یورپی یونین سے قریبی تعلقات بھارت کے مفاد میں ہیں، فان ڈیئر لائن | حالات حاضرہ | DW | 26.04.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یورپی یونین سے قریبی تعلقات بھارت کے مفاد میں ہیں، فان ڈیئر لائن

یورپی کمیشن کی سربراہ ارزولا فان ڈیئر لائن کا کہنا ہے کہ چین اور روس کی شراکت داری میں ’کوئی حد نہیں‘ اور یہ بھارت اور یورپ کے لیے خطرہ ہے۔ وہ بھارت کو روس سے دور کرنے کی کوشش کرنے والی مغرب کی تازہ ترین شخصیت ہیں۔

ایک ایسے وقت جب نئی دہلی ماسکو اور مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن کرنے کی کوشش میں ہے، یورپی کمیشن کی سربراہ ارزولا فان ڈیئر لائن نے پیر کے روز بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ خود کو یورپی یونین سے قریب کرنے کی کوشش کرے۔

نئی دہلی میں منعقد ہونے والی سالانہ کانفرنس 'رائسینا ڈائیلاگ' سے خطاب کرتے ہوئے فان ڈیئر لائن نے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات بھارت کے اسٹریٹیجک مفاد میں ہیں۔

انہوں نے کہا،’’فعال جمہوریتوں کے طور پر، بھارت اور یورپی یونین کی جہاں بنیادی اقدار مشترک ہیں، وہیں دونوں کے مفادات بھی ایک جیسے ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ ہر ملک کو اپنی تقدیر خود طے کرنے کے حق ہے۔ ہم قانون کی حکمرانی اور بنیادی حقوق پر ایک ساتھ مل کر یقین رکھتے ہیں۔ یہ جمہوریت ہے، جو شہریوں کے لیے بہترین پیشکش کرتی ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا، ’’آنے والے عشروں میں یورپی یونین کے لیے، اس خطے کے ساتھ شراکت داری، ہمارے اہم ترین تعلقات میں سے ایک ہے اور اس شراکت داری کو مضبوط بنانا یورپی یونین کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ہمارا سٹریٹیجک تعاون تجارت، قابل اعتماد ٹیکنالوجی اور سیکورٹی کے گٹھ جوڑ پر ہونا چاہیے۔"

انہوں نے کہا کہ بھارت اور یورپی یونین "فطری شراکت دار" ہیں جو "مشترکہ اصولوں اور منصفانہ مسابقت کی دنیا میں ترقی کے راستے پر گامزن ہیں۔" لیکن فان ڈیئر لائن نے خبردار کیا کہ ان اقدار کو روس اور چین سے خطرہ بھی ہے۔

انہوں نے یوکرین پر روسی حملے سے قبل چین اور روس کے مشترکہ بیان کہ ان کے رشتوں کی، "کوئی حد نہیں ہے" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا "حقیقت یہ ہے کہ ان بنیادی اصولوں، جو پوری دنیا میں امن اور سلامتی کو فروغ دیتے ہیں، کو خطرہ لاحق ہے۔"

انہوں نے کہا کہ یہ جنگ صرف یورپ کو ہی نہیں بلکہ ہند بحرالکاہل خطے کو بھی متاثر کر رہی ہے، جو خوراک اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی شکل میں پہلے ہی سے نظر آ رہی ہے۔

یورپی کمیشن کی سربراہ نے کہا کہ ہند بحرالکاہل کا کھلا رہنا اور خطے میں مزید خوشحالی یورپی یونین کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے یورپی یونین آسیان سمیت خطے کے شراکت داروں کے ساتھ اپنے روابط کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔

اس موقع پر فان ڈیئر لائن نے چین کی اس "قرض کے جال کی ڈپلومیسی" پر بھی تنقید کی، جو ناقدین کے نظر میں بیجنگ کو بندرگاہوں اور اہم انفراسٹرکچر کا کنٹرول سنبھالنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس کے بجائے انہوں نے یورپی یونین کے 'گلوبل گیٹ وے پروگرام' کی وکالت کی، جس کا مقصد شراکت دار ممالک میں تین ارب یورو کی سرمایہ کاری کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت خاص طور پر اس فنڈ سے موسمیاتی تبدیلی، توانائی کی پیداوار اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبے میں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

فان ڈیئر لائن بھارت کا دورہ کیوں کر رہی ہیں؟

یورپی کمیشن کی سربراہ نے دو روزہ دورہ بھارت کے دوران، تجارت، آب و ہوا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے پیر کو ملاقات کی تھی۔ ان کا یہ دورہ اس وسیع تر مغربی کوشش کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد یوکرین پر روسی حملے کے تناظر میں نئی دہلی کو ماسکو کے ساتھ تعلقات کو کم کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ 

گزشتہ ہفتے ہی مودی نے اپنے برطانوی ہم منصب بورس جانسن کا نئی دہلی میں خیر مقدم کرتے ہوئے شعبہ دفاع اور سیکورٹی میں نئی شراکت داری کا اعلان کیا تھا۔

مودی کی حکومت اب تک روسی حملے کی مذمت کرنے سے گریز کرتی رہی ہے اور دونوں فریقوں سے امن کی اپیل کی ہے۔ بھارت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں روس کو انسانی حقوق کی کونسل سے معطل کرنے کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

مغربی ممالک نے روس پر بہت سی پابندیاں عائد کی ہیں اور ان کا اس بات پر بھی زور ہے کہ بھارت روس سے تیل نہ خریدے، تاہم اس میں کمی کے بجائے نئی دہلی نے روس سے سستے داموں پر تیل کی خرید میں اضافہ کر دیا ہے۔

سرد جنگ کے دوران بھارت روس کا اتحادی تھا تاہم مغربی ممالک سے بھی اس کے رشتے استوار رہے ہیں۔

ص ز/  (اے پی، اے ایف پی)

ویڈیو دیکھیے 02:29

غیرقانونی طریقے سے یورپی یونین پہنچنے والے بھارتی شہری

DW.COM