1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ہمت ہے تو کچھ کر کے دکھاؤ ورنہ برداشت کرو!

12 نومبر 2022

قاتلانہ حملے کے بعد عمران خان کو آرام کے لیے، جو تھوڑا بہت وقت میسر آیا ہے، اس وقت کو مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ ان سے گفتگو کے لیے غنیمت جان رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/4JQWY
وسعت اللہ خان
وسعت اللہ خان تصویر: privat

اسی سلسلے کے ایک انٹرویو میں عمران خان نے فوجی قیادت سے اپنے اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ فوج کو سیاست سے نکالنا ممکن نہیں۔ مگر اپنی طاقت کا مثبت استعمال کرتے ہوئے اگر وہ چاہے تو دیگر ریاستی اداروں کو مفلوج ہونے سے روک سکتی ہے۔

 اب جب کہ طے ہو چکا ہے کہ موجودہ سپاہ سالار 29 نومبر کو اپنے توسیع شدہ عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ قوی امکان ہے کہ ان کے جانشین کے نام کا اگلے ہفتے اعلان ہو جائے گا۔ چنانچہ عمران خان نے بھی اپنے سابق موقف کے برعکس کہنا شروع کر دیا ہے کہ انہیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ فوج کا نیا کمانڈر کون ہو گا؟

وہ تو بس جلد از جلد آزادانہ و شفاف انتخابات چاہتے ہیں۔ وہ ان انتخابات کے لیے اگلے دس ماہ بھی انتظار کر سکتے ہیں مگر شاید ملکی معیشت اتنا لمبا عرصہ نہ سہار سکے اور مسلسل بے یقینی کی فضا میں دیوالیہ ہو جائے۔

 موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے عمران خان کی دلیل میں خاصا وزن نظر آتا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان کے اور ان کے مخالفین کے درمیان فاصلے اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ فریقین کی جانب سے اکا دکا مثبت مفاہمتی اشاروں پر بھی دوسرا فریق یقین کرنے کو تیار نہیں۔

چنانچہ تبدیلی بھلے کسی بھی نوعیت کی ہو، شکوک و شبہات کے گہرے بادل اگلے چند ماہ میں شاید نہ چھٹ پائیں۔ اگرچہ فوجی قیادت نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اس نے قومی سیاست میں اگلے کئی برس تک فعال کردار ادا نہ کرنے اور خود کو غیر جانبدار رکھنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے مگر اس بیان کا سیاسی سطح پر جتنا خیرمقدم ہونا چاہیے اس کا عشِر عشیر بھی نظر نہیں آ رہا۔

اس ٹھنڈک کا سبب ماضی کے تلخ تجربات میں پنہاں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اکتوبر 1958ء کے بعد سے اب تک پاکستان میں عملاﹰ کوئی طاقت ور عہدہ اگر رہا ہے تو وہ سپاہ سالار کا منصب ہے۔

بھلے اس کرسی پر بیٹھنے والا پس پردہ رہے یا حالات کی مجبوری کو جواز بنا کر براہ راست معاملات ریاست سنبھال لے۔کوئی بھی سیاسی حکومت اس جانب سے مکمل مطمئن ہونے کا کبھی دعوی نہیں کر پائی۔ اگر ماضی کا حوالہ نہ بھی دیا جائے تو خود موجودہ سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کے چھ سالہ دور میں چار وزیر اعظم تبدیل ہو گئے۔ حالانکہ دیگر آئینی اداروں کی طرح فوج بھی ایک ماتحت ریاستی ادارہ ہے۔

مگر آپ کبھی بھی کسی سیاست دان سے یہ جملہ نہیں سنیں گے کہ سپریم کورٹ اور حکومت میں مکمل ہم آہنگی ہے یا حکومت اور الیکشن کمیشن ایک پیج پر ہیں یا محتسب اعلی اور حکومت میں کوئی دوری نہیں۔ یہ جملہ صرف فوج کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے کہ ’’حکومت اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہیں "۔ گویا عسکری قیادت حکومت سے الگ کوئی اکائی ہے۔ ڈھانچے کے اندر توازن پر کیا کریں۔ یہی ایک جملہ پاکستان کے آئینی طاقت کی حقیقی تصویر ہے۔

بھلے کسی کو پسند آئے کہ نہ آئے۔ یہی جملہ ہماری پولٹیکل کلاس کے جینز میں سات عشروں سے پیوست سیاسی عدم تحفظ اور بے یقینی کا بھی غماز ہے۔ وہ پولٹیکل کلاس، جو بظاہر عوامی عدالت اور ووٹ کی طاقت کی مالا جپتے کبھی نہیں تھکتی مگر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے قائل ہے کہ محض ووٹ کی طاقت اس کے جائز اقتدار کو ضروری پائیداری فراہم نہیں کر سکتی۔

ثبوت یہ ہے کہ آج تک کوئی سویلین حکومت صرف ووٹ کے بل بوتے پر پانچ برس کی آئینی مدت پوری نہ کر سکی۔ یا حکومت بدل گئی یا پارٹی وزیر اعظم تبدیل ہو گیا۔ فوج براہ راست سامنے آئے یا پس پردہ رہے، جانبدار ہو یا غیر جانبداری کی سوگند کھائے، کوئی سیاست دان اس بابت یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا ۔

 ایسی فضا میں وزیر اعظم بھی تین آنکھیں لگا کے کرسی پر بیٹھتا ہے۔ ایک آنکھ روز مرہ امور ریاست کی جانب ہوتی ہے، دوسری آنکھ جلی و خفی اور آستین میں چھپے دشمنوں پر مرکوز رہتی ہے اور تیسری آنکھ پیٹھ پیچھے کی پراسرار نقل و حرکت پر ٹکی رہتی ہے۔

تینوں میں سے ایک بھی آنکھ چوکی نہیں اور قالین پیروں تلے سے سرکا نہیں۔ وزیر اعظم کو پھانسی ہو سکتی ہے، وہ جلا وطن ہو سکتا ہے، سلاخوں کے پیچھے بھی دھکیلا جا سکتا ہے اور مقدمات کے جال میں بھی کس کے باندھا جا سکتا ہے۔ اسے آئینی طریقے سے بھی رخصت کیا جا سکتا ہے۔ ایسے ہی خدشات ہوتے ہیں کہ ہر کرسی نشین کو روز اول سے دھڑکا لگا رہتا ہے۔

ماضی بعید یا قریب کی ایسی سب مثالیں نیند میں بھی وزیر اعظم کو پریشان کرتی رہتی ہیں۔ اس حالت سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ کے سبب بھلے ضرورت ہو نہ ہو وہ ہر چھوٹا بڑا فیصلہ  ''اسٹیک ہولڈرز‘‘ کے مشورے کے بغیر کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔

جب اس مسلسل کیفیت کے سبب کچھ عرصے بعد اس کے نام پر ہونے والے معاشی، سیاسی و تزویراتی فیصلے الٹے پڑنے لگتے ہیں تو پھر اسے عہدے کے لیے نااہل ہونے کا طوق پہنا کر محل سے چلتا کر دیا جاتا ہے مگر اسی جیسا کوئی اور تلاش کر کے مسند نشین کر دیا جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ منتخب حکومتیں چونکہ اپنے وعدے پورے کرنے کے بجائے دیگر کاموں میں لگ کے قیمتی وقت ضائع کر دیتی ہیں لہذا وہ رفتہ رفتہ خود کو سیاسی تنہائی کی جانب دھکیل دیتی ہیں۔ نظام درست کرتے کرتے خود اس فرسودہ و کرپٹ نظام کا حصہ بن جاتی ہیں اور یوں زوال پذیر ہو جاتی ہیں۔

 یقیناﹰ ایسا ہی ہوتا ہو گا مگر اب تک جتنی بھی منتخب سیاسی حکومتیں آئیں، کیا وہ سب کی سب نااہل ہی تھیں یا ایک آدھ ایسی بھی تھی کہ جو اہل ہو اور پھر بھی اپنی آئینی مدت نہ پوری کر سکی ہو؟

اقتدار اعلی خدا کی امانت ہے۔ آئین میں تو پہلا جملہ ہی یہ لکھا ہے کہ اقتدار عوام کے توسط سے منتخب نمائندے استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ لیکن جب یہ منتخب نمائندے اس امانت کو سر پر اٹھائے پارلیمنٹ میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے سامنے ایک نادیدہ کرایہ نامہ رکھ دیا جاتا ہے۔

اس کی ایک شق یہ بھی ہے کہ کرایہ وقت پر ادا نہ کرنے کی وجہ سے عمارت کو فوری طور پر خالی بھی کروایا جا سکتا ہے۔ یہ کرایہ نامہ پہلے ہی دن عوام کے سامنے کیوں نہیں لہرایا جاتا؟ بے دخل ہونے کے بعد ہی کیوں اسے مجمع کے سامنے شق وار پڑھ کے سنایا جاتا ہے؟

تب تک کوئی اور صاحب اسی کرایے نامے پر دستخط کر چکے ہوتے ہیں کہ جس میں مدت استعمال کا خانہ ہمیشہ جان بوجھ کے خالی چھوڑ دیا جاتا ہے اور کرایہ دار اس خوف سے خاموش رہتا ہے کہ کہیں مالک مکان کا ارادہ ہی نہ بدل جائے۔

 جس دن کسی کرایے دار نے مالکی کے دعویدار سے پراپرٹی کے اصل ملکیتی کاغذات دکھانے کا مطالبہ کر دیا اور تب تک مکان چھوڑنے سے انکار کر دیا اور اس مکان میں اپنے بھیجنے والے مخلصوں کو بروقت اعتماد میں لے لیا، اس دن خوف زدہ بے یقینی کی لہریں پیچھے ہٹنا شروع ہو جائیں گی۔ مگر اس کام کے لیے تپڑ چاہیے، تپڑ تو سمجھتے ہی ہوں گے آپ؟

 

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو  کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

ملتے جلتے موضوعات سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan Ex-Präsident Pervez Musharraf

تاریخ میں پرویز مشرف کو کیسے یاد رکھا جائے گا؟

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں