ہماری ’عظیم مشرقی روایات‘ کی سربریدہ لاش | دستک | DW | 31.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

ہماری ’عظیم مشرقی روایات‘ کی سربریدہ لاش

کیا ’عظیم مشرقی روایات‘ اور ایسے دیگر دعوے معاشرے میں جنسی جرائم اور خواتین کے خلاف مظالم پر پردے ڈالنے کی کوشش ہیں؟ سندس راشد کا بلاگ پڑھیے۔

مشرق کی درخشاں روایات کا قصیدہ کس نے نہیں سن رکھا؟ کون بد بخت ہو گا جسے ہمارے بے مثال خاندانی نظام کے اوصاف کا اعتراف نہیں؟ اور بھلا کس تک پچھلی دو تین دہائیوں سے تواتر کے ساتھ یہ خبرنہیں پہنچی کہ مادی ترقی کے باوجود مغربی معاشرہ اخلاقی اعتبار سے دیوالیہ ہو چکا ہے؟ افسوس! پھر بھی کچھ ایسے گم راہ ہیں جو ہماری عظیم مشرقی روایات کے منکر ہوکرمعمول کے واقعات پر ہاؤ و ہو مچاتے ہیں اور انہیں مشرقی تہذیب پر تنقید کی بنیاد بناتے ہیں۔ خود بتائیے کہ تاریخِ انسانی میں کون سا معاشرہ ہے جس میں سب اچھا ہی اچھا رہا ہے؟ بھئی ہوتا ہے۔ سب جگہ اچھا برا ہوتا پے، مسئلے مسائل ہوتے ہیں۔ مگرچیخ چیخ کرساری دنیا کو بتایا تھوڑی جاتا ہے کہ یہ دیکھو ہم میں فلاں عیب ہے؟ 

لیکن یہ بات لبرل، سیکولر، فیمنسٹ، سوشلسٹ وغیرہ مان جائیں تو انڈیا، اسرائیل، امریکا وغیرہ کی پاکستان کو مغرب کی راہ پر چلانے کی سازش ناکام نہ ہو جائےگی۔ ٹھیک ہے انڈیا اور اسرائیل خود مغربی ریاستیں نہیں ہیں مگر مقصد تو ایک ہی ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر مغربی طاقتیں جو کہ پاکستان کی نیست و نابود کرنے کے لیے بے تاب رہتیں ہیں خود پاکستان کواس راہ پر کیوں چلانا چاہیں گی جس سے ان کی اپنی مادی ترقی ممکن ہو سکی؟

انہیں کیا خبر کہ مغربی طاقتیں پاکستان جیسی اسلامی ریاست کو بھی مغربی معاشرے کی اخلاقی پستیوں میں گرا کر ملیا میٹ کر دینا چاہتی ہیں۔ مگر ان کی زبان درازی کو کوئی لگام نہیں دے سکتا۔ اس پر بھی پلٹ کر جواب دیتے ہیں کہ انفرادی واجتماعی زندگی میں برتراخلاقی اصولوں پرعمل پیرا ہو کر ہی مادی ترقی کی راہ استوار کی جا سکتی ہے۔ تو پھر مغربی قوموں کی مادی ترقی احسن اخلاقی قدروں کو اپنائے بغیر کیونکر ممکن ہوئی؟

سچ پوچھیے تو بڑا دل کڑھتا ہے ان کی صریح گمراہی اور قفل زدہ دلوں پر۔  پچھلے دنوں مدارس میں جنسی تشدد کی خبروں اور اس پر خاموشی کی روایت پر ان ہٹ دھرموں کی چیخ و پکار کی مثال ہی لے لیجیے۔  باربا انہیں یاد دلایا گیا ہے کہ مغرب کے  چرچوں میں بھی یہی سب ہوتا رہا ہے تو بھیا ایسی کیا انہونی ہو گئی۔ ہاں یہ اور بات ہے ان کے ہاں ریاست، چرچ اور افراد اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں، عدالتی نظام متاثرین کو انصاف کی فراہمی کے لیے پوری طرح متحرک ہے اورمستقبل میں ایسے جرائم کے سدباب کی سنجیدہ کوششوں کے آغاز کو بھی اب ایک عرصہ ہونے کو ہے۔ جب کہ ہمارے ہاں بات مسئلے کی موجودگی کے اعتراف تک بھی نہیں پہنچی۔

 اور اب چند روز سے عورتوں کے خلاف تشدد اور ظلم کے واقعات پر عجیب اودھم مچا رکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ  نورم مقدم کی سر بریدہ لاش اور نسیم بی بی اوراس کے ننھے بیٹے کا قتل وحشت اور بربریت کا ایسا نیا روپ ہے جو پدرسری نظام کے زیرسایہ طویل عرصے تک پلنے والے عورت دشمن رویوں کا نتیجہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ سب روشن خیالی اور جدیدیت کا کیا دھرا ہے۔ وگرنہ ہماری ممتاز معاشرتی اقدار میں ایسے کسی منفی رویے ہرگز گنجائش موجود نہیں۔ بھئی ہمارے ہاں تو برداشت، صبر اور سمجھوتے کا سبق ملتا ہے۔ کوئی عورت سالہا سال شوہر کے بدترین تشدد سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے توdomestic violence  کا رونا رونے لگتے ہیں۔

 ان نا سمجھوں کون سمجھائے کہ مغربی معاشرے میں مرد وزن بغیر نکاح کے ساتھ رہ رہے ہیں، بچے پیدا کر رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں نکاح کا 'پاکیزہ رشتہ' ابھی موجود ہے۔ سب سے بڑھ کر میاں بیوی میں اونچ نیچ ہو جائے تو دو خاندان اس تعلق کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر بھلے ہی شوہر بیوی کی ہڈیاں توڑے یا کھال کھینچ ڈالے، یہ ہماری مشرقی خاندانی نظام کا ہی اعجاز ہے کہ سمجھوتے کی کوئی نہ کوئی راہ تلاس کر لی جاتی ہے۔ اس کے بعد کسی قراۃ الالعین کا شوہر کے گھر سے جنازہ تو اٹھ سکتا ہے مگر نکاح جیسا پاکیزہ تعلق  ٹوٹنے نہیں پاتا۔

جہاں تک بات ہے عورتوں کے خلاف تشدد کی، تو اکثریت کی جانب سے اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ کے ساتھ مذمت کر دی گئی ہے۔ اب کیا مرد سولی چڑھ جائیں؟

جناب یہ شور شرابا تو عورت مارچ جیسی بے حیائی پھیلانے کا بہانہ ہے بس! حالانکہ محترم جناب خلیل ا لرحمان جیسے غیرت مند اس راز سے اکثر پردہ اٹھاتے رہتے ہیں کہ 'عورت مارچ والیاں' اس قسم کے واقعات کو استعمال کر کے مغربی مقاصد کے حصول کے لیے آلہ کار بنتی ہیں۔ مگر کیا کیجیے! لبرل، سیکولر، فیمنسٹ، سوشلسٹ وغیرہ ہیں کہ 'میں نہ مانوں' کی تکرار کیے جاتے ہیں۔

بھئی مشرقی روایات کی عظمت پر ہمارا ایمان تو غیر متنزلزل ہے،  اور رہے گا۔ اس کے لیے خواہ ہمیں بنیادی حقوق میں مردوعورت کی تخصیص کرنی پڑے یا مشرق مغرب کی تفریق، مسئلے کی تشخیص کو ملک کی بدنامی کہنا پڑے یا حل کی کاوشوں کو مغربی ایجنڈا۔ ہم یہ مان کر کسی صورت مشرقی روایات کا تقدس پامال نہ کریں گے کہ بات مغربی معاشرے کی تقلید کی نہیں بلکہ ، جنسی گھٹن ، متشدد رویوں، صنفی امتیازاور بدلتی سماجی اقدارکی ہے۔
لیکن آج آپ کو دل کی ایک بات بتانا ہے۔ بس یونہی۔ اپنے تئیں ہی رکھیے گا۔ اب دل میں یہ خوف رہنے لگا ہے کہ کہیں ہماری مشرقی روایات کی سربریدہ لاش کسی روز کسی کے ہاتھ نہ لگ جائے۔