کیا بھارت اور پاکستان کے بیچ نفرت ختم نہیں ہو سکتی؟ | دستک | DW | 15.08.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

کیا بھارت اور پاکستان کے بیچ نفرت ختم نہیں ہو سکتی؟

جب سے میں نے ہوش سنبھالا، میں نے دیکھا کہ اگست کا ماہ شروع ہوتے ہیں، میری دادی جیسے کہیں کھو جاتی تھی۔ سونے سے قبل جب ہم بچے کہانی کی فرمائش کرتے تو وہ پریوں کے بجائے ہمیں پاکستانی شہر راولپنڈی کی کہانی سناتی تھی۔

اس کہانی کو سناتے ہوئے ان کی آنکھوں میں ایک چمک سی آجاتی تھی۔ ہمیں بھی راولپنڈی، اس کے بازار صدر اور چاندنی چوک پریوں کے ہی دیس کی جگہیں لگتی تھیں۔ 75سال قبل بھارت اور پاکستان آزاد تو ہوئے، مگر اپنے پیچھے ان گنت ایسی کہانیاں چھوڑگئے، کہ انسانیت شرما جائے۔

میری دادی اور نانی کا لٹا پٹا خاندان بھی مشکل سے اپنی جا ن بچا کر دہلی پہنچا، جہاں سے میرے دادا نے نہ معلوم کیوں شمال مشرقی صوبہ جھارکھنڈ (جو اُن دنوں بہار کا ہی حصہ تھا) کے شہر رانچی میں سکونت اختیار کی۔
ہاں دادی کہہ رہی تھی، ”مسلمانوں کا روزوں کا مہینہ شروع ہو چکا تھا۔ ملی جلی بستی تھی۔ روزے غیر مسلم تو نہیں رکھتے تھے، مگر عید کا انتظار سبھی کو ہوتا تھا۔ چھٹی کا دن تو ہوتا ہی تھا، تاجروں کے لیے پورے سال بھر کی کمائی کا بھی دن ہوتا تھا۔ دلوں میں گانٹھیں پڑ چکی تھیں۔ بٹوارے کا اعلان ہو چکا تھا۔ سکھ اور مسلمان لوہڑی اور عید ایک قومی دن کے بطور مناتے تھے۔ ہم ضد کرکے نئے کپڑے سلواتے اور صبح ہی ہمارے مسلمان پڑوسی کے گھر جاکر عیدی وصول کرتے تھے۔ بہت مرادوں کے بعد بچوں کے لیے عید آتی تھی۔ چاند کا جتنا انتظار ہمیں ہوتا، شاید ہی کسی کو ہوتا ہو۔ مگر اس اگست 1947 کو عید سے قبل ہی فسادات برپا ہوگئے۔"

روہنی سنگھ، نئی دہلی

مصنفہ: روہنی سنگھ، نئی دہلی

سال در سال یہ کہانیاں میرے ذہن پر دستک دیتی تھیں۔ کیسے ایک نسل ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے؟ یہ سمجھ سے باہر تھا۔ سن 1984میں جب وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دہلی اور دیگر شہروں میں سکھوں کا قتل عام کیا گیا، تو پتہ چلا کہ ایک انسان کی کھال کے نیچے ایک وحشی درندہ بھی بستا ہے۔ کل تک کے پڑوسی اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شامل ہونے والے خون بہانے کی حد تک درندے بن جاتے ہیں۔ بس یہی انسانی خون کا پیاسا وحشی درندہ سن 1974 کے اگست میں بھی تانڈو کر رہا تھا۔

یہ سچ ہے کہ برسوں تک مسلمانوں اور پاکستان کے متعلق میرے خیالات کچھ اچھے نہیں تھے۔ کئی مسلمانوں کے ساتھ علیک سلیک تو تھی، مگر دادی کی کہانیاں یاد کرکے میں ان کے مزید تعلقات استوار کرنے سے کتراتی تھی۔

سن 2015 میں کچھ ایسا ہوا کہ مجھے پہلی بار پاکستان جانے کا موقع ملا۔ تب تک یہ ملک میرے خاندان کی بربادی کا ایک علامت تھا۔ مگر اس دورے کے دوران میری کایا پلٹ گئی۔ جو کچھ میرے خاندان نے سہا تھا، معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو بھی کچھ اسی طرح بسا اوقات اس سے بھی زیادہ خون کے دریا کو پار کرکے پاکستان ہجرت کرنی پڑی۔ گھر پر سنی ان کہانیوں کے علاوہ، پاکستان کے بارے میں جو سیاسی پروپیگنڈا بھارت میں یہاں تعمیر کیا گیا ہے، وہ پاکستان کو ایک نارمل ملک کے بجائے  دشمن اور عفریت کی طرح پیش کرتا ہے۔ میرے کئی رشتہ داروں کو یقین نہیں تھا کہ میں واپس بھی آپاؤں گی۔ وہ شاید میری آخری رسوم کی تیاریاں کر رہے تھے۔

میں تقریباﹰ دس دن پاکستان میں لاہور، اسلام آباد، ننکانہ صاحب، پنچہ صاحب، حسن ابدال اور راولپنڈی کے شہروں میں گھومتی رہی۔ ٹیکسلا کے کھنڈرات کو دیکھ کر اپنی تہذیب و وراثت کو یاد کیا۔ میں نے راولپنڈی کے گلی کوچوں کو چھان مار کر وہ گھر ڈھونڈ ہی لیا، جہا ں سے میرے دادا، دادی کا خاندان صدیوں سے آباد تھا اور جہاں سے وہ ہجرت کرکے بھارت چلے گئے تھے۔ میں نے اپنی نانی کے قصبہ  لالہ موسیٰ  کی ہواؤں میں سانس لے کر اس کو محسوس کرکے اس کی مٹی کو چھوا۔ اگر پنجاب کا بٹوارہ نہیں ہوا ہوتا تو یہ میرا وطن ہوتا۔
پاکستانی عوام کی مہمان نوازی نے تو مجھے محو حیرت میں ڈال دیا۔ لگتا ہے کہ مہمان نوازی ان کے خون میں رچی بسی ہے۔جب ایک رکشہ ڈرائیور کو معلوم ہوا کہ میں بھارت سے آئی ہوں، تو اس نے کرایہ لینے سے منع کردیا۔ اس کا خاندان جالندھر سے ہجرت کرکے پاکستان وارد ہوا تھا۔ پورا دن ہمیں گھمانے کے بعد اتنے اصرار کے باوجود کرایہ نہ لینے کے عمل نے مجھے آبدیدہ کردیا۔ اس دورہ سے معلوم ہو اکہ میری دادی کی کہانیاں پاکستان میں بھی بکھری پڑی ہیں۔ جس طرح تقسیم کی کہانیاں سکھوں اور ہندو مہاجروں کے گھروں میں بیان کی جاتی ہیں، اسی طرح پاکستان میں بھی مہاجرین کے پاس ایسی کہانیوں کا انبار ہے۔ پاکستان میں بھی ایسے خاندان ملے، جنہوں نے مغربی پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور دیگر علاقوں میں وسیع و عریض زمین و جائیدادیں چھوڑ کر فقیروں کی طرح ہجرت کی۔
یہ عجیب بات ہے کہ 75 سال بعد بھی دونوں ممالک عداوت و کدورت کو بھلا نہیں پا رہے ہیں۔ ایک ہی کلچر اور ایک ہی زبان و ثقافت کے حامل یہ ملک کیوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں؟ افسوس ہے کہ تعصب، نفرت کی سرحدیں دن بدن مضبوط ہوتی جا رہی ہیں۔ عوام کے درمیان فاصلے بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔

میں نے ایک اور اہم مشاہدہ کیا کہ بھارتیوں کے برعکس پاکستانی ہم سے نفرت کا اظہار نہیں کرتا ہے۔ اس نے 1947ء کے واقعات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کئی دوستوں کو یہ یقین دلانا مشکل ہوتا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے۔ اگر بھارت میں آپ، کسی پاکستانی شخص کو دہلی کے کسی بازار میں شاپنگ کرتے یا کسی ریستوران میں کھانے سے لطف اندوز ہوتا دیکھ لیں، تو ردعمل یہ ہوگا کہ یہ شخص ایجنٹ یا جاسوس ہوسکتا ہے۔ مگر جناح مارکیٹ یا لاہور کے لبرٹی میں جس بھی دکاندار کو پتہ چلا کہ میں بھارتی ہوں، تووہ قیمت لینے سے انکار کرتا تھا کہ اپنے پاس سے کوئی تحفہ عنایت کرتا تھا۔

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے پاکستان کے حوالے سے اسی لیے کہا تھا کہ آپ دوستوں کا انتخاب کرسکتے ہیں، مگر پڑوسیوں کا نہیں۔ ان کے ساتھ گزارا کرنا ہی ہے۔ وہ ہی آپ کے دکھ درد کا ساتھی بن سکتے ہیں۔ جس بس میں 1999ء میں واجپائی نے لاہور کا دور ہ کیا تھا، یہ بھی ایک اتفاق تھا کہ جب میں نے اسی بس میں لاہور کا سفر کیا تو بس میں سکیورٹی کا عملہ وہی تھا جس نے واجپائی کے ساتھ سفر کیا تھا۔ ایک سچے محب وطن  بھارتی کی حیثیت سے، میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ اگر ہم بحیثیت قوم اپنی سرحدوں پر امن چاہتے ہیں، تو سرحدیں کھلی ہونی چاہئیں اور ہر عام شخص کے لیے سرحد پار سفر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اب جب دونوں ممالک اپنی پلاٹینم سالگرہ منا رہے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ تعصب اور نفرت کی سیاست کو خیر باد کرکے مسائل پر امن طور پر سلجھا کر عوام کو ایک دوسرے سے ملنے دیں۔ مسائل کو بھی سیاسی  بنیادوں کے بجائے عوامی بنیادوں پر حل کرنے کو ترجیح دیں۔