1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یوکرین تنازع: امریکہ نے روس سے تیل درآمدات پر بندش عائد کردی

9 مارچ 2022

یوکرین پر حملے کی وجہ سے مغربی ملکوں کی جانب سے روس کے خلاف پابندیوں میں اضافے کے درمیان امریکی صدر جو بائیڈن نے روس سے تیل اور قدرتی گیس کی درآمدات پر بندش عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/48CPK
USA Präsident Joe Biden kündigt Einfuhrverbot für russisches Öl an
تصویر: Andrew Harnik/AP Photo/picture alliance

امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کے روز روس سے تیل اور قدرتی گیس کی درآمدات پر بندش عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا، "یہ روسی معیشت کی شہہ رگ ہے جسے ہدف بنایا گیا ہے۔ ہم پوٹن کی لڑائی کا حصہ نہیں بن سکتے۔"  انہوں نے کہا کہ اس تازہ پابندی کا مقصد روس کو یوکرین کے خلاف جارحیت کے لیے سزا دینا ہے۔

 جنگ اور مزید پابندیوں میں اضافہ کے خوف سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس پس منظر میں بائیڈن نے تیل کمپنیوں اور ان کے شرکاء کار کو تیل کی قیمتوں میں "حد سے زیادہ اضافہ" کرنے کے خلاف بھی متنبہ کیا۔

امریکی صدر نے کہا، "روسی جارحیت کی ہم سب کو قیمت ادا کرنی پڑرہی ہے۔ یہ وقت منافع کمانے یا قیمتوں میں اضافہ کرنے کا نہیں ہے۔ "

یورپی یونین کا موقف کیا ہے؟

بائیڈن نے منگل کے روز کہا، "تیل کی درمدات پر بندش عائد کرنے کا یہ فیصلہ ہم نے پوری دنیا اور بالخصوص یورپ کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ قریبی مشاورت سے کیا ہے، حالانکہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کئی ملک روس کے بائیکاٹ میں شامل نہ ہوں۔"

بائیڈن کا کہنا تھا کہ چونکہ امریکہ توانائی کا ایکسپورٹر ہے اس لیے "ہم یہ قدم اٹھاسکتے ہیں جب کہ دوسرے ایسا نہیں کرسکتے ہیں۔"

انہوں نے تاہم کہا، "ہم یورپ اور اپنے دیگر اتحادیوں کے ساتھ ایک طویل مدتی لائحہ عمل تیار کررہے ہیں تاکہ روسی توانائی پر ان کا انحصار کم ہوسکے۔"

خیال رہے کہ منگل کے روز ہی یورپی کمیشن نے روسی ایندھن پر یورپی یونین کے انحصار کو اس سال دو تہائی تک اور سن 2030 سے پہلے مکمل انحصار ختم کرنے کے حوالے سے ایک منصوبہ شائع کیا ۔

صدر بائیڈن کے اعلان سے کچھ ہی دیر قبل برطانیہ نے کہا کہ وہ رواں سال کے اواخر تک روسی تیل کی درآمدات کو مرحلہ وار ختم کردے گا۔

امریکہ روسی توانائی پر بہت زیادہ انحصار نہیں کرتا ہے۔ امریکہ تیل اور پٹرولیم منصوعات کے شعبے میں اپنی درآمدات کا 10فیصد سے بھی کم روس سے درآمد کرتا ہے۔ لیکن صدر بائیڈن کی طرف سے روسی ایندھن کی درآمدات پر بندش کا اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکہ میں پٹرولیم کی قیمتیں اپنے ریکارڈ اونچی سطح پر ہیں۔ یورپ کے بیشتر ملکوں میں بھی تقریباً یہی حال ہے جہاں سن 2008 کے بعد سے خام تیل کی قیمتیں ریکارڈ اونچی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

Niederlande | Ukraine Konflikt | Benzin und Diesel
یورپ کے بیشتر ملکوں میں پٹرولیم کی قیمتیں اپنے ریکارڈ اونچی سطح پر ہیںتصویر: Robin Utrecht/picture alliance

جرمنی نے کیا کہا؟

جرمنی نے روس سے توانائی کی درآمدات پر بندش عائد کرنے سے فی الحال انکار کیا ہے۔

 جرمن چانسلر اولاف شولس کا کہنا تھا کہ تیل اور گیس یورپ میں روز مرہ کی زندگی کے لیے لازمی ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے بھی منگل کے روز اس موقف کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے روسی تیل کی درآمدات پر پابندی عائد کردی گئی تو جرمنی میں ٹرانسپورٹ سیکٹر تھم جائے گا۔

بائیڈن نے مزید کیا کہا؟

بائیڈن نے تسلیم کیا کہ روس سے تیل اور گیس کی درآمدات پر پابندی عائد کرنے سے ایندھن کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی لیکن کہا کہ وہ امریکہ میں "پوٹن کی طرف سے قیمتوں میں اضافہ" کو کم سے کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے۔

بائیڈن نے امریکیوں سے کلین انرجی کی طرف منتقل ہونے کی بھی اپیل کی اور کہا کہ اس سے "تیل اور قدرتی گیس جیسے ایندھن کو دیگر ملکوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے والے پوٹن جیسے ظالموں" کی طاقت چھن جائے گی۔

 یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنکسی نے مغربی رہنماوں سے اپیل کی تھی کہ وہ روس سے تیل کی درآمدات پر بھی روک لگائیں کیونکہ یہ کریملن کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

تیل کی درآمدات پر بندش عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر نے یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا اور کہا،"یوکرین کے خلاف پوٹن کی جنگ سے روس کمزور ہوگا جب کہ بقیہ دنیا مضبوط ہوجائے گی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ پناہ گزینوں کی دیکھ بھال پر آنے والے خرچ میں بھی اپنا حصہ دے گا۔ خیال رہے کہ یوکرین چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔

دریں اثنا توانائی کے شعبے کی امریکی کمپنی شیل نے روس سے گزشتہ ہفتے خام تیل خریدنے پر معذرت کا اظہار کیا۔ کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ روس کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات مرحلہ وار ختم کردے گی اور اسے مکمل ہونے میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔

 ڈارکو جانیویچ /  ج ا / ص ز

روس اور چین کی دوستی کا امتحان

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں