یورپ کی راہ، مگر زندگی کا سفر ایرانی سرحد پر ہی ختم | مہاجرین کا بحران | DW | 19.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپ کی راہ، مگر زندگی کا سفر ایرانی سرحد پر ہی ختم

پاکستان سے یورپ کے غیر قانونی سفر پر نکلنے والے تارکین وطن بلوچستان سے ایرانی حدود میں اور پھر وہاں سے ترکی کی جانب روانہ ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں ایرانی سرحد کے قریب بیس تارکین وطن کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

یورپ کی جانب روانہ ہونے والے پاکستانی تارکین وطن کی اکثریت کا تعلق پاکستانی صوبہ پنچاب کے وسطی اضلاع سے ہوتا ہے۔ انسانوں کے اسمگلر لاکھوں روپوں کے عوض یورپ میں اچھی زندگی کے خواب دکھا کر ایسے تارکین وطن کو عام طور پر پاکستانی صوبہ بلوچستان سے غیر قانونی طور پر بین الاقوامی سرحد عبور کرا کر ایران پہنچاتے ہیں۔

یونان سے واپس جانے والے پاکستانی مہاجرین کی مالی مدد

یونان: پاکستانیوں سمیت کئی تارکین وطن کی ترکی واپسی

گزشتہ ہفتے کے دوران تاہم وسطی پنجاب ہی سے تعلق رکھنے والے بیس پاکستانی تارکین وطن کا یورپ کی جانب سفر اور زندگی کا اختتام اسی سرحد پر پاکستانی حدود ہی کے اندر ہو گیا۔

حکام کے مطابق رواں ماہ کے وسط میں غیر قانونی طور پر ایران کی جانب روانہ پندرہ پنجابی تارکین وطن کی گولیوں سے چھلنی لاشیں بلوچستان کے ضلع کیچ سے ایرانی سرحد کے قریب سے ملی تھیں۔ ہفتہ اٹھارہ نومبر کے روز مقامی حکام کو مزید پانچ تارکین وطن کی لاشیں ملیں۔ یوں چند روز کے اندر بلوچستان میں قتل ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد بیس ہو گئی ہے۔

بلوچستان کی صوبائی حکومت کے ترجمان انوار الحق نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ہفتے کے روز پنجاب سے تعلق رکھنے والے جن پانچ افراد کی لاشیں ایرانی سرحد کے قریب ملیں، انہیں دو روز قبل گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ان افراد کے قتل میں مبینہ طور پر بلوچ علیحدگی پسندوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے وسط میں پندرہ افراد کی لاشیں ملنے کے بعد ملکی فوج نے بھی الزام لگایا تھا کہ ان افراد کے قتل میں بلوچ علیحدگی پسندوں ہی کا ایک عسکریت پرست رہنما ملوث تھا۔

علیحدگی پسند بلوچستان میں اس سے قبل بھی پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

جمعے کے روز پاکستانی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ فوج نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پندرہ تارکین وطن کے مبینہ قتل میں ملوث بلوچ عسکریت پسند یونس توکلی کو ایرانی سرحد کے قریب ہلاک کر دیا ہے۔

جرمنی: پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد کیا کیا جا سکتا ہے؟

اٹلی: گزشتہ پانچ برسوں میں کتنے پاکستانیوں کو پناہ ملی؟

DW.COM

اشتہار