یونان: لیسبوس کے مہاجر کیمپ میں جھگڑا، درجنوں زخمی | مہاجرین کا بحران | DW | 20.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یونان: لیسبوس کے مہاجر کیمپ میں جھگڑا، درجنوں زخمی

یونانی جزیرے لیسبوس کے موریا نامی حراستی مرکز میں تارکین وطن کے دو گروہوں کے مابین جھگڑے کے باعث کئی مہاجر زخمی ہو گئے ہيں۔ موریا کیمپ میں گنجائش سے کہیں زیادہ تارکین وطن رہائش پذیر ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یونانی جزیرے لیسبوس کے موریا کیمپ نامی حراستی مرکز میں جھگڑے کا تازہ واقعہ منگل انیس دسمبر کی شب پیش آیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے یونانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ جھگڑا کیمپ میں مقیم کرد اور عرب تارکین وطن کے مابین ہوا، جس میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔

یونان سے واپس جانے والے پاکستانی مہاجرین کی مالی مدد

ترکی نے پاکستانیوں سمیت 310 مہاجرین یونان جانے سے روک دیے

لیسبوس کے ایک مقامی اخبار کے مطابق جھگڑے کے بعد کم از کم پندرہ زخمیوں کو قریبی ہسپتال لایا گیا۔ ان زخمیوں میں دو حاملہ خواتین اور ایک بچہ بھی شامل تھا۔ ہسپتال منتقل کیے گئے زخمیوں میں سے ایک مرد تارک وطن کو شدید نوعیت کے زخم آئے تھے، ہسپتال ذرائع کے مطابق اس کے سینے پر خنجر سے وار کیا گیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 02:30
Now live
02:30 منٹ

پاکستانی تارک وطن، جسے یورپ نے دوسری مرتبہ بھی مایوس کیا

ایتھنز کے ایک مقامی اخبار نے جھگڑے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ لڑائی کا آغاز افغانی، شامی اور عراقی تارکین وطن کے مابین غسل خانوں کے استعمال پر پیدا ہونے والا تنازعہ بنا۔ اس تنازعے کے بعد موریا کیمپ میں تارکین وطن گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے مدِ مقابل آ گئے۔ اس دوران کیمپ میں متعدد خیموں کو آگ بھی لگا دی گئی۔ سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے یونانی فائر بريگیڈ کی کئی گاڑیاں منگل کی شب موقع پر پہنچ گئیں اور اسی دوران صورت حال پر قابو پانے کے لیے پولیس کے دستے بھی کیمپ پہچے۔

لیسبوس جزیرے پر قائم موریا کیمپ میں گنجائش سے کہیں زیادہ تارکین وطن کو رہائش فراہم کی گئی ہے۔ دسمبر کے مہینے میں ایتھنز حکام نے موریا کیمپ سے ساڑھے سولہ سو تارکین وطن کو دیگر یونانی شہروں میں منتقل کیا تھا تاہم اس کے باوجود اس وقت بھی اس کیمپ میں پینتیس سو سے زائد تارکین وطن مقیم ہیں۔ جب کہ کیمپ میں تئیس سو افراد کی گنجائش ہے۔

علاوہ ازیں اس حراستی مرکز میں رہنے پر مجبور تارکین وطن کو اپنی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے کیے جانے تک رہنا پڑتا ہے اور اس عمل میں کئی مہینے گزر جاتے ہیں۔

یونانی جزیرےساموس میں پھنسے مہاجرین کی مشکلات

ترکی سے اٹلی: انسانوں کے اسمگلروں کا نیا اور خطرناک راستہ

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار