کیا پومپیو کا دورہ عمران خان کی مشکلات میں اضافہ کرے گا؟ | حالات حاضرہ | DW | 04.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کیا پومپیو کا دورہ عمران خان کی مشکلات میں اضافہ کرے گا؟

امریکی وزیرِ خارجہ کا ممکنہ دورہ پاکستان وزیراعظم عمران خان کے لئے ایک امتحان سے کم نہیں ہو گا۔ امریکی دباؤ منظور کیا گیا تو ان کے سیاسی نقصان کا خدشہ ہے اور اگر واشنگٹن سے تعاون نہ کیا تو ملک کو معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔

واضح رہے پاکستان میں حال ہی میں اقتدار میں آنے والی تحریکِ انصاف کے سربراہ اور وزیراعظم عمران خان ماضی میں امریکی پالیسیوں کے سخت ناقد رہے ہیں۔ عمران خان نے ڈرون حملوں کے خلاف پاکستان میں بھرپور مہم چلائی اور افغانستان میں طاقت کے بجائے ،سیاسی حل کی بھی بات کی۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب پاکستان میں حال ہی میں دائیں بازو کی ایک مذہبی تنظیم نے ہالینڈکے ایک سیاست دان کے خلاف ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا تھا۔ انتہائی دائیں بازو کے نظریات کے حامی گیرٹ ویلڈر نامی اس سیاست دان نے حال ہی میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کا ایک مقابلہ منعقدکرنے کا اعلان کیا تھا، جس سے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں مغرب مخالف جذبات شدید ہو گئے تھے۔ اس مظاہرے کے موقع پر کچھ شرکاء نے عالمی طاقت امریکا کے خلاف بھی غصے کا اظہار کیا تھا۔
اس وقت نہ صرف ملک میں امریکا مخالف ماحول ہے بلکہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے درمیان کچھ عرصے سے تلخی بھی چل رہی ہے۔ امریکا نے پومیپو کی آمد سے صرف دو روز قبل ہی پاکستان کی تین سو ملین ڈالرز کی فوجی امداد بند کر دی ہے۔ پاکستان کا اصرار ہے کہ یہ وہ پیسے ہیں، جو پاکستان نے دہشت گردی کے جنگ میں خرچ کئے اور یہ کہ یہ کوئی امداد نہیں۔ اس سے پہلے پاکستان اور امریکا کے درمیان پومپیو اور وزیرِ اعظم عمران خان کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے بھی تنازعہ پیدا ہوگیا تھا۔ امریکا کا موقف تھا کہ وزیرِ خارجہ نے پاکستان سے ملک کے اندر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے حوالے سے بات چیت کی تھی، جب کہ پاکستان نے اس بات کو حقائق کے برعکس قرار دیا تھا۔
ماہرین کے خیال میں پاکستان اور امریکا کے درمیان اس وقت سرد کشیدگی کی وجہ افغانستان ہے۔ امریکا کا الزام ہے کہ اسلام آباد حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کی حمایت کرتا ہے۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں افغان طالبان کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور وہ وہاں بیٹھ کر افغانستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور طالبان زخمیوں کا علاج بھی پاکستانی ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔

Pakistan Imran Khan (picture-alliance/AP Photo/B.K. Bangash)

وزیراعظم عمران خان ماضی میں امریکی پالیسیوں کے سخت ناقد رہے ہیں

دوسری جانب اسلام آباد کا موقف یہ ہے کہ امریکا پاکستان کو بھارتی عینک سے دیکھتا ہے اور وہ افغانستان اور خطے میں نئی دہلی کو ایک اہم کردار دینا چاہتا ہے۔ اسلام آباد کا موقف ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے اور یہ کہ افغانستان کے جاسوس ادارے بھی بھارت سے قربت رکھتے ہیں اور پاکستا ن کے خلاف کام کرتے ہیں۔
مغرب نواز سیاسی مبصرین کے خیال میں ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ یا تو اسلام آباد افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے اور یا پھر وہ ان کے خلاف کارروائی کرے لیکن پاکستان ایسا کرنا نہیں چاہتا۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے تجزیہ نگاروں کے خیال میں پاکستان نے مئی دو ہزار پندرہ میں افغان طالبان، کابل اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوشش کی تھی لیکن پہلے افغان جاسوسی ادارے نے ملا عمر کی ہلاکت کی خبر افشاں کر کے اور بعد میں ملا اختر منصور کو ہلاک کروا کے ان کوششوں کو بے کار کر دیا۔ اسلام آباد میں کئی ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ اب روس، ایران اور خطے کے دوسرے ممالک بھی طالبان سے رابطوں میں ہیں اور طالبان پر پاکستان کا وہ اثر ورسوخ نہیں ہے، جو کسی دور  میں ہوتا تھا۔

’یہ امداد نہیں ہے‘، امریکی امداد کی بندش پر پاکستان کا ردعمل

پاکستان نواز ماہرین امریکا کی دوغلی پالیسی کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں، جس کے مطابق ایک طرف امریکا پاکستان سے طالبان کے خلاف اقدامات کرنے کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف دوحہ میں ان کا دفتر کھلوانے میں بھی مدد کرتا ہے۔ ان ماہرین کے خیال میں واشنگٹن کو یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ وہ افغانستان میں درحقیقت کرنا کیا چاہتا ہے؟
مائیک پومپیو کوئی پہلے امریکی وزیرِ خارجہ نہیں ہیں جو افغانستان کے مسئلے پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے کئی سینیئر امریکی عہدیدار پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں لیکن وہ اسلام آباد کی پالیسی بدلنے میں ناکام رہے۔ پرویز مشرف کے دور میں واشنگٹن اسلام آباد کو دوہری پالیسی اختیارکرنے کا طعنہ دیتا رہا اور اسلام آباد امریکا کے ڈو مور والے مطالبے سے نالاں نظر آیا۔ دونوں ممالک کے درمیان اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور سلالہ چیک پوسٹ پر حملوں کے بعد تعلقات میں مزید تلخی آئی۔ حالیہ ہفتوں میں امریکا کی طرف سے پاکستانی امداد میں کٹوتی اور اسلام آباد کو امداد نہ دینے کے لئے عالمی مالیاتی اداروں پر دباؤ سے ان تعلقات میں تاریخی تلخی آ گئی ہے۔
کئی سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پومپیو کے دورے کی وجہ سے عمران خان کا سخت امتحان شروع ہو گیا ہے۔ اگر عوام میں یہ تاثر گیا کہ وزیرِ اعظم امریکی دباؤ کے آگے جھک گئے ہیں، تو اس سے ان کی سیاسی ساکھ متاثر ہوگی لیکن اگر انہوں نے سخت پالیسی اپنائی اور واشنگٹن کی مدد کرنے سے انکا ر کیا تو معاشی بد حالی سے دوچار پاکستان کے لئے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

 پاکستان کے وزیرِ خزانہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ملک کو فوری طور پر بارہ بلین ڈالرز کی ضرورت ہے، جو نہ چین دینے کی طاقت رکھتا ہے اور نہ سعودی عرب دینا چاہتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسلام آباد کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ لیکن خارجہ امور کے ماہر اور معاشی دنیا کے پنڈتوں کے خیال میں عالمی مالیاتی ادارہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کر سکتا، جس سے امریکا ناراض ہو کیونکہ وہ آئی ایم ایف کے فنڈ میں سب سے زیادہ پیسے دینے والا ملک ہے۔

 

DW.COM