ہلیری کلنٹن صدارتی امیدوار، خواتین کے لیے ’تاریخی سنگِ میل‘ | وجود زن | DW | 08.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

ہلیری کلنٹن صدارتی امیدوار، خواتین کے لیے ’تاریخی سنگِ میل‘

ہلیری کلنٹن نے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے امریکی صدارتی انتخابات کے لیے امیدوار ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ امریکی تاریخ میں اس عہدے کے لیے وہ پہلی باقاعدہ خاتون امیدوار ہیں اور پہلی خاتون امریکی صدر بن سکتی ہیں۔

USA Präsidentschaftskandidatin Hillary Clinton

’’آپ کا شکریہ، آپ نے ایک سنگِ میل عبور کر لیا ہے، ہماری قوم کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک بڑی پارٹی نے ایک خاتون کو نامزد کیا ہے۔‘‘

اڑسٹھ سالہ ہلیری کلنٹن نے وائٹ ہاؤس کی جانب اپنے سفر میں اس ڈرامائی کامیابی کو خواتین کے لیے ایک ’تاریخی سنگِ میل‘ قرار دیا ہے۔ نیویارک میں اپنے پُر جوش تماشائیوں سے خطاب میں کلنٹن نے کہا:’’آپ کا شکریہ، آپ نے ایک سنگِ میل عبور کر لیا ہے، ہماری قوم کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک بڑی پارٹی نے ایک خاتون کو نامزد کیا ہے۔‘‘

منگل کو صدارتی امیدواروں کے انتخاب کے لیے چھ ریاستوں میں منعقدہ آخری پرائمریز میں سے نیو جرسی، نیو میکسیکو اور ساؤتھ ڈیکوٹا میں سابقہ خاتون اوّل کو کامیابی حاصل ہوئی۔ بڑی ریاست کیلیفورنیا کے نتائج آنا باقی ہیں اور وہاں بھی کلنٹن کو سبقت حاصل ہے۔

اس طرح کلنٹن کے حریف سینیٹر بیرنی سینڈرز کی صدارتی امیدوار بننے کی کوششیں بھی بالآخر دم توڑ گئی ہیں۔ سینڈرز نے آخری وقت تک انتہائی کامیابی کے ساتھ اپنی انتخابی مہم چلائی اور اب بھی انہوں نے نوشتہٴ دیوار کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے حامیوں سے ایک خطاب میں اپنی ’جدوجہد جاری رکھنے‘ کا اعلان کیا ہے:’’ہمارا مشن صرف ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست سے دوچار کرنے سے کہیں زیادہ ہے، ہم ملک کو بنیادی طور پر تبدیل کر دینا چاہتے ہیں۔‘‘

ہلیری کلنٹن کی یہ کامیابی اُس لمحے سے کم و بیش ٹھیک آٹھ سال بعد سامنے آئی ہے، جب وہ صدارتی امیدوار بننے کی پہلی کوشش میں کرشماتی شخصیت کے حامل باراک اوباما سے پیچھے رہ گئی تھیں۔

اپنے حامیوں سے اپنے خطاب میں کلنٹن نے کہا:’’ہمیں یقین ہے کہ ہم متحد اور مضبوط ہیں، ان انتخابات میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے اور نتائج واضح نظر آ رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ متلون مزاج ہونے کی وجہ سے صدر اور کمانڈر اِن چیف کے طور پر موزوں ہی نہیں ہیں۔‘‘

Boldkombo Hillary Clinton Donald Trump Emotionen

امریکا میں نومبر میں مجوزہ صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی کی ہلیری کلنٹن کے ساتھ ہو گا

منگل کی پرائمریز سے پہلے ہی کلنٹن نے نامزدگی کے لیے 2383 مندوبین کی مطلوبہ حمایت حاصل کرتے ہوئے سینڈرز کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ اب لیکن اُنہیں اپنی جماعت کے اندر پائی جانے والی تقسیم کو ختم کرنے کا مشکل مرحلہ درپیش ہو گا۔ اس سلسلے میں پہلے قدم کے طور پر اُنہوں نے سینڈرز کو اُن کی ’غیر معمولی انتخابی مہم‘ کے لیے مبارک باد پیش کی۔

اُدھر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ری پبلکن پارٹی کے باقاعدہ صدارتی امیدوار بن چکے ہیں اور انہوں نے صدارت کے عہدے کے لیے اپنی باقاعدہ انتخابی مہم میں کلنٹن فیملی کے خلاف جارحانہ انداز اپنانے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ کا الزام ہے کہ ہلیری کلنٹن اور اُن کے شوہر بل کلنٹن نے اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بے پناہ دولت جمع کی ہے۔