1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
USA Las Vegas | Grammy Awards | Arooj Aftab
تصویر: Chris Pizzello/AP Photo/picture alliance

گریمی ایوارڈ یافتہ پاکستانی گلوکارہ عروج آفتاب کا دورہ جرمنی

19 اگست 2022

پاکستانی گلوکارہ عروج آفتاب نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ان چیلنجز کا ذکر کیا، جو ایک بین الاقوامی اسٹار بننے کے سفر میں انہیں درپیش رہے۔

https://www.dw.com/ur/%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D9%85%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1%DA%88-%DB%8C%D8%A7%D9%81%D8%AA%DB%81-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DA%AF%D9%84%D9%88%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D8%B9%D8%B1%D9%88%D8%AC-%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D9%88%D8%B1%DB%81-%D8%AC%D8%B1%D9%85%D9%86%DB%8C/a-62867643

 

 

رواں سال کا ایک گریمی ایوارڈ پاکستانی گلوکارہ عروج آفتاب کو اپنے ملک کے عالمی شہرت یافتہ مرحوم گلوکار مہدی حسن کی ایک مشہور غزل پیش کرنے پر دیا گیا تھا۔

گریمی ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی آرٹسٹ عروج آفتاب نے موسیقی کے شعبے میں کئی حدوں کو ختم کر دیا ہے۔ عروج آفتاب نے اپنے فنی سفر کے دوران درپیش چیلنجوں کے بارے میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میں ایسی موسیقی سننا چاہتی تھی، جو موسیقی کے ان آلات اور الفاظ سے مل کر تشکیل پائے، جن کی بطور نوجوان لاہور میں رہتے ہوئے مجھے کمی محسوس ہوتی تھی۔ کیونکہ لاہور میں اس دور میں موسیقی زیادہ تر لوگوں کے لیے کسی حقیقی کیریئر کا رستہ نہیں سمجھی جاتی تھی۔‘‘

عروج آفتاب کو تاہم محسوس ہوا کہ وہ اس 'شعبے کے لیے مناسب‘ نہیں ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ''میں جیسے جیسے بڑی ہو رہی تھی، ساتھ ساتھ میں محسوس بھی کر رہی تھی کہ مروجہ عمومی ملبوسات سے مختلف لباس پہننا، مختلف سوچ رکھنا وغیرہ میرے لیے موزوں نہیں کیونکہ یوں معاشرہ مجھے پوری طرح قبول نہیں کرے گا۔‘‘ عروج کے خیال میں، ''آزادانہ طریقے سے پرواز تخیل کا امکان نہ ہو، تو یہ کیفیت انسان کی صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتی اور کسی فنکار کے لیے تو یہ موت کے مترادف ہوتی ہے۔‘‘

امریکی ریاست نیو میکسیکو میں چار مسلمانوں کا قتل ٹارگٹ کلنگ؟

Joe Biden to celebrate Eid al-Fitr - Washington
عید الفطر کے موقع پر وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے موقع پرتصویر: picture alliance / abaca

ڈیجیٹل نیٹ کی طاقت

اس وقت 37 سالہ عروج آفتاب کو جاز، صوفی اور لوک موسیقی کے امتزاج کو ایک نئے انداز میں پیش کرنے والی موسیقار اور گلوکارہ کی حیثیت سے بےحد شہرت حاصل ہوئی۔ وہ گزشتہ 15 سال سے امریکی شہر نیو یارک میں رہتی ہیں۔ عروج آج انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل دنیا کی طاقت سے مالا مال ہیں۔ لاتعداد فالوورز کے ساتھ وہ یوٹیوب اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر چھائی ہوئی ہیں۔ 2000ء کی دہائی کے اوائل میں جب وہ 18 برس کی تھیں، اس وقت انہوں نے جاز گروپ 'جیف بکلے‘ کے گیت 'ہا لے لویا‘ کا ریکارڈ پیش کر کے امریکہ کے ساتھ ساتھ پاکستان، خاص طور پر لاہور میں بھی دھوم مچا دی تھی۔ ان کا گیت Napster, MySpace اور Limewire جیسی سائٹس پر وائرل ہو گیا تھا۔ اس کامیابی نے عروج کی اس حد تک ہمت افزائی کی کہ انہوں نے بوسٹن کے مشہور زمانہ برکلے کالج آف میوزک میں قرض کی درخواست بھیجی جو فوراً منظور ہو گئی۔

موسیقی کی دنیا میں نئے راستے

بوسٹن کے برکلے کالج آف میوزک کی طرف سے عروج آفتاب کو ملنے والی مالی معاونت نے ان کی زندگی میں موسیقی کو آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بنا دیا۔ اب وہ گلوکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ امریکہ میں مقیم ایک معروف پاکستانی نژاد موسیقی ساز اور پروڈیوسر بن چکی ہیں۔

امریکا: پاکستانیوں کا استحصال اپنے ہی ہم وطنوں کے ہاتھوں

Arooj Aftab  New York
عروج آفتاب 15 سالوں سے نیو یارک میں رہتی ہیںتصویر: Blythe Thomas/Universal Music Group

وہ اپنی منفرد صلاحیتوں اور انداز کے ساتھ پہلے سے موجود گیتوں کو مکمل نئے اور محتلف عناصر کے امتزاج کے ساتھ انہیں بالکل نیا بنا کر پیش کرنے میں مہارت رکھتی ہیں۔ تاہم وہ کہتی ہیں، ''میرے لیے سخت جھنجھلاہٹ اور ناگوار لمحات وہ ہوتے ہیں، جب کوئی میری موسیقی کو Cover کہتا ہے۔ کیونکہ ایسا نہیں ہے۔ جب آپ کسی پرانے اور زبان زد عام گیت کی جڑ پکڑ کر اسے بالکل نئے انداز میں پیش کرتے ہیں، تو وہ دراصل بالکل اصلی تخلیق ہوتی ہے۔‘‘ اس لیے وہ اپنی موسیقی کو محض پرانی موسیقی کا نیا 'ورژن‘ قرار نہیں دیتیں۔

شرمین عبید کی ایک اور کامیابی

عروج آفتاب کی موسیقی میں اس کے بین الاقوامی معیار کی وجہ سے جگہ یا مقام کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ان کی موسیقی نہ تو خالص پاکستانی اور نہ ہی مغربی لگتی ہے۔ اسے سننے والا خود بخود مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ ایک نئی جگہ کا تصور کرے جس میں 'شمولیت‘ کا عنصر بھی واضح طور پر پایا جائے۔ عروج کہتی ہیں، ''نئی نسل بے باک ہے، نئی چیزوں کی طلبگار ہے، یہ برابری کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ مخصوص یا مقررہ زمروں میں محدود ہو کر نہیں رہنا چاہتی۔‘‘ عروج کا مزید کہنا تھا، ''برسوں تک، ایشیائی فنکاروں کو ایک کونے میں دھکیل کر رکھا گیا۔ لیکن اب نئی جگہ ابھرتی ہوئی سامنے آ رہی ہے، جو دنیا میں پائی جانے والی مزید خوبصورت چیزوں کو آشکار کر رہی ہے، جو شاید ہمیشہ سے موجود تھیں لیکن اس کے بارے میں کوئی جانتا نہ تھا۔‘‘

 

Arooj Aftab  New York  USA
عروج آفتاب کے تیسرے البم ’گدھ پرنس‘ بہت مقبول ہواتصویر: Blythe Thomas/Universal Music Group

اردو 'خوبصورت‘ ہے


عروج آفتاب کے تیسرے البم 'گدھ پرنس‘ میں پاکستان کے معروف غزل گائیک مہدی حسن کے مشہور گیت 'محبت‘ کو بے مثال تحسین ملی اور یہ عروج آفتاب کے لیے مالی طور پر سب سے زیادہ کامیاب گیت ثابت ہوا۔

شاعرانہ طور پر یہ گیت 'محبت‘ عشق و محبت کی آزمائشوں اور مصائب سے متعلق ہے۔ عروج کی اس گانے کی تشریح نے انہیں 2022 ء کا گریمی ایوارڈ برائے بہترین عالمی میوزک پرفارمنس جتوایا۔ یہ گیت سابق امریکی صدر باراک اوباما کی 2021ء کی سمر پلے لسٹ میں بھی شامل تھا۔ اب عروج اور 'محبت‘  مین اسٹریم کا لازمی جز بن چکے ہیں۔

ایک موسیقار اور پروڈیوسر کی حیثیت سے عروج آفتاب موسیقی کی پیچیدگیوں کو سمجھتی ہیں اور 'ایک پیچیدہ جال کی مانند آوازوں اور آلات کے امتزاج‘ کو اپنی گہری  سوچ سے جلا بخشتی ہیں۔

ک م / م م (ایم باری)

 

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

پاکستانی فوج سیاست سے دور ہی رہے گی، جنرل باجوہ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں