یونان: تارکین وطن کے مابین جھگڑا، افغان مہاجر ہلاک | مہاجرین کا بحران | DW | 27.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یونان: تارکین وطن کے مابین جھگڑا، افغان مہاجر ہلاک

یونانی جزیرے لیسبوس میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے مابین جھگڑا ہوا جس میں ایک افغان پناہ گزین ہلاک جب کہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق یونانی جزیرے لیسبوس میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے دس تارکین وطن کے مابین تلخ کلامی کے بعد جھگڑا شروع ہو گیا۔ اتوار چھبیس نومبر کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں پناہ کا متلاشی ایک افغان تارک وطن ہلاک ہو گیا۔

ترکی سے اٹلی: انسانوں کے اسمگلروں کا نیا اور خطرناک راستہ

دو برسوں میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے یورپ میں پناہ کی درخواستیں دیں

افغانستان سے تعلق رکھنے والے ان تارکین وطن کے مابین جھگڑے کے دوران ان میں سے تین زخمی بھی ہوئے۔ مقامی پولیس کے ایک ترجمان نے اس معاملے کی جاری تفتیش کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اس جھگڑے کی اصل وجوہات کیا تھیں۔

تفصیلات کے مطابق جھگڑے کا یہ واقعہ یونانی جزیرے لیسبوس میں تارکین وطن کے لیے بنائے گئے موریا کیمپ کے قریب ہی واقع ایک مکان میں پیش آیا۔ یہ گھر ان تارکین وطن نے کرائے پر حاصل کر رکھا تھا۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ حالیہ عرصے کے دوران ترک ساحلوں سے بحیرہ ایجیئن کے سمندری راستے عبور کر کے یونان پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ ہوا ہے۔

بحیرہ ایجیئن کے سمندری راستوں سے یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن عام طور پر یونانی جزیرے لیسبوس ہی پہنچتے ہیں۔ ان دنوں لیسبوس میں ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد تارکین وطن یونانی حکام کو اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرانے کے انتظار میں ہیں۔

اس جزیرے پر قائم ’موریا‘ نامی مہاجر کیمپ میں زیادہ سے زیادہ تئیس سو افراد کو رہائش فراہم کرنے کی گنجائش ہے۔ تاہم ان دنوں وہاں قریب سات ہزار پناہ کے متلاشی افراد کو ٹھہرایا گیا ہے جب کہ دیگر تارکین وطن لیسبوس جزیرے میں مختلف گھروں میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔

یونان سے واپس جانے والے پاکستانی مہاجرین کی مالی مدد

ترکی نے پاکستانیوں سمیت 310 مہاجرین یونان جانے سے روک دیے

DW.COM

اشتہار