گنگا کے ڈیلٹا کا رائل بنگال ٹائیگر نیپال کے بلند پہاڑوں پر: نیا ریکارڈ | سائنس اور ماحول | DW | 12.12.2020

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

گنگا کے ڈیلٹا کا رائل بنگال ٹائیگر نیپال کے بلند پہاڑوں پر: نیا ریکارڈ

نیپال میں پہلی بار ایک رائل بنگال ٹائیگر کی تقریباﹰ تین ہزار دو سو میٹر بلند پہاڑوں میں موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اس ٹائیگر کو ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں سطح سمندر سے اتنی زیادہ بلندی پر دیکھا گیا۔

کھٹمنڈو سے ملنے والی رپورٹوں میں ملکی محکمہ جنگلات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جنگلی حیات کے مشاہدے کے لیے بہت اونچے پہاڑی علاقوں میں نصب کیے گئے کمیروں کے ذریعے ایک بنگال ٹائیگر کو 3,165 میٹر کی بلندی پر پہاڑوں میں گھومتے ہوئے دیکھا گیا۔

اس سے قبل ایسا کوئی ٹائیگر سطح سمندر سے اتنی زیادہ بلندی پر برف پوش پہاڑوں میں کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

نیپالی محکمہ جنگلات کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس ٹائیگر کو گزشتہ ماہ دو مرتبہ ایک ایسے خفیہ ویڈیو کیمرے سے حاصل ہونے والی فوٹیج میں دیکھا گیا، جو وہاں سرخ رنگ کے دس جنگلی پانڈا جانوروں کی نقل و حرکت کا مشاہدہ کرنے کے لیے لگایا گیا تھا۔

آدم خور بھارتی شیرنی کو پکڑنے کے لیے کیلوِن کلائن کا پرفیوم

مشرقی نیپال میں حکام  نے ان جنگلی پانڈاز کو پکڑ کے ان کی گردنوں میں ان کی جغرافیائی پوزیشن کی نشاندہی کرنے والے جی پی ایس سیٹلائٹ پٹے ڈال کر دوبارہ انہیں پہاڑی جنگلوں میں چھوڑ دیا تھا۔

اس تجربے کا مقصد ان جانوروں کی نقل و حرکت کا ماحولیاتی مشاہدہ تھا۔

اتنی بلندی پر موجودگی انتہائی غیر معمولی

سرخ پانڈاز کی نسل کے تحفظ کے لیے سرگرم ریڈ پانڈا نیٹ ورک (RPN) کے پروگرام کوآرڈینیٹر سونم تاشی لاما نے ہفتہ بارہ دسمبر کے روز جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ نیپال میں تقریباﹰ تین ہزار دو سو میٹر کی بلندی پر پہاڑوں میں رائل بنگال ٹائیگر کا پایا جانا بہت ہی غیر معمولی بات ہے۔

انہوں نےکہا، ''اس سے قبل بھوٹان میں یہ ٹائیگر سطح سمندر سے بہت بلندی پر پہاڑی علاقوں میں دیکھا تو گیا تھا، لیکن مشرقی نیپال کے اتنے بلند پہاڑی علاقے میں اس کا پایا جانا بہت ہی حیران کن ہے۔ یہ بات اب سے پہلے ماہرین ماحولیات کے علم میں تھی ہی نہیں۔‘‘

نیپال میں ٹائیگرز کی آبادی میں تریسٹھ فیصد اضافہ

سونم تاشی لاما کے مطابق اس مشاہدے کے بعد نیپال کے پہاڑی علاقوں میں اس ٹائیگر کی نسل کے تحفظ کے لیے اب تک کی حکمت عملی میں تبدیلی لازمی ہو گئی ہے۔

زیادہ تر دریائے گنگا کے ڈیلٹا میں پایا جانے والا ٹائیگر

رائل بنگال ٹائیگرز عام طور پر دریائے گنگا کے ڈیلٹا میں پائے جاتے ہیں اور ان کا اتنے بلند پہاڑی علاقوں میں پایا جانا بہت ہی حیرت انگیز بات ہے۔

اس سے قبل نیپال میں حکام نے اسی سال ایک خفیہ ویڈیو کیمرے کے ذریعے اس نسل کے ایک ٹائیگر کی 2,500 میٹر بلندی پر موجودگی بھی ریکارڈ کی تھی۔

سائبیرین ٹائیگر کا علاج اسٹیم سیل ٹیکنالوجی سے

حیاتیاتی انواع کے تحفظ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ ان ٹائیگرز نے بدلتے ہوئے موسمیاتی اور ماحولیاتی حالات کی وجہ سے بلندی کی طرف رخ کرنا شروع کر دیا ہو۔

نیپال کا بنگال ٹائیگرز سے متعلق قومی ہدف

چند ماہرین کے مطابق نیپال کے پہاڑی علاقوں میں ان جانوروں کی اب تک کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں موجودگی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان ٹائیگرز کا قدرتی ماحولیاتی نظام تیزی سے بدل رہا ہو اور انہیں اپنے زندہ رہنے کے لیے دیگر جانوروں کا شکار کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہوں۔

سندربن کے بنگال ٹائیگرز کم کیوں ہوئے؟

نیپالی حکومت نے اپنے لیے یہ ہدف مقرر کر رکھا ہے کہ نیپال کے ریاستی علاقے میں ان ٹائیگرز کی آبادی 2022ء تک دو گنا ہو جانا چاہیے۔ قومی اعداد و شمار کے مطابق کھٹمنڈو حکومت اپنا یہ ہدف حاصل کر لینے کے بہت قریب پہنچ چکی ہے۔

م م / ا ا (ڈی پی اے)