کیا پاکستان ایران مخالف اتحاد کا حصہ بنے گا؟ | حالات حاضرہ | DW | 01.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا پاکستان ایران مخالف اتحاد کا حصہ بنے گا؟

ایران میں مظاہروں کے ساتھ ہی چند پاکستانی حلقوں میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ سعودی عرب اور امریکا تہران کے خلاف کچھ کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں قدامت پسند سعودی بادشاہت بھی چاہتی ہے کہ اسلام آباد ریاض کا ساتھ دے۔

پاکستان میں ممکنہ طور پر ایک نیا ’قومی مصالحتی آرڈیننس‘ یا این آر او لائے جانے کی افواہیں بھی گردش میں ہیں اور شریف برادران کی سعودی عرب میں موجودگی پر بھی کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں اس دورے کا ایک مقصد پاکستان کو ایران مخالف اتحاد کا حصہ بننے کا قائل کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل قمر باجوہ نے ایران کا دورہ کر کے سعودی عرب کو خفا کیا ہے۔ اسی لیے اب ریاض حکومت سیاسی قیادت کے ذریعے ایران مخالف اتحاد بنانے کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔

چاہ بہار اور گوادر: بھارت اور ایران بمقابلہ چین اور پاکستان؟

ایرانی بندرگاہ چابہار میں توسیع، گوادر پورٹ کے لیے نیا چیلنج

احسن رضا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اس بات کی پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ شہباز شریف مستقبل کے وزیر اعظم ہیں۔ لیکن انہیں حکومت کرنے کے لیے پیسہ چاہیے اور اس کے آثار کہیں بھی نظر نہیں آ رہے۔ آئندہ چند ماہ میں پاکستان کو چھ ارب ڈالر تک کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس صورت میں سعودی عرب پاکستان کی مالی مدد کر تو سکتا ہے لیکن اس کے عوض وہ یقیناً کچھ یقین دہانیاں بھی چاہے گا۔ ایران میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ وہاں تشدد کی لہر دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ آٹھ دس ماہ میں وہاں حالات مزید کشیدہ ہو جائیں۔ ایسی صورت میں سعودی عرب وہاں براہ راست یا بالواسطہ مداخلت کر سکتا ہے۔ ریاض ممکنہ طور پر پاکستان سے کہہ سکتا ہے کہ وہ جیش العدل جیسے گروپوں کے لیے مسائل کھڑے نہ کرے اور ان کی کارروائیوں کو نظر انداز کریں۔ لیکن ایسے گروپ ایران کے لیے درد سر بن سکتے ہیں۔‘‘

Saudi Arabien Nawaz Sharif in Riad

نواز شریف ایک بار پھر سعودی عرب میں

کئی دوسرے تجزیہ نگاروں کو بھی خطے میں ایران مخالف ماحول زیادہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ پریسٹن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر امان میمن کہتے ہیں کہ نہ صرف امریکا اور سعودی عرب ہی ایران کے خلاف کارروائیاں کرنا چاہتے ہیں بلکہ اسرائیل بھی ایسی کارروائیوں کا حصہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اسرائیل اور سعودی عرب ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے پریشان ہیں۔ وہ وہاں کوئی کارروائی کر سکتے ہیں۔ لیکن پاکستان کو ایسی صورت میں بالکل غیر جانبدار رہنا چاہیے ورنہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔‘‘

پاک سعودی مشترکہ فوجی مشقیں، ہدف کون ہے؟

جنرل باجوہ کا دورہ، پاک ایران تعلقات خوشگوار ہو سکتے ہیں

ڈاکٹر امان میمن کا کہنا تھا کہ سعودی عرب جانتا ہے کہ پاکستان کو مالی مدد کی سخت ضرورت ہے، ’’اس مالی مجبوری کی وجہ سے ریاض پاکستان کو بلیک میل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اسلام آباد کو کسی بھی چھوٹے موٹے مفاد کے لیے ایران کے خلاف نہیں جانا چاہیے۔ ایران میں مسائل کھڑے کرنا سعودی عرب، اسرائیل اور امریکا کے لیے آسان نہیں ہو گا۔ یہ بات درست ہے کہ ایران میں اس وقت اندرونی اختلافات ہیں لیکن کسی بھی غیر ملکی مداخلت کی صورت میں ایرانی عوام متحد ہو جائیں گے اور سعودی عرب اپنے ممکنہ مقاصد حاصل نہیں کر پائے گا۔‘‘

Iran Protest in Teheran

گزشتہ چند روز سے ایران میں جاری مظاہروں میں اب تک کم از کم دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں

دفاعی تجزیہ نگار میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان کی رائے بھی یہی ہے کہ کسی بھی صورت میں پاکستان کو ایران کے خلاف نہیں جانا چاہیے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہم ماضی میں دوسروں کی جنگ میں کودے اور افغانستان کے خلاف گئے، جس کی وجہ سے ہمیں ایک سو بیس بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ ساٹھ ہزار پاکستانیوں کی جانیں گئیں اور اس کے باوجود ہمیں آج بھی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اگر ہمیں سعودی عرب سے مالی امداد نہیں ملتی تو نہ ملے۔ ہم اب کسی اور کی جنگ میں کود کر اپنے ملک کو برباد نہیں کریں گے۔ اگر امریکا اور سعودی عرب ایران کے خلاف کوئی محاذ کھولتے ہیں، تو پاکستان اس کی حمایت نہیں کرے گا۔‘‘

ایران پاکستان پائپ لائن اب بھی تکمیل کے قریب نہیں

خواجہ آصف کا دورہء ایران،کیا بڑھتے ہوئے تعاون کا عکاس ہے؟

اسلام آباد میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما راجہ ظفرالحق نے اس بارے میں کہا، ’’ہم ایران عراق جنگ کے دوران غیر جانبدار تھے اور ہم اب بھی غیر جانبدار ہیں۔ پاکستان ایران کے خلاف کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا۔ اگر ایران اور سعودی عرب کے درمیان کوئی کشیدگی ہوتی ہے تو ہمیں اس کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ ہمیں اس کا کوئی حصہ تو بالکل نہیں بننا چاہیے۔‘‘

DW.COM

اشتہار