یروشلم میں دیوار گریہ سے متعلق اختیارات کا اسرائیلی بل منظور
26 فروری 2026
یروشلم سے جمعرات 26 فروری کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق کنیسٹ کہلانے والی اسرائیلی پارلیمان نے جس قانونی مسودے کی ابتدائی طور پر منظوری دے دی، اس کے ذریعے یروشلم کے قدیمی حصے میں مغربی دیوار یا دیوار گریہ کہلانے والے اور یہودیوں کے مقدس ترین مذہبی مقام سے متعلق جملہ اختیارات اور ذمے داریاں ملک بھر میں آرتھوڈوکس یہودیوں کے چیف ربی کے دفتر کے سپرد کی جا سکیں گی۔
دیوار گریہ کے سامنے یہودی مردوں اور خواتین کی مخلوط موجودگی
نیوز ایجنسی اے پی نے اس بارے میں اپنے مراسلوں میں لکھا ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد اسرائیلی آرتھوڈوکس یہودیوں کے چیف ربی کے دفتر یا آرتھوڈوکس حاخامیہ کو پوری مغربی دیوار کا انچارج بنا دیا جائے گا۔
ایسا کیے جانے سے ان خدشات کو تقویت ملے گی، جو ابھی سے پائے جاتے ہیں کہ دیوار گریہ کے سامنے یہودی مردوں اور خواتین کے مخلوط دعائیہ اجتماعات یا مخلوط موجودگی کو آئندہ قانونی طور پر ممنوع قرار دے دیا جائے گا۔
’ہاوس آف وَن‘ تین مذاہب کی عبادت گاہیں ایک عمارت میں
یہ خدشات خاص طور پر ترقی پسند اور قدرے روشن خیال یہودیوں میں پائے جاتے ہیں، جن کی وجہ بہت قدامت پسند رویوں کے حامل آرتھوڈوکس یہودیوں کی وہ مذہبی سوچ ہے، جس کا وہ ماضی میں ہمیشہ اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔
اسرائیل اور امریکہ میں یہودی اصلاحاتی تحریک کے مابین کشیدگی
کنیسٹ نے جو مسودہ قانون ابتدائی طور پر منظور کیا ہے، اس کی حتمی منظوری کی صورت میں پہلے سے موجود ایک مسئلہ مزید شدت اختیار کر جائے گا۔ یہ معاملہ اسرائیل اور امریکہ میں چلائی جانے والی یہودیوں کی مذہبی اصلاحی تحریک کے مابین کشیدہ تعلقات کا ہے۔ یہ ریفارم موومنٹ امریکہ میں یہودیت کے سب سے بڑے اور مرکزی دھارے کی نمائندہ ہے۔
یروشلم میں مغربی دیوار کہلانے والی دیوار گریہ دنیا بھر میں یہودیت کا وہ مقدس ترین مقام ہے، جہاں یہودی عبادت کر سکتے اور دعائیں مانگ سکتے ہیں۔ اس دیوار کے ایک حصے کے پاس تو یہودی مردوں اور خواتین کے مخلوط مذہبی اجتماعات ممنوع ہیں، تاہم اس کے ایک دوسرے حصے کے سامنے مرد اور خواتین مل کر بھی عبادت کر سکتے ہیں۔
مشرقی یروشلم کے اسکول بند، فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے مذمت
یہی وہ جگہ ہے جہاں نئے قانونی بل کے تحت مردوں اور خواتین کا مل کر عبادت کرنا ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جا سکتا ہے کہ اس بل میں شامل تفصیلات کے مطابق آرتھوڈوکس حاخامیہ کے طے کردہ مذہبی ضوابط اور طریقہ کار کی خلاف ورزی کو آئندہ ایسی ''مذہبی توہین‘‘ سمجھا جائے گا، جس کی سزا سات سال تک قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
بل کے ناقد حلقوں کا موقف
اسرائیل اور امریکہ میں بہت سے یہودی مذہبی حلقے اس بل کے سخت مخالف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کی مدد سے یہودی مردوں اور خواتین کے لیے ایک ہی جگہ پر مل کر اپنے مقدس ترین مذہبی مقام پر عبادت کرنے کی انسان دوست اور مساوات پر مبنی روایت عملاﹰ ختم ہو جائے گی۔
اسرائیلی وزیر کا مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ کا متنازعہ دورہ اور وہاں ممنوعہ دعا
اسرائیل میں یہودی مذہبی ریفارم موومنٹ کے سماجی انصاف کے لیے متحرک بازو اور اسرائیل مذہبی ایکشن سینٹر نامی ادارے کی ڈائریکٹر اورلی ایریز لیخووسکی کہتی ہیں، ''اس ممکنہ اقدام سے اس عمل کو ہی مجرمانہ نوعیت کا اقدام بنا دیا جائے گا، جس کے تحت یہودی ریاست میں یہودی شہریوں کی بہت بڑی اکثریت اپنے مقدس ترین مذہبی مقام پر عبادت کرتی ہے۔‘‘
اسرائیل یروشلم میں فلسطینیوں کے مکانات کیوں مسمار کر رہا ہے؟
دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ریفارم موومنٹ اسرائیل میں غالب حد تک مقبول نہیں اور وہاں شادیوں اور تدفین جیسے معاملات سمیت قریب سبھی مذہبی امور میں آرتھوڈوکس حاخامیہ یا Orthodox rabbinate کو تقریباﹰ اجارہ داری حاصل ہے۔
ایریز لیخووسکی کے مطابق، ''جہاں جہاں بھی انتہائی قدامت پسند یا الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو کنٹرول حاصل ہے، وہ اپنی طاقت کے ذریعے مردوں کو خواتین سے علیحدہ رکھنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ وہ تو خواتین کو غائب کر دینے کے لیے کوشاں ہیں۔‘‘
کنیسٹ نے دیوار گریہ سے متعلق جو بل ابتدائی طور پر بدھ کو رات گئے منظور کیا، وہ انتہائی دائیں بازو کے رکن پارلیمان آوی ماؤز نے پیش کیا تھا اور اسے 56 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی جبکہ 47 اراکین پارلیمان نے اس کی مخالفت کی۔
ادارت: جاوید اختر