن سے گفتگو میں کہا، ’’ یہ واقعی ایک نہایت نازک لمحہ ہے، کیونکہ ہر طرف سے کشیدگی بڑھ رہی ہے۔‘‘
فرینکفرٹ اَن ڈیئر اوڈر میں اے ایف ڈی کے امیدوار میئر شپ کا دوسرا انتخابی مرحلہ، اے ایف ڈی امیدوار بھی شامل
جرمنی کے مشرقی شہر فرینکفرٹ اَن ڈیئر اوڈر میں آج اتوار کو میئر شپ کے لیے رَن آف انتخابات کے ووٹنگ جاری ہے، جہاں انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی (AfD) کے امیدوار ولکو مؤلر کا ایک آزاد امیدوار آکسِل اشٹراسر سے مقابلہ ہے۔
21 ستمبر کو ہونے والے پہلے مرحلے میں اشٹراسر نے 32.4 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ مؤلر کو 30.2 فیصد ووٹ ملے۔ کرسچن ڈیموکریٹک یونین (CDU) اور سوشلسٹ جماعت (SPD) کے امیدوار پہلے مرحلے میں ہی باہر ہو گئے تھے۔
یونیورسٹی آف پوٹسڈام کے سیاسی ماہر یان فلیپ تھومچیک کے مطابق اگر مؤلر کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک ’’بہت زوردار پیغام‘‘ ہوگا کہ AfD شہری علاقوں میں بھی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔
فرینکفرٹ اَن ڈیئر اوڈر، جرمنی کی ریاست برانڈن برگ میں واقع ہے اور پولینڈ کی سرحد کے قریب ہے۔
جرمن شہروں کی تنظیم کے مطابق، اس وقت کسی بھی بڑے جرمن شہر میں AfD سے وابستہ کوئی میئر موجود نہیں۔ البتہ ٹم لوخنر نے 2023 میں AfD کی نامزدگی پر پیرنا شہر میں میئر شپ حاصل کی تھی۔ یہ شہر چیک ریپبلک کی سرحد کے نزیدک واقع ہے۔ تاہم ٹم لوخنر تکنیکی طور پر آزاد امیدوار تھے۔ اسی طرح روبرٹ زیزلمن ریاست تھیورنگیا کے ضلع زونے برگ میں ضلعی منتظم ہیں، اور صوبے سیکسنی انہالٹ کی چھوٹی بستیوں میں بھی AfD کے میئرز موجود ہیں۔
اسرائیل کا سرنگوں کو تباہ کرنے کا عزم
اسرائیل کے وزیر دفاع نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی مکمل ہونے کے بعد، اسرائیل غزہ کے نیچے موجود حماس کی باقی ماندہ سرنگوں کو ختم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق یہ کارروائی ایک ’’بین الاقوامی نظام‘‘ کے تحت کی جائے گی، جس کی قیادت امریکہ کرے گا۔
جنگ بندی معاہدے کی پیچیدگیاں
حماس کے سینئر رہنما حسام بدران نے کہا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے منصوبے کا دوسرا مرحلہ، جس میں تنظیم کا غیر مسلح ہونا شامل ہے، ’’کئی پیچیدگیوں اور مشکلات پر مشتمل ہے۔‘‘ ایک اور حماس کے عہدیدار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، اے ایف پی کو بتایا کہ تنظیم کا غیر مسلح ہونا ’’ناقابلِ قبول‘‘ ہے۔
یاد رہے کہ حماس نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے ابتدائی مرحلے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس میں 48 اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے بدلے 250 فلسطینی قیدیوں اور جنگ کے آغاز سے اسرائیل میں زیر حراست 1,700 غزہ کے باشندوں کی رہائی شامل ہے۔
یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلے کا وقت مقرر
فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیر کی صبح یرغمالیوں کی رہائی کا عمل شروع کرے گی، جو جنگ بندی معاہدے کے تحت مقرر کردہ دوپہر 12 بجے (0900 GMT) کی ڈیڈ لائن سے پہلے مکمل کیا جائے گا۔
غزہ امن معاہدے کی بنیاد یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے پر رکھی گئی ہے، جس کے تحت دونوں فریقوں کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ معاہدے کی شرائط کے مطابق کارروائی کریں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امید ظاہر کی ہے کہ پیر کی شب تک تمام زندہ اور وفات پا جانے والے یرغمالیوں کی واپسی کے بعد اسرائیل ’’قومی خوشی کا دن‘‘ منا سکے گا۔
یہ تبادلہ دو سالہ جنگ کے بعد امن کی طرف ایک ممکنہ پیش رفت بھی تصور کیا جا رہا ہے۔
غزہ میں جنگ بندی تیسرے روز بھی برقرار ہے، جب کہ پیر کو مصر میں ایک ایک اہم سربراہی اجلاس کی تیاری جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی پیر کی شرم الشیخ میں غزہ امن سربراہی اجلاس کی مشترکہ میزبانی کریں گے۔
200 طالبان اور ان کے اتحادی مارے، 23 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے، پاکستانی فوج
کابل اور اسلام آباد نے اتوار کے روز کہا کہ دونوں ممالک کی افواج نے ایک دوسرے کے درجنوں فوجیوں کو گزشتہ رات کی شدید سرحدی جھڑپوں میں ہلاک کیا۔
افغانستان کی طالبان فورسز نے ہفتہ کی رات پاکستانی فوجیوں پر مشترکہ سرحد کے ساتھ حملے کیے، جسے انہوں نے ’’جمعرات کو پاکستانی فوج کی جانب سے کابل پر کیے گئے فضائی حملوں کے جواب‘‘ کے طور پر بیان کیا۔
اسلام آباد نے ان حملوں کی براہ راست ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن بارہا یہ کہا ہے کہ اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، خاص طور پر اس بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے خلاف جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔
طالبان کے 2021 میں افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں بارہا جھڑپیں ہو چکی ہیں، لیکن تازہ پیشرفت کو ایک سنگین اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اتوار کو کہا کہ جھڑپوں میں 58 پاکستانی فوجی ہلاک اور تقریباً 30 زخمی ہوئے، جبکہ طالبان کے نو اہلکار مارے گئے۔
دوسری جانب پاکستانی فوج نے کہا کہ اس کے 23 فوجی ہلاک ہوئے اور طالبان اور ان کے اتحادیوں کے 200 سے زائد اہلکار مارے گئے۔ اے ایف پی ان ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اتوار کو کہا کہ ’’صورتحال قابو میں ہے۔‘‘
انہوں نے بھارت کے دورے کے دوران بیان دیتے ہوئے کہا، ’’ہماری گزشتہ رات کی کارروائی نے اپنے اہداف حاصل کر لیے۔ پھر ہمارے دوست جیسے قطر اور سعودی عرب نے اپیل کی کہ جنگ اب رکنی چاہیے، اور جنگ اس وقت بند ہو چکی ہے۔‘‘
ایک افغان فوجی یونٹ نے جمعرات کو دارالحکومت میں ہونے والے دھماکوں کو ’’فضائی حملے‘‘ قرار دیا، لیکن مجاہد نے کہا کہ یہ واقعہ ’’فضائی حدود کی خلاف ورزی‘‘ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں مزید کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔
اتوار کو تقریباً 600 امدادی ٹرک غزہ پٹی میں داخل ہونے کی توقع
اتوار کے روز غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے تیاریاں زوروں پر نظر آ رہی ہیں، کیونکہ جنگ بندی معاہدے نے دو سال سے جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کی امید پیدا کر دی ہے۔
اسرائیلی دفاعی ادارے COGAT کے مطابق، اتوار کو تقریباً 600 امدادی ٹرک غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی توقع ہے، جو معاہدے کے تحت طے شدہ ہے۔ مصر نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 400 امدادی ٹرک روانہ کر رہا ہے، جن میں طبی سامان، خیمے، کمبل، خوراک اور ایندھن شامل ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی فوٹیج میں رفح کراسنگ کے مصری جانب درجنوں ٹرکوں کو غزہ کی طرف بڑھتے ہوئے دکھایا گیا۔ تمام ٹرکوں کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے کریم شالوم کراسنگ پر معائنہ کے بعد اندر جانے کی اجازت دی جائے گی۔
اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار حالیہ مہینوں میں صرف 20 فیصد امداد ہی فراہم کر سکے، جس کی وجہ سرحدی بندشیں اور اسرائیلی پابندیاں ہیں۔ ان پابندیوں اور جارحیت نے غزہ میں بھوک کے بحران کو جنم دیا، جہاں کئی علاقوں میں قحط کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق، تقریباً 170,000 میٹرک ٹن خوراک، ادویات اور دیگر امدادی سامان غزہ میں داخلے کے لیے تیار ہے، جس کے لیے اسرائیل کی منظوری کا انتظار ہے۔
ادھر، غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن، جو اسرائیل اور امریکہ کی حمایت یافتہ تنظیم ہے اور مئی سے اقوام متحدہ کی جگہ بنیادی خوراک فراہم کر رہی ہے، اس کی مستقبل کی حیثیت ابھی غیر واضح ہے۔
دنیا کے معمر ترین صدر کی اقتدار میں توسیع کی کوشش، کیمرون میں صدارتی انتخابات
کیمرون میں آج اتوار کے روز صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا آغاز ہوا، جہاں 92 سالہ صدر پال بیا، جو دنیا کے سب سے عمر رسیدہ حکمران ہیں، 43 سالہ اقتدار کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مرکزی حریف 76 سالہ سابق حکومتی ترجمان عیسیٰ چیروما ہیں، جنہیں کئی اپوزیشن جماعتوں اور شہری تنظیموں کی حمایت بھی حاصل ہے۔
اگرچہ اپوزیشن متحرک ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر بیا کے ریاستی نظام پر مضبوط کنٹرول اور اپوزیشن کی تقسیم کی وجہ سے ان کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ دارالحکومت یاؤنڈے میں سخت سکیورٹی کے ماحول میں ووٹرز نے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا، خاص طور پر باسٹوس کے پوش علاقے میں، جہاں صدر بیا اپنا ووٹ ڈالیں گے۔
بیا کے ناقدین اب بھی امید رکھتے ہیں کہ انہیں اقتدار سے ہٹایا جا سکتا ہے، خاص طور پر کئی دہائیوں کی معاشی جمود اور تین کروڑ آبادی والے اس وسطی افریقی ملک میں جاری کشیدگی کے بعد۔
حماس اور اسرائیل کے مابین قیدیوں کا تبادلہ پیر کو متوقع
غزہ میں قید 48 یرغمالیوں کی، جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی ہے اور جن میں سے تقریباً کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ 20 تاحال زندہ ہیں، رہائی کا عمل پیر کے روز شروع ہونے کا امکان ہے۔ یہ اطلاع فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے دی ہے۔
فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے اعلیٰ رہنما اسامہ حمدان نے اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا، ’’طے شدہ معاہدے کے مطابق قیدیوں کا تبادلہ پیر کی صبح سے شروع ہونا ہے اور اس معاملے میں کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ زمینی سطح پر موجود جنگجوؤں نے ابھی تک حماس کی اعلیٰ قیادت کو رہائی کے طریقہ کار کے بارے میں آگاہ نہیں کیا ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کا عمل پیر کے روز متوقع ہے۔
یرغمالیوں کی واپسی عقیدے کی فتح ہے، ایوانکا ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے تل ابیب کے ’’ہوسٹیجز اسکوائر‘‘میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حماس کی قید سے یرغمالیوں کی رہائی کو ’’عقیدے، حوصلے اور مشترکہ انسانیت کی فتح‘‘ قرار دیا۔
یہ اجتماع اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے بعد منعقد ہوا، جس میں ایوانکا ٹرمپ کے شوہر جیریڈ کشنر اور وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے لوگوں کے اجتماع سے خطاب کیا۔ جیریڈ کشنرنے اپنی تقریر کے بعد مائیکروفون اپنی اہلیہ ایوانکا ٹرمپ کے حوالے کیا۔ ایوانکا ٹرمپ نے اپنے خطاب میں مزید کہا، ’’ہر یرغمالی کی واپسی صرف اپنے گھر لوٹنا اور سکون کا لمحہ ہی نہیں، بلکہ یہ عقیدے، حوصلے اور ہماری مشترکہ انسانیت کی فتح ہے۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ دعا گو ہیں کہ آنے والے دن ان تمام افراد کے لیے شفا اور سکون کا باعث بنیں جو اس مشکل وقت سے گزرے ہیں۔ انہوں نے ریلی میں شرکت کرنے والوں سے مخاطب ہو کر کہا، ’’ہم دعا کرتے ہیں کہ آنے والے دن آپ سب کے لیے شفایابی کا سبب بنیں۔ خدا آپ سب کو (جن میں سے اکثر یرغمالیوں کے رشتہ ہیں) اس تاریک دور میں یکجہتی کے ساتھ کھڑے رہنے کی ہمت اور حوصلہ دے۔‘‘
ایوانکا ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ’’اگلا باب دیرپا اور پائیدار امن کا دور ہوگا۔‘‘
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی گزرگاہیں شدید جھڑپوں کے بعد بند
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہیں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد آج اتوار کے روز بند کر دی گئیں۔
اس سے قبل طالبان نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانستان میں فضائی حملے کیے۔ دونوں ممالک کے درمیان ان جھڑپوں کے بعد طورخم اور چمن کی سرحدی گزرگاہیں بند کر دی گئیں۔
پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے افغان سرحد پر ’’اشتعال انگیزی‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر جارحیت کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔
چمن اور طورخم سرحدی گزرگاہیں بھی بند، سرحدی کشیدگی برقرار
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد چمن اور طورخم کی اہم سرحدی گزرگاہیں بند کر دی گئیں۔ افغان طالبان نے پاکستانی فضائی حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے ہفتے کی رات سرحد پر شدید جھڑپوں کا آغاز کیا۔
طورخم میں تعینات ایک اعلیٰ پاکستانی اہلکار نے بتایا کہ علاقے میں اضافی نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر تمام سول عملے کو سرحد سے ہٹا لیا گیا ہے۔ چمن میں بھی سرحدی گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق کم از کم چار سرحدی اضلاع میں بھاری ہتھیاروں سے جھڑپیں ہوئیں، تاہم پاکستان کی جانب کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
افغان وزارت دفاع کے ترجمان عنایت خوارزم نے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان فورسز نے ’’کامیاب کارروائیاں‘‘ کیں جو آدھی رات کو ختم ہو گئیں۔ اتوار کی صبح تک مزید جھڑپوں کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا میں 2021 ء میں امریکی افواج کے انخلا اور طالبان حکومت کی واپسی کے بعد سے شدت پسندی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستانی وزیر اعظم کی طرف سے افغانستان کی ’اشتعال انگیزی‘ کی مذمت
پاکستان کے وزیر اعظم نے افغانستان کی ’اشتعال انگیزی کی مذمت کرتے ہوئے ’سخت‘ جوابی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔
اسلام آباد سے موصولہ اے ایف پی کی تازہ ترین رپوٹ کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان رات بھر سرحدی جھڑپوں کے بعد آج اتوار 12 اکتوبر کو کہا کہ وہ افغانستان کی طرف سے ’’اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کرتے ہیں‘‘، ساتھ ہی انہوں نے اس کا ’’مضبوط اور مؤثر جواب‘‘ دینے کا عزم بھی ظاہر کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں افغانستان میں طالبان حکام پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سرزمین ’’دہشت گرد عناصر‘‘ کو استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور یہ کہ ’’پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔‘‘
مقامی میڈیا کے مطابق شہباز شزیف نے باور کرایا کہ پاکستان کی فوج ہمیشہ ہر طرح کی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتی آئی ہے اور پاکستانی قوم اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔