1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’سرحدی جھڑپوں میں درجنوں فوجیوں کی ہلاکت کے دوطرفہ دعوے‘

کشور مصطفیٰ اے ایف پی، اے پی، مقامی میڈیا
وقت اشاعت 12 اکتوبر 2025آخری اپ ڈیٹ 12 اکتوبر 2025

کابل اور اسلام آباد نے اتوار کے روز کہا کہ دونوں ممالک کی افواج نے ایک دوسرے کے درجنوں فوجیوں کو گزشتہ رات کی شدید سرحدی جھڑپوں میں ہلاک کیا۔

https://p.dw.com/p/51qpK
پاکستان کا شورش زدہ علاقہ شمالی وزیرستان جہاں پاکستانی فوجی پٹرول کرتے نظر آ رہے ہیں
افغانستان کی طالبان فورسز نے ہفتہ کی رات پاکستانی فوجیوں پر مشترکہ سرحدی علاقے پرحملے کیےتصویر: FAROOQ NAEEM/AFP
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

* پاکستانی وزیر اعظم کی طرف سے افغانستان کی ’اشتعال انگیزی‘ کی مذمت 

* پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی گزرگاہیں شدید جھڑپوں کے بعد بند

*  یرغمالیوں کی واپسی عقیدے کی فتح ہے، ایوانکا ٹرمپ

* حماس اور اسرائیل کے مابین  قیدیوں کا تبادلہ پیر کو متوقع

* دنیا کے معمر ترین صدر کی اقتدار میں توسیع کی کوشش، کیمرون میں صدارتی انتخابات

*  اتوار کو تقریباً 600 امدادی ٹرک غزہ پٹی میں داخل ہونے کی توقع 

* 200 طالبان اور ان کے اتحادی مارے، 23  پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے، پاکستانی فوج

*  یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلے کا وقت مقرر

* اسرائیل کا سرنگوں کو تباہ کرنے کا عزم 

* جنگ بندی معاہدے کی پیچیدگیاں 

* فرینکفرٹ اَن ڈیئر اوڈر میں اے ایف ڈی کے امیدوار میئر شپ کا دوسرا انتخابی مرحلہ، اے ایف ڈی امیدوار بھی شامل

* روس کا یوکرین کے توانائی نظام پر حملہ، امریکہ سے ٹام ہاک میزائلوں کی فراہمی پر شدید تشویش

 

ادارت: افسر اعوان/ عدنان اسحاق

روس کا یوکرین کے توانائی نظام پر حملہ، امریکہ سے ٹام ہاک میزائلوں کی فراہمی پر شدید تشویش سیکشن پر جائیں
12 اکتوبر 2025

روس کا یوکرین کے توانائی نظام پر حملہ، امریکہ سے ٹام ہاک میزائلوں کی فراہمی پر شدید تشویش

ماسکو کی طرف سے یوکرین کے بجلی کے نظام پر حملے کے بعد متعدد علاقوں میں اندھیرا
ڈونیٹسک، اوڈیسا اور چیرنہیف کے علاقوں میں بھی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے گئے۔تصویر: UKRAINIAN EMERGENCY SERVICE/HANDOUT/AFP

ماسکو نے اتوار کی رات یوکرین کے بجلی کے نظام پر حملہ کیا، جو سردیوں سے قبل یوکرینی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مفلوج کرنے کی جاری مہم کا حصہ ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب روس نے امریکہ کی جانب سے یوکرین کو ٹام ہاک کروز میزائل فراہم کرنے کے امکان پر ’’شدید تشویش‘‘ کا اظہار کیا۔
کییف کے علاقائی گورنر میکولا کالاشنیک نے بتایا کہ یوکرین کی سب سے بڑی نجی توانائی کمپنی DTEK کے دو ملازمین روسی حملوں میں زخمی ہوئے۔ ان حملوں کا نشانہ  ایک سب وے اسٹیشن تھا۔ یوکرین کی وزارت توانائی کے مطابق ڈونیٹسک، اوڈیسا اور چیرنہیف کے علاقوں میں بھی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے گئے۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا، ’’روس ہمارے شہروں اور کمیونٹیز پر فضائی دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہے، اور توانائی کے نظام پر حملے تیز کر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران روس نے یوکرین پر  ’’ 3,100 سے زائد ڈرونز، 92 میزائل اور تقریباً 1,360 گلائیڈ بم‘‘ داغے۔

آبدوز USS Asheville سے Tomahawk میزائل خارج ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے
زیلنسکی امریکی حکام سے مختلف طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں، بشمول ٹام ہاک میزائل اور مزید ATACMS ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں کی فراہمی پر بات چیت کر رہے ہیں۔تصویر: Zachary Grooman/U.S. Navy/DVIDS/dpa/picture alliance


زیلنسکی نے روسی تیل کے خریداروں پر مزید سخت ثانوی پابندیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، ’’پابندیاں، محصولات اور روسی تیل کے خریداروں کے خلاف مشترکہ اقدامات، جو اس جنگ کی مالی معاونت کرتے ہیں، سب زیر غور رہنے چاہییں۔‘‘
یوکرینی صدر نے ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات چیت کی تھی۔ انہوں نے اس گفتگو کو  ’’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا تھا۔ اس بات چیت میں انہوں نے یوکرین کے توانائی نظام پر روسی حملوں اور فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے مواقع پر بات کی۔ ایک روز قبل زیلنسکی نے کہا تھا کہ وہ امریکی حکام سے مختلف طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں، بشمول ٹام ہاک میزائل اور مزید ATACMS ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں کی فراہمی پر بات چیت کر رہے ہیں۔
ادھر کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے اتوار کو شائع ہونے والے بیان میں کہا، ’’ٹام ہاک میزائلوں کا موضوع انتہائی تشویشناک ہے۔‘‘
انہوں نے روسی سرکاری ٹی وی کے رپورٹر پاویل زاروبن سے گفتگو میں کہا، ’’ یہ واقعی ایک نہایت نازک لمحہ ہے، کیونکہ ہر طرف سے کشیدگی بڑھ رہی ہے۔‘‘
 

https://p.dw.com/p/51rNY
فرینکفرٹ اَن ڈیئر اوڈر میں اے ایف ڈی کے امیدوار میئر شپ کا دوسرا انتخابی مرحلہ، اے ایف ڈی امیدوار بھی شامل سیکشن پر جائیں
12 اکتوبر 2025

فرینکفرٹ اَن ڈیئر اوڈر میں اے ایف ڈی کے امیدوار میئر شپ کا دوسرا انتخابی مرحلہ، اے ایف ڈی امیدوار بھی شامل

تارکین وطن اور مسلمان مخالف انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی (AfD) کا لوگو
جرمنی کے مشرقی شہر فرینکفرٹ اَن ڈیئر اوڈر میں آج اتوار کو میئر شپ کے لیے رَن آف انتخابات کے ووٹنگ جاری ہےتصویر: Sachelle Babbar/ZUMAPRESS/picture alliance


جرمنی کے مشرقی شہر فرینکفرٹ اَن ڈیئر اوڈر میں آج اتوار کو میئر شپ کے لیے رَن آف انتخابات کے ووٹنگ جاری ہے، جہاں انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی (AfD) کے امیدوار ولکو مؤلر کا ایک آزاد امیدوار آکسِل اشٹراسر سے مقابلہ ہے۔
21 ستمبر کو ہونے والے پہلے مرحلے میں اشٹراسر نے 32.4 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ مؤلر کو 30.2 فیصد ووٹ ملے۔ کرسچن ڈیموکریٹک یونین  (CDU) اور سوشلسٹ جماعت (SPD) کے امیدوار پہلے مرحلے میں ہی باہر ہو گئے تھے۔
یونیورسٹی آف پوٹسڈام کے سیاسی ماہر یان فلیپ تھومچیک کے مطابق اگر مؤلر کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک ’’بہت زوردار  پیغام‘‘ ہوگا کہ AfD شہری علاقوں میں بھی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔
فرینکفرٹ اَن ڈیئر اوڈر، جرمنی کی ریاست برانڈن برگ میں واقع ہے اور پولینڈ کی سرحد کے قریب ہے۔
جرمن شہروں کی تنظیم کے مطابق، اس وقت کسی بھی بڑے جرمن شہر میں AfD سے وابستہ کوئی میئر موجود نہیں۔ البتہ ٹم لوخنر نے 2023 میں AfD کی نامزدگی پر پیرنا شہر میں میئر شپ حاصل کی تھی۔ یہ شہر چیک ریپبلک کی سرحد کے نزیدک واقع ہے۔ تاہم ٹم لوخنر  تکنیکی طور پر آزاد امیدوار تھے۔ اسی طرح روبرٹ زیزلمن ریاست تھیورنگیا کے ضلع زونے برگ میں ضلعی منتظم ہیں، اور صوبے سیکسنی انہالٹ کی چھوٹی بستیوں میں بھی AfD کے میئرز موجود ہیں۔
 

https://p.dw.com/p/51rKX
اسرائیل کا سرنگوں کو تباہ کرنے کا عزم سیکشن پر جائیں
12 اکتوبر 2025

اسرائیل کا سرنگوں کو تباہ کرنے کا عزم

اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز جولائی میں واشنگٹن کے دورے پر تھے
اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کے نیچے موجود حماس کی باقی ماندہ سرنگوں کو ختم کرنے کا عزم رکھتا ہےتصویر: Yasin Ozturk/Anadolu Agency/IMAGO

اسرائیل کے وزیر دفاع نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی مکمل ہونے کے بعد، اسرائیل غزہ کے نیچے موجود حماس کی باقی ماندہ سرنگوں کو ختم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق یہ کارروائی ایک ’’بین الاقوامی نظام‘‘ کے تحت کی جائے گی، جس کی قیادت امریکہ کرے گا۔

https://p.dw.com/p/51rK5
جنگ بندی معاہدے کی پیچیدگیاں سیکشن پر جائیں
12 اکتوبر 2025

جنگ بندی معاہدے کی پیچیدگیاں

کشور مصطفیٰ /عبدالغنی کاکڑ
غزہ کے رہائشی وسطی غزہ کے علاقے نصیرات کے قریب واقع نام نہاد 'نیٹزاریم کاریڈور' سے گزرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں
حماس نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے ابتدائی مرحلے میں یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے پر رضامندی ظاہر کی ہےتصویر: Eyad Baba/AFP

حماس کے سینئر رہنما حسام بدران نے کہا ہے کہ  غزہ جنگ بندی معاہدے کے منصوبے کا دوسرا مرحلہ، جس میں تنظیم کا غیر مسلح ہونا شامل ہے، ’’کئی پیچیدگیوں اور مشکلات پر مشتمل ہے۔‘‘ ایک اور حماس کے عہدیدار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، اے ایف پی کو بتایا کہ تنظیم کا غیر مسلح ہونا ’’ناقابلِ قبول‘‘ ہے۔
یاد رہے کہ حماس نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے ابتدائی مرحلے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس میں 48 اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے بدلے 250 فلسطینی قیدیوں اور جنگ کے آغاز سے اسرائیل میں زیر حراست 1,700 غزہ کے باشندوں کی رہائی شامل ہے۔
 

https://p.dw.com/p/51rJn
یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلے کا وقت مقرر سیکشن پر جائیں
12 اکتوبر 2025

یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلے کا وقت مقرر

 یرغمالیوں کی واپسی کے منتظر افراد تل ابیب میں 'یرغمالیوں کے چوک' پر جمع
غزہ امن معاہدے کی بنیاد یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے پر رکھی گئی ہےتصویر: Ronen Zvulun/REUTERS

فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیر کی صبح یرغمالیوں کی رہائی کا عمل شروع کرے گی، جو جنگ بندی معاہدے کے تحت مقرر کردہ دوپہر 12 بجے (0900 GMT) کی ڈیڈ لائن سے پہلے مکمل کیا جائے گا۔
غزہ امن معاہدے کی بنیاد یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے پر رکھی گئی ہے، جس کے تحت دونوں فریقوں کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ معاہدے کی شرائط کے مطابق کارروائی کریں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امید ظاہر کی ہے کہ پیر کی شب تک تمام زندہ اور وفات پا جانے والے یرغمالیوں کی واپسی کے بعد اسرائیل ’’قومی خوشی کا دن‘‘ منا سکے گا۔
یہ تبادلہ دو سالہ جنگ کے بعد امن کی طرف ایک ممکنہ پیش رفت بھی تصور کیا جا رہا ہے۔
غزہ میں جنگ بندی تیسرے روز بھی برقرار ہے، جب کہ پیر کو مصر میں ایک ایک اہم سربراہی اجلاس کی تیاری جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی پیر کی شرم الشیخ میں غزہ امن سربراہی اجلاس کی مشترکہ میزبانی کریں گے۔
 

https://p.dw.com/p/51rJX
200 طالبان اور ان کے اتحادی مارے، 23 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے، پاکستانی فوج سیکشن پر جائیں
12 اکتوبر 2025

200 طالبان اور ان کے اتحادی مارے، 23 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے، پاکستانی فوج

کشور مصطفیٰ اے ایف پی، اے پی کے ساتھ
پاکستان اور افغانستان کی بارڈر کراسنگ طورخم میں تعینات پاکستانی سرحدی پولیس
طالبان کے 2021 میں افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں بارہا جھڑپیں ہو چکی ہیںتصویر: Wakil Kohsar/AFP

کابل اور اسلام آباد  نے اتوار کے روز کہا کہ دونوں ممالک کی افواج نے ایک دوسرے کے درجنوں فوجیوں کو گزشتہ رات کی شدید سرحدی جھڑپوں میں ہلاک کیا۔
افغانستان کی طالبان فورسز نے ہفتہ کی رات پاکستانی فوجیوں پر مشترکہ سرحد کے ساتھ حملے کیے، جسے انہوں نے ’’جمعرات کو پاکستانی فوج کی جانب سے کابل پر کیے گئے فضائی حملوں کے جواب‘‘ کے طور پر بیان کیا۔
اسلام آباد نے ان حملوں کی براہ راست ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن بارہا یہ کہا ہے کہ اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، خاص طور پر اس بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے خلاف جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔
طالبان کے 2021 میں افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں بارہا جھڑپیں ہو چکی ہیں، لیکن تازہ پیشرفت کو ایک سنگین اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔

وزیر خارجہ جے شنکر اور افغانستان کے وزیر خارجہ متقی کے درمیان ملاقات
بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے 10 اکتوبر 2025 کو نئی دہلی میں افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی۔ تصویر: Indian Ministry of External Affairs/Anadolu/picture alliance


طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اتوار کو کہا کہ جھڑپوں میں 58 پاکستانی فوجی ہلاک اور تقریباً 30 زخمی ہوئے، جبکہ طالبان کے نو اہلکار مارے گئے۔
دوسری جانب پاکستانی فوج نے کہا کہ اس کے 23 فوجی ہلاک ہوئے اور طالبان اور ان کے اتحادیوں کے 200 سے زائد اہلکار مارے گئے۔ اے ایف پی ان ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اتوار کو کہا کہ ’’صورتحال قابو میں ہے۔‘‘
انہوں نے بھارت کے دورے کے دوران بیان دیتے ہوئے کہا، ’’ہماری گزشتہ رات کی کارروائی نے اپنے اہداف حاصل کر لیے۔ پھر ہمارے دوست جیسے قطر اور سعودی عرب نے اپیل کی کہ جنگ اب رکنی چاہیے، اور جنگ اس وقت بند ہو چکی ہے۔‘‘
ایک افغان فوجی یونٹ نے جمعرات کو دارالحکومت میں ہونے والے دھماکوں کو ’’فضائی حملے‘‘ قرار دیا، لیکن مجاہد نے کہا کہ یہ واقعہ ’’فضائی حدود کی خلاف ورزی‘‘ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں  مزید کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ 
      

https://p.dw.com/p/51rEP
اتوار کو تقریباً 600 امدادی ٹرک غزہ پٹی میں داخل ہونے کی توقع سیکشن پر جائیں
12 اکتوبر 2025

اتوار کو تقریباً 600 امدادی ٹرک غزہ پٹی میں داخل ہونے کی توقع

 غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے بعد، رفح میں امدادی سامان سے لدے ٹرک
غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والی گاڑیاں مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان سرحدی گزرگاہ کو عبور کرتی ہیںتصویر: Stringer/REUTERS

اتوار کے روز غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے تیاریاں زوروں پر  نظر آ رہی ہیں، کیونکہ جنگ بندی معاہدے نے دو سال سے جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کی امید پیدا کر دی ہے۔

اسرائیلی دفاعی ادارے COGAT کے مطابق، اتوار کو تقریباً 600 امدادی ٹرک غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی توقع ہے، جو معاہدے کے تحت طے شدہ ہے۔ مصر نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 400 امدادی ٹرک روانہ کر رہا ہے، جن میں طبی سامان، خیمے، کمبل، خوراک اور ایندھن شامل ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی فوٹیج میں رفح کراسنگ کے مصری جانب درجنوں ٹرکوں کو غزہ کی طرف بڑھتے ہوئے دکھایا گیا۔ تمام ٹرکوں کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے کریم شالوم کراسنگ پر معائنہ کے بعد اندر جانے کی اجازت دی جائے گی۔

مصر اور غزہ پٹی کے درمیان سرحدی گزرگاہ پر کھڑے امدادی ٹرک
اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار حالیہ مہینوں میں صرف 20 فیصد امداد ہی فراہم کر سکےتصویر: Stringer/REUTERS

اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار حالیہ مہینوں میں صرف 20 فیصد امداد ہی فراہم کر سکے، جس کی وجہ سرحدی بندشیں اور اسرائیلی پابندیاں ہیں۔ ان پابندیوں اور جارحیت نے غزہ میں بھوک کے بحران کو جنم دیا، جہاں کئی علاقوں میں قحط کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق، تقریباً 170,000 میٹرک ٹن خوراک، ادویات اور دیگر امدادی سامان غزہ میں داخلے کے لیے تیار ہے، جس کے لیے اسرائیل کی منظوری کا انتظار ہے۔
ادھر، غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن، جو اسرائیل اور امریکہ کی حمایت یافتہ تنظیم ہے اور مئی سے اقوام متحدہ کی جگہ بنیادی خوراک فراہم کر رہی ہے، اس کی مستقبل کی حیثیت ابھی غیر واضح ہے۔
 

https://p.dw.com/p/51r0W
دنیا کے معمر ترین صدر کی اقتدار میں توسیع کی کوشش، کیمرون میں صدارتی انتخابات سیکشن پر جائیں
12 اکتوبر 2025

دنیا کے معمر ترین صدر کی اقتدار میں توسیع کی کوشش، کیمرون میں صدارتی انتخابات

کیمرون کے صدر پال بیا اور خاتون اول چنتل بیا  ایک سیاسی ریلی میں شریک
92 سالہ صدر پال بیا، دنیا کے سب سے عمر رسیدہ حکمران ہیںتصویر: Welba Yamo Pascal/AP Photo/picture alliance


کیمرون میں آج اتوار کے روز صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا آغاز ہوا، جہاں 92 سالہ صدر پال بیا، جو دنیا کے سب سے عمر رسیدہ حکمران ہیں، 43 سالہ اقتدار کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مرکزی حریف 76 سالہ سابق حکومتی ترجمان عیسیٰ چیروما ہیں، جنہیں کئی اپوزیشن جماعتوں اور شہری تنظیموں کی حمایت بھی حاصل ہے۔
اگرچہ اپوزیشن متحرک ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر بیا کے ریاستی نظام پر مضبوط کنٹرول اور اپوزیشن کی تقسیم کی وجہ سے ان کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ دارالحکومت یاؤنڈے میں سخت سکیورٹی کے ماحول میں ووٹرز نے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا، خاص طور پر باسٹوس کے پوش علاقے میں، جہاں صدر بیا اپنا ووٹ ڈالیں گے۔
بیا کے ناقدین اب بھی امید رکھتے ہیں کہ انہیں اقتدار سے ہٹایا جا سکتا ہے، خاص طور پر کئی دہائیوں کی معاشی جمود اور تین کروڑ آبادی والے اس وسطی افریقی ملک میں جاری کشیدگی کے بعد۔
 

https://p.dw.com/p/51qye
حماس اور اسرائیل کے مابین قیدیوں کا تبادلہ پیر کو متوقع سیکشن پر جائیں
12 اکتوبر 2025

حماس اور اسرائیل کے مابین قیدیوں کا تبادلہ پیر کو متوقع

تل ابیب کے ’’ہوسٹیجز اسکوائر‘‘میں منعقدہ ریلی کے دوران یرغمالیوں کے رشتہ داروں کے جذباتی مناظر
فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے کہا ہے کہ قیدیوں کا تبادلہ پیر کی صبح سے شروع ہونا ہےتصویر: Maya Levin/AFP/Getty Images

غزہ میں قید 48 یرغمالیوں کی، جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی ہے اور جن میں سے تقریباً کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ 20 تاحال زندہ ہیں، رہائی کا عمل پیر کے روز شروع ہونے کا امکان ہے۔ یہ اطلاع فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے دی ہے۔
فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے اعلیٰ رہنما اسامہ حمدان نے اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا، ’’طے شدہ معاہدے کے مطابق قیدیوں کا تبادلہ پیر کی صبح سے شروع ہونا ہے اور اس معاملے میں کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ زمینی سطح پر موجود جنگجوؤں نے ابھی تک حماس کی اعلیٰ قیادت کو رہائی کے طریقہ کار کے بارے میں آگاہ نہیں کیا ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کا عمل پیر کے روز متوقع ہے۔
 

https://p.dw.com/p/51qvJ
یرغمالیوں کی واپسی عقیدے کی فتح ہے، ایوانکا ٹرمپ سیکشن پر جائیں
12 اکتوبر 2025

یرغمالیوں کی واپسی عقیدے کی فتح ہے، ایوانکا ٹرمپ

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ تل ابیب کے ’’ہوسٹیجز اسکوائر‘‘میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے
یہ اجتماع اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے بعد منعقد ہواتصویر: Jack Guez/AFP/Getty Images


 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے تل ابیب کے ’’ہوسٹیجز اسکوائر‘‘میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حماس کی قید سے یرغمالیوں کی رہائی کو ’’عقیدے، حوصلے اور مشترکہ انسانیت کی فتح‘‘ قرار دیا۔
یہ اجتماع اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے بعد منعقد ہوا، جس میں ایوانکا ٹرمپ کے شوہر جیریڈ کشنر اور وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے لوگوں کے اجتماع سے خطاب کیا۔ جیریڈ کشنرنے اپنی تقریر کے بعد مائیکروفون اپنی اہلیہ ایوانکا ٹرمپ کے حوالے کیا۔ ایوانکا ٹرمپ نے اپنے خطاب میں مزید کہا، ’’ہر یرغمالی کی واپسی صرف اپنے گھر لوٹنا اور سکون کا لمحہ ہی نہیں، بلکہ یہ  عقیدے، حوصلے اور ہماری مشترکہ انسانیت کی فتح ہے۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ دعا گو ہیں کہ آنے والے دن ان تمام افراد کے لیے شفا اور سکون کا باعث بنیں جو اس مشکل وقت سے گزرے ہیں۔ انہوں نے ریلی میں شرکت کرنے والوں سے مخاطب ہو کر کہا، ’’ہم دعا کرتے ہیں کہ آنے والے دن آپ سب کے لیے شفایابی کا سبب بنیں۔ خدا آپ سب کو (جن میں سے اکثر یرغمالیوں کے رشتہ ہیں) اس تاریک دور میں یکجہتی کے ساتھ کھڑے رہنے کی ہمت اور حوصلہ دے۔‘‘ 
ایوانکا ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ’’اگلا باب دیرپا اور پائیدار امن کا دور ہوگا۔‘‘
 

https://p.dw.com/p/51qsT
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی گزرگاہیں شدید جھڑپوں کے بعد بند سیکشن پر جائیں
12 اکتوبر 2025

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی گزرگاہیں شدید جھڑپوں کے بعد بند

کشور مصطفیٰ اے پی، اے ایف پی
طورخم بارڈر پر تعینات افغان طالبان فوجی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد چمن اور طورخم کی اہم سرحدی گزرگاہیں بند کر دی گئیںتصویر: Shafiullah Kakar/AP Photo/dpa/picture alliance


پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہیں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد آج اتوار کے روز بند کر دی گئیں۔
اس سے قبل طالبان نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانستان میں فضائی حملے کیے۔ دونوں ممالک کے درمیان ان جھڑپوں کے بعد طورخم اور چمن کی سرحدی گزرگاہیں بند کر دی گئیں۔
پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے افغان سرحد پر ’’اشتعال انگیزی‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر جارحیت کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔

چمن اور طورخم سرحدی گزرگاہیں بھی بند، سرحدی کشیدگی برقرار


 پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد چمن اور طورخم کی اہم سرحدی گزرگاہیں بند کر دی گئیں۔ افغان طالبان نے پاکستانی فضائی حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے ہفتے کی رات سرحد پر شدید جھڑپوں کا آغاز کیا۔
طورخم میں تعینات ایک اعلیٰ پاکستانی اہلکار نے بتایا کہ علاقے میں اضافی نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر تمام سول عملے کو سرحد سے ہٹا لیا گیا ہے۔ چمن میں بھی سرحدی گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق کم از کم چار سرحدی اضلاع میں بھاری ہتھیاروں سے جھڑپیں ہوئیں، تاہم پاکستان کی جانب کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
افغان وزارت دفاع کے ترجمان عنایت خوارزم نے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان فورسز نے ’’کامیاب کارروائیاں‘‘ کیں جو آدھی رات کو ختم ہو گئیں۔ اتوار کی صبح تک مزید جھڑپوں کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا میں 2021 ء میں امریکی افواج کے انخلا اور طالبان حکومت کی واپسی کے بعد سے شدت پسندی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/51qsB
پاکستانی وزیر اعظم کی طرف سے افغانستان کی ’اشتعال انگیزی‘ کی مذمت سیکشن پر جائیں
12 اکتوبر 2025

پاکستانی وزیر اعظم کی طرف سے افغانستان کی ’اشتعال انگیزی‘ کی مذمت

کشور مصطفیٰ اے ایف پی، اے پی، مقامی میڈیا
افغان سرحدی پولیس اہلکار پاکستان کے ساتھ سرحدی گزرگاہ کی نگرانی کرتے ہوئے
افغانستان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ سرحدی جھڑپوں میں 58 پاکستانی فوجی ہلاک کر دیے گئے ہیں۔تصویر: Noorullah Shirzada/AFP

پاکستان کے وزیر اعظم نے افغانستان کی ’اشتعال انگیزی کی مذمت کرتے ہوئے ’سخت‘ جوابی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ 

اسلام آباد سے موصولہ اے ایف پی کی تازہ ترین رپوٹ کے مطابق  پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان رات بھر سرحدی جھڑپوں کے بعد  آج اتوار 12 اکتوبر کو کہا کہ وہ افغانستان کی طرف سے ’’اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کرتے ہیں‘‘، ساتھ ہی انہوں نے اس کا ’’مضبوط اور مؤثر جواب‘‘ دینے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ 
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں افغانستان میں طالبان حکام پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سرزمین ’’دہشت گرد عناصر‘‘ کو استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور یہ کہ ’’پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔‘‘
مقامی میڈیا کے مطابق شہباز شزیف نے باور کرایا کہ پاکستان کی فوج ہمیشہ ہر طرح کی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتی آئی ہے اور پاکستانی قوم اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ 

https://p.dw.com/p/51qpP
مزید پوسٹیں