ہزاروں بچے جرمن پادریوں کا شکار  | معاشرہ | DW | 13.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ہزاروں بچے جرمن پادریوں کا شکار 

پادریوں کی جانب سے بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات کے سامنے آنے سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں رہا۔ ایک تازہ تحقیق کے مطابق گزشتہ چھ دہائیوں میں ہزاروں بچے جرمن پادریوں کی ہوس کا نشانہ بن چکے ہیں۔

جرمن بشپ کانفرنس کے ایماء پر کرائے گئے ایک جائزے میں جنسی زیادتی کے تین ہزار 677 مبینہ واقعات کی چھان بین کی گئی۔ اس کے نتیجے سے معلوم ہوا کہ 1946ء سے 2014ء کے درمیان 1670 پاردی جنسی زیادتی کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔ ان چھ دہائیوں کے دوران زیادتی کا نشانہ بننے والے زیادہ تر تیرہ سال سے کم عمر لڑکے تھے۔

جرمن بشپ کانفرنس کے پادری اسٹیفن آکرمان نے اس تناظر میں کہا، ’’ہمیں سامنے آنے والے جنسی استحصال کے واقعات کی وسعت کا اندازہ ہے۔ ہم بہت مایوس اور شرمندہ ہیں۔‘‘ آکرمان نے مزید بتایا کہ اس جائزے کا مقصد متاثر ین کی خاطر کلیسا کے اس سیاہ پہلو پر روشنی ڈالنا ہی نہیں ہے بلکہ ، ’’ یہ ہمارے لیے بھی اہم ہے تاکہ ہم اپنی غلطیوں کو سمجھتے ہوئے آئندہ ایسے واقعات کو رونما ہونے سے روک سکیں۔‘‘

اس رپورٹ کے مطابق ان میں سے نصف سے زائد بچوں کو جب جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا تو ان کی عمریں تیرہ سال یا اس سے بھی کم تھیں۔ ان میں سے ہر چھٹے واقعے میں بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی جبکہ تین چوتھائی کیسز میں متاثرہ بچے اپنے مجرم کو کلیسا کے ذریعے جانتے تھے۔

ان  واقعات کے بارے میں کلیسا میں جو دستاویزات تیار کی گئیں تھیں، انہیں یا تو ضائع کردیا گیا تھا یا پھر ان میں ردو بدل کیا گیا، جس کی وجہ سے جنسی استحصال کے ان واقعات کی تہہ تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

اس جائزے میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ پادریوں کی جانب سے کم عمروں کے ساتھ جنسی چھیڑ چھاڑ کے یہ واقعات صرف ماضی میں ہی رونما ہوئے تھے بلکہ 2014ء میں بھی بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، ’’ ملوث پادریوں کا اکثر خاموشی سے تبادلہ کر دیا جاتا تھا۔ اس دوران متاثرہ بچے کے اہل خانہ کو اس بارے میں بتایا بھی نہیں جاتا تھا۔ تاہم جن پادریوں نے کلیسا کے قانون کے تحت خود کو پیش کیا ان پر یا تو معمولی سی پابندیاں عائد کی گئیں اور یا انہیں معطل کر دیا گیا۔‘‘

 اس جائزے کو مرتب کرنے کے عمل میں دوران گیسن، ہائڈلبیرگ اور منہائم کی جامعات کا بھی تعاون حاصل کیا گیا۔

DW.COM