کیا پاکستان شدید آبی قلت کا شکار ہونے جارہا ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 06.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا پاکستان شدید آبی قلت کا شکار ہونے جارہا ہے؟

پاکستان میں ان دنوں بارشوں کا دور دورہ ہے لیکن آبی ماہرین اس بات کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر ملک میں ہنگامی بنیادوں پر آبی ذخائر نہ بنائے گئے تو آنے والے عشروں میں ملک پانی کی شدید قلت کا شکار ہوسکتا ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والے ایک سیمینار میں مقررین نے کہا کہ سرکار کو مسئلے کی سنگینی کا ادراک ہی نہیں ہے اور ثبوت کے طور پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں کوئی آبی پالیسی ہی موجود نہیں ہے۔
سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک نے اس موقع پر کہا، ’’پاکستان میں کوئی آبی پالیسی نہیں ہے اور پالیسی بنانے والوں کا رویہ غیرحاضر زمینداروں کی طرح ہے۔اس رویے کی وجہ سے پانی پر جاگیرداروں کی اجارہ داری ہوگئی ہے اور غریب اپنے حصے سے محروم ہے۔ لہذا پانی کا مسئلہ پاکستان میں نوعیت کے لحاظ سے سیاسی ہے۔‘‘

Wasser in der Landwirtschaft IWMI International Water Management Institute (Jean-Phillipe Venot)

پلاننگ کمیشن کے ایک اہلکار کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباﹰ پچاسی آبی پراجیکٹس چل رہے ہیں جس میں بھاشا اور منڈا سمیت کئی چھوٹے بڑے ڈیم شامل ہیں


بہاولپور میں آبی امور پر کام کرنے والے عرفان چوہدری سابق چیئرمین واپڈا کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پانی کا مسئلہ سیاسی بن گیا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ پاکستان میں پانی کے مسئلے پر سیاست کی جارہی ہے، جس کی وجہ سے نئے آبی ذخائر نہیں بنائے جا سکتے۔ گزشتوں چار عشروں میں کسی بڑے آبی ذخیرے کا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں ہے جہاں بارش کا پیٹرن یکساں نہیں ہے۔ بہت کم وقت میں بہت زیادہ بارش ہوتی ہے۔ آبی ذخائر مناسب تعداد میں نہ ہونے کہ وجہ سے ہم اضافی پانی کو استعمال نہیں کرپاتے، جس کی وجہ سے بیس ملین ایکٹر فیٹ سے زائد پانی سمندر کی نذر ہوجاتا ہے۔ اگر ہم نے اتفاق رائے سے نئے ذخائر نہیں بنائے تو آنے والے عشروں میں ملک پانی کی شدید قلت کا سامنا کرے گا کیونکہ ہمارے پاس صرف تیس دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے، جو بڑھتی ہوئی آبادی کے لحاظ سے بہت ہی نا کافی ہے۔ اگر یہی صورت حال رہی تو ملک کو شدید آبی قلت کا سامنا کرنا پرے گا، جس کی وجہ سے سیاسی کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے اور صوبوں کے درمیان مذید تلخیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔‘‘

ڈائریکٹر واٹر مینیجمنٹ ریسورس سینٹر، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، حامد شاہ نے اس مسئلے کے حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہمارانظامِ آبپاشی نو آبادتی دور کا ہے، جو بنیادی طور پر سال میں ایک فصل اگانے کے لیے تھا لیکن ہم نے تین تین اگانی شروع کر دیں۔جس سے پانی کا استعمال بڑھا۔ ٹیوب ویلز کے استعمال نے اس کو مزید پیچدہ بنایا۔ ملک میں زیرِ زمین پانی کی سطح نیچے ہوتی جارہی ہے۔ انیس سو اکیاون میں فی کس پانی پانچ ہزار دوسو کیوبک میٹر تھا جو اب صرف آٹھ سو کیوبک میٹر رہ گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے اب کہیں جا کر واٹر پالیسی ڈرافٹ کی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی توجہ میٹرو، اورنج بسوں اور سٹرکوں پر ہے۔ پانی جیسے اہم مسئلے کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔ جس سے نہ صرف زراعت کو نقصان ہوگا بلکہ ملکی صنعت کو بھی دھچکا لگے گا۔‘‘

Überschwemmungen in Pakistan ARCHIVBILD 2011 (dapd)

آبی ذخائر مناسب تعداد میں نہ ہونے کہ وجہ سے بیس ملین ایکٹر فٹ سے زائد پانی سمندر کی نذر ہوجاتا ہے


وفاقی حکومت کے پلاننگ کمیشن کے ایک عہدیدار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس بات کا اعتراف کیا کہ واقعی ملک میں پانی کے حوالے سے کوئی پالیسی نہیں ہے۔ اس عہدیدار نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’گزشتہ گیارہ برسوں میں حکومتیں یہ ہی نہیں طے کر پائیں کہ آیا آبی پالیسی پلاننگ کمیشن کو بنانی ہے یا پھر وزارتِ پانی و بجلی کو۔ موجودہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ وزارتِ پانی و بجلی اس پالیسی کو بنائے گی۔ وزارت نے مجوزہ پالیسی کا ڈرافٹ تیار کر لیا ہے۔ جو مشترکہ مفادات کی کونسل کے پاس ہے۔ اب دیکھیے کہ اس کو حتمی شکل کب دی جاتی ہے۔ گو وزرات نے اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن کئی اداروں اور افراد نے یہ شکایات کی ہے کہ ان کے رائے نہیں لی گئی۔ یہاں تک کہ وہ ڈرافٹ پلاننگ کمیشن کو بھی نہیں دکھایا گیا، جو خود بھی ایک اسٹیک ہولڈر ہے۔ بغیر پالیسی کے تقریباﹰ پچاسی آبی پراجیکٹس چل رہے ہیں جس میں بھاشا اور منڈا سمیت کئی چھوٹے بڑے ڈیم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نہروں کے توسیعی منصوبے بھی ہیں۔ کھارے پانی کو سمندر تک پہنچانے کے لیے دونہریں سندھ میں اور ایک بلوچستان میں بنائی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ نوشہرہ میں تیہور نہر کو توسیعی دی جارہی ہے، جس سے تین ہزار ایکڑ زمین زیرِ کاشت آئے گی جب کہ بلوچستان میں بھی کچھی کینال بنائی جارہی ہے جو دو ہزار سترہ میں مکمل ہوجائے گی لیکن ایک جامع آبی پالیسی کے بغیر یہ سارے منصونے غیر مربوط اور بے ہنگم ہیں۔ مشترکہ مفادات کونسل کے سال میں بمشکل ایک یا دو اجلاس ہوتے ہیں ۔ لہذا ابھی تو دور دور تک حتمی واٹر پالیسی نظر نہیں آرہی۔ انتخابات کی وجہ سے بھی اس میں مزید تاخیر ہوگی۔‘‘

 

اشتہار