ہانگ کانگ کا سیاسی عدم استحکام، کس سمت جائے گا؟ | حالات حاضرہ | DW | 11.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ہانگ کانگ کا سیاسی عدم استحکام، کس سمت جائے گا؟

ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز مظاہرین نے حسب معمول اس ویک اینڈ پر بھی احتجاج کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ انہی مظاہروں کے باعث تیراکی کے سالانہ ہاربر مقابلے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

جمعہ گیارہ اکتوبر کو ماسک پہنے ہوئے مظاہرین نے لنچ کے وقفے میں ہانگ کانگ شہر کے مرکزی کاروباری حلقے میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے کے دوران ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوا اور عام راہ گیروں کو بھی فٹ پاتھ پر چلنے میں دشواری کا سامنا رہا۔ دوسری جانب اس ویک اینڈ پر بڑے مظاہروں کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

ہانگ کانگ میں میٹرو چلانے والے ادارے نے بتایا ہے کہ اس ویک اینڈ پر تمام اسٹیشن کھلے رہیں گے لیکن سروس کو رات دس بجے بند کر دیا جائے گا۔ ہانگ کانگ میں بظاہر چہرے کے ماسک پر پابندی عاُئد کی جا چکی ہے لیکن مظاہرین ابھی تک اس پابندی کو خاطر میں نہیں لا رہے ہیں۔

Hongkong Anti-Regierungsproteste
Hongkong Anti-Regierungsproteste (REUTERS)

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ مظاہرے چینی صدر شی جن پنگ کی حکومت کے لیے ایک بڑا چلینج بن چکا ہے

اُدھر ہانگ کانگ کی شہری دستور ساز کونسل کا اجلاس بھی شروع ہو گیا ہے۔ اس اجلاس کو رواں برس جولائی میں جمہوریت نواز مظاہرین نے دھاوا بول کر منتشر کر دیا تھا۔ جمعہ گیارہ اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں حکومتی اراکین اور جمہوریت نوازوں کے حامیوں کے درمیان سخت کلامی اور جملے بازی کا مقابلہ دیکھنے میں آیا۔اجلاس میں ایسے پلے کارڈ بھی اٹھائے گئے جن پر پولیس کی ظالمانہ کارروائی کی مذمت درج تھی۔

ہانگ کانگ میں حالیہ مظاہروں کے تسلسل سے اس خصوصی انتظامی علاقے کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔ اس صورت حال کو ایک سنگین بحران قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ مظاہرے چینی صدر شی جن پنگ کی حکومت کے لیے ایک بڑا چلینج بن چکا ہے۔ ہانگ کانگ کی انتظامی سربراہ کیری لام یہ کہہ چکی ہیں کہ مظاہرے ختم نہ ہوئے تو چینی فوج کی مداخلت کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

Hong Kong | Pressekonferenz Carrie Lam (Reuters/Tyrone Siu)

ہانگ کانگ کی سٹی گورنمنٹ کی پریشان سربراہ کیری لام

ہانگ کانگ کی صورت حال پر یورپی اقوام اور امریکی تشویش سامنے آ چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی پولیس کارروائی کو ظالمانہ قرار دے کر سٹی گورنمنٹ پر تنقید کر رہی ہیں۔ ان کے جواب میں چینی حکومت امریکی اور برطانوی الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ یہ ہانگ کانگ کے مظاہروں کو ہوا دے رہے ہیں۔

ہانگ کانگ کی سٹی گورنمنٹ کی سربراہ کیری لام سولہ اکتوبر کو سالانہ حکومتی پالیسی کا اعلان کرنے والی ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ وہ جمہوریت نواز مظاہرین کو احتجاج ختم کرنے کی ترغیب دیں گی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کے لائحہ عمل بھی واضح کریں گی۔ اس دوران ہانگ کانگ کی پیراکی کے سالانہ مقابلوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ ستائیس اکتوبر کو منعقد کیے جانے تھے۔

ع ح ⁄ ک م (روئٹرز، اے پی)

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات