1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین کی اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیوں کی منظوری

شکور رحیم اے پی، اے ایف پی، روئٹرز، ڈی پی اے
12 مئی 2026

یہ اقدامات مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف بڑھتے حملوں کے ردعمل میں تیار کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے یورپی یونین کے فیصلے کو "من مانا اور سیاسی" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

https://p.dw.com/p/5DciD
مقبوضہ مغربی کنارے میں بسنے والے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ان اسرائیلی آبادکاروں کے ہاتھوں ان کا کچھ بھی محفوظ نہیں رہا
مقبوضہ مغربی کنارے میں بسنے والے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ان اسرائیلی آبادکاروں کے ہاتھوں ان کا کچھ بھی محفوظ نہیں رہاتصویر: Mohamad Torokman/REUTERS

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث اسرائیلی آبادکاروں اور ان کی تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ پابندیاں اس سے قبل ہنگری کی سابق حکومت کی مخالفت کے باعث رکی ہوئی تھیں، تاہم گزشتہ ماہ کے انتخابات میں وزیر اعظم وکٹر اوربان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یورپی یونین کے لیے اس معاملے پر پیش رفت ممکن ہو سکی۔

یہ اقدامات مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف بڑھتے حملوں کے ردعمل میں تیار کیے گئے ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر تشدد کے واقعات معمول بن چکے ہیں
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر تشدد کے واقعات معمول بن چکے ہیںتصویر: Hazem Bader/AFP

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ وزرائے خارجہ نے فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیوں کی منظوری دے دی ہے۔ ان کے مطابق حماس کے اہم رہنماؤں کے خلاف نئی پابندیوں پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے کہا کہ یورپی یونین ان اسرائیلی تنظیموں اور ان کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے جو مغربی کنارے میں "انتہا پسندانہ اور پرتشدد آبادکاری" کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے اقدامات فوری طور پر بند ہونے چاہییں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سعار نے یورپی یونین کے فیصلے کو "من مانا اور سیاسی" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی شہریوں اور تنظیموں کو ان کے سیاسی خیالات کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پابندیوں کے تحت تین آبادکاروں اور چار تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ان کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔ یورپی یونین اس سے قبل بھی 2024 میں بعض اسرائیلی آبادکاروں پر سفری پابندیاں اور اثاثے منجمد کرنے جیسے اقدامات کر چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق رواں برس اب تک مغربی کنارے میں 45 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 11 بچے بھی شامل ہیں
اقوام متحدہ کے مطابق رواں برس اب تک مغربی کنارے میں 45 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 11 بچے بھی شامل ہیںتصویر: Jaafar Ashtiyeh/AFP

کئی یورپی ممالک اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر مزید سخت پابندیوں کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ سویڈن کی وزیر خارجہ نے ان مصنوعات پر محصولات عائد کرنے اور ان اسرائیلی وزرا پر پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے، جو ان بستیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر دہشتگردانہ حملوں کے بعد مغربی کنارے میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق رواں برس اب تک مغربی کنارے میں 45 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 11 بچے بھی شامل ہیں۔

ادارت: جاوید اختر

اے پی، اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز